افغانستان میں خودکش حملہ، پراسیکیوٹر سمیت سات ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AP

افغانستان کے صوبے لوگر میں حکام کا کہنا ہے کہ لوگر کی اپیل کورٹ میں ہونے والے تین خودکش حملوں میں اب تک سات افراد ہلاک ہوگئے۔

اتوار کی صبح ہونے والے ان خودکش حملوں میں ایک پراسیکیوٹر بھی مارا گیا ہے۔

لوگر پولیس کے سربراہ عبدالرحیمزئی کے مطابق حملہ آوروں اور افغان سکیورٹی فورسز کے درمیاں لڑائی جاری ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ تین خودکش حملہ آوروں نے عدالت پر حملہ کی۔

حکام کے مطابق حملہ آوروں نے پہلے کورٹ پر دستی بموں سے حملہ کیا جس میں چھ شہری زخمی ہوئے۔

اس حملے میں تینوں حملہ آور بھی ہلاک ہوگئے ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اتوار کی صبح یہ حملہ مقامی وقت کے مطابق دس بجے کیا گیا۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے حملہ آوروں کو عدالت کی عمارت کی دوسری منزل پر جانے نہیں دیا اور نچلی منزل پر ہی حملہ آوروں اور سکیورٹی فورسز کے درمیاں لڑائی شروع ہوئی۔

لوگر میں حکومتی ترجمان سلیم صالح نے بی بی سی کو بتایا کہ حملہ آور خواتین کے لباس میں ملبوس تھے۔

یاد رہے کہ یہ گذشتہ چار دنوں میں افغانستان میں عدالتوں پر ہونے والا دوسرا بڑا حملہ ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گذشتہ سال صوبہ لوگر میں بم دھماکے کے نتیجے میں صوبے کے گورنر ارسلا جمال ہلاک ہوئے تھے

اس سے قبل طالبان کے چار خودکش حملہ آوروں نے صوبہ غزنی کے اپیل کورٹ پر حملہ کیا تھا۔ جس میں افغان حکام کے مطابق چار حملہ آور، ایک پولیس اہلکار اور پانچ شہری ہلاک ہوئے تھے۔

لوگر اپیل کورٹ پر حملے کی ذمہ داری افغان طالبان نے قبول کی ہے۔

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے میڈیا کو جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ اپیل کورٹ پر یہ حملہ کابل میں قید اُن کے ساتھیوں کو پھانسی دینے کا ردعمل ہے۔

افغان طالبان نے لوگر اپیل کورٹ میں مارے جانے والے کورٹ کے پراسیکیوٹر اکرم نجات کی تصویر بھی جاری کی ہے۔

اسی بارے میں