اخلاق کے گھر والوں پر’گئو‘ کشی کا مقدمہ کیا جائے

تصویر کے کاپی رائٹ OTHERS
Image caption یہ میٹنگ مندر کے احاطے میں کی گئی

ریاست اتر پردیش میں دادری کے بساڑہ گاؤں میں پیر کو ایک میٹنگ میں دیہاتیوں نے حکومت سے محمد اخلاق کے اہل خانہ کے خلاف 20 دن کے اندر اندرگئو کشی کا مقدمہ درج کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

گاؤں والوں نے کہا کہ متھرا کی لیبارٹری کی رپورٹ کی بنیاد پر محمد اخلاق کے اہل خانہ کے خلاف گئوکشی کا مقدمہ درج کیا جائے۔

گزشتہ سال گائے کا گوشت رکھنے کے شبہ میں ایک مشتعل ہجوم نے بساڑہ گاؤں میں محمد اخلاق کے گھر حملہ کر دیا تھا حملے میں محمد اخلاق کی موت ہو گئی تھی جبکہ ان کا چھوٹا بیٹا شدید زخمی ہو گیا تھا.۔

گزشتہ دنوں سامنے آنے والی لیبارٹری کی رپورٹ کے بعد دیہاتیوں نے مبینہ طور پر 100 سے زیادہ گاؤں کی ’مہا پنچایت‘ بلائی تھی، حالانکہ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کوئی مہا پنچایت نہیں ہوئی، بلکہ صرف میٹنگ بلائی گئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حملے میں اخلاق ہلاک اور انکا ایک بیٹا شدید زخمی ہوا تھا

اس میٹنگ میں بنیادی طور پر محمد اخلاق کے قتل کے سلسلے میں گرفتار کیے گئے لوگوں کے اہل خانہ کے علاوہ کچھ مقامی لوگ بھی تھے۔

واقعہ کے سلسلے میں ایک مقامی رہنما کے بیٹے سمیت کل 18 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔

اس سے قبل ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اخلاق کے گھر کے فرج سے برآمد گوشت بکرے کا تھا جبکہ حال ہی میں ملزمان کے وکیل متھرا کی لیبارٹری کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ جو گوشت سڑک پر محمد اخلاق کی لاش کے پاس سے برآمد ہوا تھا وہ ’بیف‘ تھا۔

دادری کے ایس ڈی ایم راجیش کمار سنگھ نے بی بی سی کو بتایا کہ پورے علاقے میں سیکورٹی فورسز کے دستے تعینات کر دیے گئے ہیں۔انھوں نے بتایا کہ یہ اجلاس مندر کے احاطے میں کیا گیا تھا۔

اجلاس میں واضح طور پر محمد اخلاق کے گھر والوں پر مجرمانہ مقدمہ درج کرنےکے مطالبے کے ساتھ ساتھ خاندان کو دیا گیا معاوضہ واپس لینے کی مانگ بھی کی گئی۔

اسی بارے میں