انڈیا میں افریقی نسلی تعصب کا شکار؟

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

دہلی کی تاریخی عمارت قطب مینار کے قریب آباد گنجان بستیوں سے آپ کا گزر ہو تو آپ کو بڑی تعداد میں سیاہ فام افریقی نظر آئیں گے، وہ اپنے وطن سے تو دور ہیں لیکن یہاں انھوں نے اپنی ہی چھوٹی سی دنیا بسا رکھی ہے۔

٭ افریقی نوجوان کا دہلی میں قتل

٭ دہلی میں افریقی نژاد شہریوں پر حملے، چار گرفتار

لیکن اب اس دنیا میں بھی وہ غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔ گذشتہ چند ہفتوں میں کئی الگ الگ واقعات میں سیاہ فام افریقی باشندوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان حملوں میں ایک افریقی نوجوان مسوندا کتادا کی جان جاچکی ہے۔

مسوندا کے قتل کی بازگشت راج پور خرد گاؤں میں صاف سنائی دیتی ہے۔ یہاں آباد افریقیوں میں خوف کا ماحول ہے، کوئی آسانی سے بات کرنے کے لیے تیار نہیں۔

اسی علاقے میں ڈیوڈ یوسفو نائی کی دکان چلاتے ہیں۔ ان سے بات کرتے ہوئے یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ کوئی متنازع بات نہیں کہنا چاہتے۔

Image caption قطب مینار کے پاس یہ حجام کی دکان چلاتے ہیں

انھوں نے کہا: ’میں تو زیادہ تر اپنی دکان میں ہی رہتا ہوں، مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب آپ باہر جائیں، بہت سے قصے سننے کو ملتے ہیں، لیکن میں نے خود کچھ نہیں دیکھا، اس لیے میں اس بارے میں زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتا۔‘

لیکن بات نسلی تعصب کی ہے، اور جلدی ہی ان کے کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوجاتا ہے۔

ان کا تعلق نائجیریا سے ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’انڈیا میں ہمارے ساتھ ہمارے رنگ کی وجہ سے امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔ لوگ بے وجہ ہمیں گالیاں دیتے ہیں، پیچھے سے پتھر مارتے ہیں، لیکن ہم کیا کرسکتے ہیں۔۔۔ بس بچ کر نکل جاتے ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’ہماری جلد کا رنگ فرق ہے، خون کا نہیں۔۔۔ہمارا خالق ایک ہے اور اس کا رنگ کسی کو نہیں معلوم۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption انڈیا نے افریقی ممالک کے سربراہ کو سکیورٹی کے متعلق یقین دہانی کرائي ہے

قریب ہی اولا جیسن کی دکان ہے۔ نسلی تعصب کا ذکر کرتے ہوئے ان کا درد ان کی آنکھوں سے چھلکنے لگتا ہے۔

’ہم دکان پر کوئی چیز خریدنے جائیں تو دکاندار ہم سے بچتے ہیں، ہمارا رنگ دیکھ کر ہی انھیں لگتا ہے کہ یہ خراب آدمی ہے۔ ایک دن ایک عورت نے میری طرف اشارہ کرکے اپنی بچی سے کہا: ’مان جاؤ ورنہ یہ تمہیں اٹھا کر لے جائے گا!‘

لیکن ہر کہانی کی طرح اس کہانی کے بھی دو پہلو ہیں، باہر کی دنیا کا موقف ذرا مختلف ہے۔

اس گاؤں میں جاٹوں کی زیادہ آبادی ہے۔ ان کا طرز زندگی بالکل مختلف ہے۔ مقامی رہنما سرینواس راٹھی نے سیاہ فام افریقیوں کے خلاف مہم شروع کر رکھی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’وہ رات میں شراب پی کر ہنگامہ کرتے ہیں، نیم برہنہ گھومتے ہیں، اور ہماری عورتیں آج بھی پردہ کرتی ہیں، ہم کیا کریں؟ ایسا نہیں ہے کہ ہمیں ان سے ان کے رنگ کی وجہ سے چڑ ہے، بس انھوں نے ماحول ہی ایسا پیدا کر رکھا ہے۔۔۔ہمارے کلچر اور ان کے کلچر میں دن رات کا فرق ہے۔‘

Image caption مقامی رہنما سرینواس راٹھی نے سیاہ فام افریقیوں کے خلاف مہم چھیڑ رکھی ہے

حکومت نسلی تعصب کے مضمرات کو سمجھتی ہے، وہ افریقی ممالک کو ناراض کرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتی، اس لیے حکومت نے نسلی تعصب کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے، سیاہ فام افریقی باشندوں کو مکمل سکیورٹی کا یقین دلایا ہے۔

وزیر خارجہ سشما سوارج کا کہنا ہے کہ یہ الگ الگ واقعات تھے اور حکومت قصوروار افراد کے خلاف سخت کارروائی کر رہی ہے۔۔۔لیکن انھیں نسلی تعصب کے تناظر میں نہیں دیکھا جاناچاہیے۔

یہ اس کہانی کا سیاسی پہلو ہے، انڈیا کی کوشش ہے کہ افریقہ میں اپنے قدم جمائے لیکن اس دوڑ میں چین اس سے آگے ہے۔ گذشتہ برس انڈیا نے 40 افریقی ممالک کے سربراہان کی میزبانی کی تھی، اور اجلاس میں وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا تھا کہ انڈیا افریقہ کے ساتھ اپنے پرانے تعلقات کو نئی جہت دینا چاہتا ہے۔

Image caption اپنے خلاف تعصبات کا ذکر کرتے ہوئے ایک افریقی باشندہ آبدیدہ ہو گيا

لیکن افریقی باشندوں پر حالیہ حملوں کے بعد ان ممالک نے سخت موقف اختیار کیا تھا جس کے بعد حکومت نے انھیں یقین دلایا کہ سیاہ فام باشندوں کی حفاظت کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے۔

سیاہ فام لوگوں کی دنیا میں کسی کو شبہہ نہیں کہ وہ نسلی تعصب کا شکار ہیں، باہر کی دنیا حالیہ واقعات کے لیے ان کے طریقہ زندگی کو ذمہ دار ٹھہراتی ہے۔ نسلی تعصب یا صرف کلچر کا ٹکراؤ، بحث ابھی جاری ہے۔

اسی بارے میں