بھارت میں اقلیتوں کے لیے بہت مشکل دور ہے: نسرین جعفری

تصویر کے کاپی رائٹ Nishrin Jafri Hussain facebook
Image caption نسرین کے مطابق جب گجرات جل رہا تھا تو نریندر مودی اور ان کے افسر لوگوں کو تحفظ نہیں فراہم کر سکے، تو اب ان سے وہ کیا توقع کر سکتے ہیں

انڈیا کی ریاست گجرات میں سنہ 2002 کے مسلم کش فسادات میں احمد آباد کی گلبرگ سوسائٹی میں فسادیوں کے ہاتھوں ہلاک کیے جانے والے سابق رکن پارلیمان احسان جعفری کی بیٹی نسرین جعفری کا کہنا ہے کہ بھارت میں اقلیتی برادری کے لوگ اس وقت بہت مشکل دور سے گزر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ جب گجرات جل رہا تھا تو نریندر مودی اور ان کے افسر لوگوں کو تحفظ نہیں فراہم کر سکے، تو اب ان سے وہ کیا توقع کر سکتے ہیں؟

مسلمانوں کی ایک خوشحال آبادی گلبرگ سوسائٹی میں فسادیوں کے ایک ہجوم نے 28 فروری 2002 کو حملہ کیا تھا۔ اس میں احسان جعفری سمیت 69 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مسلمانوں کی ایک پوش آبادی گلبرگ سوسائٹی میں فسادیوں کی بھیڑ نے 28 فروری 2002 کو حملہ کیا تھا۔ اس میں احسان جعفری سمیت 69 افراد ہلاک ہوئے تھے

احمد آباد کی ایک خصوصی عدالت نے اس معاملے میں دو جون کو فیصلہ سناتے ہوئے 24 لوگ کو مجرم ٹھہرایا تھا اور 36 لوگوں کو بری کر دیا ہے۔

احسان جعفری کی بیٹی نسرین نے اس فیصلے کے بعد بی بی سی کے پروگرام نيوز آور سے خاص بات چیت میں اپنے تاثرات پیش کیے۔

پیش ہے اس بات چیت کے اقتباسات

ہماری بات سنی گئی۔ کچھ تاخیر سے ہی سہی، لیکن ہمیں سنا گیا۔ 14 سال کا طویل انتظار تھا، میری ماں کے لیے اور ہم سب کے لیے۔ ہم آئندہ بھی یہ لڑائی جاری رکھیں گے۔

اس فیصلے میں چھوٹے موٹے لوگوں کو جیل بھیجا گیا ہے، لیکن جن لوگوں نے یہ قتل عام کیا تھا وہ اب بھی باہر ہیں۔ بلکہ ان کی ترقی ہوئی ہے اور انہیں بڑے عہدوں پر تعینات کیا گیا ہے۔

جس وقت واقعہ ہوا میں وہاں پر نہیں تھی لیکن میں حالات سے اچھی طرح واقف ہوں۔ میرے والد شہر کی معروف ہستی تھے۔ یہ شہر ان کے خاندان کی طرح تھا اور وہ 18 برس کی عمر سے وہاں رہ رہے تھے۔ واقعہ بھی دن دہاڑے ہوا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بلوائیوں کی بھیڑ میں شامل زیادہ تر لوگ باہر سے آئے تھے، وہ ٹرکوں میں بھر کر آئے تھے۔ ان کے پاس موبائل فون، ووٹر کارڈ اور ہتھیار تھے۔ وہ مکمل تیاری سے وہاں آئے تھے

ہجوم جمع ہو رہا تھا، انھوں نے ہر کسی کو اس کی اطلاع دی۔ ہر کسی کو معلوم تھا کہ وہ پولیس سے لے کر مرکزی اور ریاستی حکومت تک سے مدد کی فریاد کر رہے تھے۔

میں کہہ سکتی ہوں کہ جو لوگ بھی ان کے آس پاس تھے، انھوں نے میرے والد سے ہر کسی کو فون کرنے کو کہا، اس میں ریاست کے اس وقت کے وزیر اعلی نریندر مودی بھی شامل تھے۔

