’خمینی کے امریکی صدور سے روابط کی رپورٹ جھوٹی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Khamenei.ir
Image caption آیت اللہ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ ان دستاویزات میں ردوبدل کی گئی ہے

ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی آیت اللہ روح اللہ خمینی اور امریکی صدور کے درمیان افشا کیے گئے خفیہ روابط کی بی بی سی کی رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے۔

آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا کہ ’برطانیہ کا ہمارے ساتھ رویہ ہمیشہ سے مخالفانہ رہا ہے‘ اور یہ رپورٹ ’جعلی‘ ہے۔

٭ خمینی کی ’شیطانِ بزرگ‘ سے دوستی اور دشمنی

٭ ’امریکہ سے تعاون غلطی تھی، اب تعاون نہیں کریں گے‘

یہ رپورٹ سرد جنگ کے دور کی امریکی حکومت کی ڈیکلاسیفائڈ ہونے والے تازہ دستاویزات پر مبنی تھی۔

آیت اللہ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ ان دستاویزات میں ردوبدل کی گئی ہے۔

اصل دستاویز میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ کس طرح آیت اللہ خمینی نے کارٹر انتظامیہ کو پیرس میں جلاطنی سے ایران واپسی کے لیے تعاون پر مائل کیا تھا۔

ایران کے سنہ 1979 کے انقلاب کے حوالے سے سرکاری بیانیے کے مطابق آیت اللہ خمینی نے بہادری سے امریکہ کے خلاف مزاحمت کی اور اس کی جانب سے شاہ ایران کو اقتدار میں قائم رکھنے کے لیے ’شیطان بزرگ‘ کو شکست دی۔

تاہم ان دستاویزات سے واضح ہوتا ہے کہ خمینی نے کارٹر انتظامیہ کو جنوری 1979 میں یقین دہانی کرائی تھی کہ اسلامیہ جمہوریہ امریکیوں کے خلاف ’کوئی خاص عناد‘ نہیں رکھتے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اصل دستاویز میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ کس طرح آیت اللہ خمینی نے کارٹر انتظامیہ کو پیرس میں جلاطنی سے ایران واپسی کے لیے تعاون پر مائل کیا تھا

دستاویزات سے سنہ 1963 میں کینیڈی انتظامیہ کو بھیجا گیا ایک اور پیغام بھی افشا ہوا جس میں اس بات کی وضاحت کی گئی کہ ’وہ ایران میں امریکہ کے مفادات کے خلاف نہیں تھے۔‘

تاہم آیت اللہ خامنہ ای نے سنہ 1988 میں امریکی بحری جنگی جہاز کی جانب سے ایرانی سویلین طیارے کو متنازع طور پر گرانے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’کیا امریکہ، جس نے سویلین جہاز جس میں 300 مسافر سوار تھے گرا دیا، کسی دستاویز میں ردوبدل کرنے سے ہچکچائے گا؟‘

’یہ برطانیہ کی جانب سے مخالفانہ رویے کا ایک انداز ہے۔‘

آیت اللہ خامنہ ای نے یہ بیان آیت اللہ خمینی کی 27 برسی کے موقع پر منعقدہ تقریب کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے دیا۔

اسی دوران انھوں نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے خطے میں عزائم بالکل مختلف ہیں اور تہران علاقائی معاملات میں امریکہ اور ’شیطان‘ برطانیہ کے ساتھ کوئی تعاون نہیں کرے گا۔

اسی بارے میں