میرا گھر احمدآباد میں کافی محفوظ جگہ پر ہے۔ یہاں سےدو تین کلو میٹر کے فاصلے پر ہی فوجیوں کا علاقہ ہے اور 2 میل دور ہی سول ہسپتال ہے۔ وہ کسی گاؤں میں نہیں رہتے تھے۔

صبح کے 10 بجے تھے۔ بھیڑ جمع ہو رہی تھی، ہر کوئی حالات سے واقف تھا۔ بھیڑ خواتین کو کھینچ رہی تھی، خواتین کے ساتھ جنسی زیادتیاں کر رہی تھی، وہ بچوں کو مار رہے تھے، ان کو جلا رہے تھے۔

عدالت کے اس فیصلے کا سبھی کو انتظار تھا۔ بیواؤں کی پوری کالونی، یتیم بچے، وہ لوگ جنہوں نے فسادات میں اپنے بھائیوں، بہنوں کو کھویا تھا، ان سب کو اس فیصلے کا بے صبری سے انتظار تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

عدالت کے اس فیصلے پر پوری طرح مطمئن تو نہیں ہوا جا سکتا لیکن یہ کچھ اطمینان دینے والا ضرور ہے۔

سب سے زیادہ اطمینان کی بات یہ ہے کہ ملک کا ایک حصہ ہمارے ساتھ ہے۔ بہت سے لوگوں نے یہاں تک پہنچنے کے لیے بہت محنت کی ہے۔ چاہے وہ غیر سرکاری تنظیمیں ہوں، سیاسی پارٹیاں ہوں یا کسی حد تک عدلیہ بھی۔

’یہاں تک پہنچنا قطعی آسان نہیں تھا۔ یہ میرے بھائی کے لیے آسان نہیں تھا، جنہوں نے ملک چھوڑنے سے انکار کر دیا تھا۔ یہ میری ماں اور ہمارے بچوں کے لیے آسان نہیں تھا۔

میں یہاں یہ بات بتانا چاہوں گی کہ بلوائیوں کی بھیڑ میں شامل زیادہ تر لوگ باہر سے آئے تھے، وہ ٹرکوں میں بھر کر آئے تھے۔ ان کے پاس موبائل فون، ووٹر کارڈ اور ہتھیار تھے۔ وہ مکمل تیاری سے وہاں آئے تھے۔

14 سال میں گجرات میں بہت کچھ بدل گیا ہے۔ اب حالات ظاہری طور پر معمول کے مطابق لگتے ہیں لیکن لوگوں دل بٹے ہوئے ہیں۔ لوگوں کے درمیان فاصلہ بڑھ گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

رہی بات وزیر اعظم مودی کی تو مسلمان بھلا ان سے کیا توقع کر سکتے ہیں۔ جب گجرات جل رہا تھا تو نریندر مودی ہی ریاست کے وزیر اعلی تھے اور ان کے افسر لوگوں کو تحفظ نہیں مہیا کرا سکے۔

اگر وہ اس وقت لوگوں کو تحفظ نہیں دے پائے تو اب مسلمان ان سے بھلا کیا توقع کریں۔ بھارت میں اقلیتوں کے لیے یہ بہت مشکل دور ہے۔

پورے احمد آباد میں آپ کو ہندو اکثریت والے علاقوں میں ایک بھی مسلمان خاندان نہیں ملے گا۔ شہر مکمل طور ہندوں اور مسلمانوں میں منقسم ہے اور اس خلیج کو پاٹنے کی کوئی کوشش نہیں ہوئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ arko datta

یہاں تک کہ موجودہ حکومت کے ساتھ کام کرنے والے مسلمان سیاستدان بھی مسلم اکثریتی علاقوں میں ہی رہتے ہیں۔ انہیں بھی ڈر ہے۔

حالانکہ یہ پہلی بار نہیں ہوا تھا کہ میرے والد کا گھر جلایا گیا تھا۔ 1969 میں بھی ہمارا گھر جلایا گیا تھا۔

اسی جگہ سے میرے والدین اپنا سارا سامنا چھوڑ کر فرار ہوگئے تھے۔ ہم پناہ گزینوں کے کیمپ میں رہے تھے۔ میں چار برس کی عمر میں پناہ گزین کیمپ میں رہی ہوں۔

لیکن میرے والد پھر لوٹ کر اسی جگہ آئے، کیونکہ انہیں جمہوریت میں یقین تھا۔

اسی بارے میں