انڈیا: جائے حادثہ پر لوگوں کی مدد سے ڈر کیوں؟

Image caption انڈیا میں سڑک کے حادثات میں ہر گھنٹے میں پندرہ افراد ہلاک ہوتے ہیں۔

اگر روڈ پر کوئی حادثہ ہو تو آس پاس کھڑے لوگ حادثے میں زخمی ہونے والوں کی مدد کرتے ہیں یا کم از کم مدد کے لیے فون تو کرتے ہیں۔ لیکن انڈیا میں صورتحال مختلف ہے۔ انڈیا کی سڑکوں کا شمار دنیا کی خطرناک سڑکوں میں ہوتا ہے اور حادثے کے شکار لوگوں کو اکثر سڑک پر ہی چھوڑ دیا جاتا ہے۔

کنہیا لال مدد کے لیے پکار رہے ہیں لیکن ان کے آس پاس سے گزرنے والے موٹر سائیکل سواروں کو کوئی پروا ہی نہیں۔ ان کی بیوی اور چھوٹی بیٹی کی نعشیں اور شدید زخمی نوجوان بیٹا زمین پر اس موٹر سائیکل کے قریب پڑی ہیں جس پر وہ چند سیکنڈ قبل تک سفر کر رہے تھے۔

اس حادثے کی سی سی ٹی وی فوٹیج انڈین میڈیا میں نشر ہوتے ہی اس خاندان پر گزرنے والے کرب کا اندازہ لوگوں کو ہوا۔ 2013 میں شمالی انڈیا میں ہونے والے اس حادثے نے انڈیا میں سڑک پر لوگوں کے رویے کے بارے میں ایک بڑی بحث کا آغاز کر دیا۔

Image caption روڈ سیفٹی کے لیے کام کرنے والے کمپینر پیوش تیوراڑی کا کزن دس برس قبل سڑک پر حادثے کا شکار ہوا

حالانکہ کچھ موٹر سائیکل سوار اور پولیس کنہیا لال اور ان کے خاندان کی مدد کے لیے آئے لیکن کافی دیر ہو چکی تھی۔ کنہیا کی بیوی اور ان کی بچی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو چکے تھے۔ انڈین میڈیا میں ایسی ہیڈلائنز لگیں کہ ’وہ دن، جب انسانیت مر گئی‘۔

روڈ سیفٹی کے لیے کام کرنے والے کمپینر پیوش تیواڑی کا کزن دس برس قبل سڑک پر حادثے کا شکار ہوا۔ وہ کہتے ہیں کہ بہت سارے لوگ انھیں خون میں لت پت دیکھ کر رکے تو سہی لیکن ان کی مدد کسی نے نہیں کی اور وہ اسی طرح سڑک پر تڑپتے ہوئے ہلاک ہو گئے۔ مسٹر تیواڑی نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ آخر لوگ کیوں ایسے کرتے ہیں؟

انھیں اپنی تحقیق سے پتہ چلا کہ وہ لوگ جو مدد کرنے کی پوزیشن میں ہوتے ہیں ، پولیس کے خوف اور بلا وجہ تنگ کرنےکی وجہ سے حادثے کے شکار لوگوں کی مدد کرنے سے کتراتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اکثر جب کوئی کسی کی مدد کرتا ہے تو پولیس یہ سمجھتی ہے کہ ایسا آپ حادثے میں خود کو قصور سمجھ کر کرتے ہیں۔

مسٹر تیواڑی نے ’سیو لائف‘ کے نام سے ایک تنظیم قائم کی اور 2013 میں ایک سروے کا انعقاد کیا جس کے مطابق 74 فیصد انڈین شہری سڑک پر حادثے کا شکار اکیلے شخص کی مدد نہیں کرتے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption جب کوئی کسی کی مدد کرتا ہے تو پولیس یہ سمجھتی ہے کہ ایسا آپ حادثے میں خود کو قصور سمجھ کر کرتے ہیں۔

مدد کے لیے آگے نہ آنے کی وجہ صرف پولیس نہیں بلکہ کورٹ، کچہری کے چکر اور ہسپتال میں حادثے کے شکار شخص کا میڈیکل بل ادا کرنے کا ڈر بھی ہے۔

تیواڑی کا کہنا ہے کہ جس ملک میں اچھی ایمرجنسی سروسز ہوں وہاں تو ایسے حادثات میں ایمبولینس اور پولیس فورا جائے حادثہ پر پہنچ جاتی ہے لیکن انڈیا میں ایمبولینسوں کا فقدان ہے، اگر ایمبولینس پہنچ بھی جائے تو اسمیں زندگی بچانے والے آلات کی کمی ہوتی ہے۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ بم دھماکوں یا بڑے ٹرین حادثات میں لوگ عام ٹریفک حادثات کے مقابلے میں مدد کی لیے بڑی تعداد میں آگے بڑھتے ہیں۔ اور اس کی وجہ وہ یہ بتاتے ہیں کہ بڑے حادثات میں مدد کرنے والے پر کسی طرح کے الزامات لگنے کے امکانات خاصے کم ہوتے ہیں۔

سیو لائف نےانڈین سپریم کورٹ میں جائے حادثہ پر مدد فراہم کرنے والوں کے قانونی تحفظ کے لیے درخواست دائر کی جس پر سپریم کورٹ نے یہ گائیڈ لائنز جاری کیں کہ حادثے کی صورت میں ایمرجنسی سروسز کو فون کرنے والے شخص کو اپنی شناخت نہ ظاہر کرنے کا حق حاصل ہو گا۔ اس کے علاوہ یہ شخص قانونی معاملات سے مبرا ہو گا جب کہ ہسپتال والے حادثے کے شکار شخص کا میڈیکل بل بھی اس سے نہیں مانگ سکیں گے۔

Image caption گزشتہ برس جولائی میں انیتا جندال کا بیس سالہ سکوٹر سوار بیٹا ونے دہلی میں حادثے کا شکار ہوا

لیکن صرف دو ماہ بعد، ایک اور حادثے نے انڈیا میں اس بحث کو پھر سے چھیڑ دیا۔

گزشتہ برس جولائی میں انیتا جندال کے بیس سالہ سکوٹر سوار بیٹے ونے دہلی میں حادثے کا شکار ہوئے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں یہ دیکھا گیا کہ ونے کے آس پاس بہت سارے لوگ جمع ہیں لیکن ان کی مدد کسی نے نہیں کی۔

انیتا جندال کہتی ہیں کہ اگر کسی نے اس کی مدد کی ہوتی تو آج ان کا بیٹا زندہ ہوتا، لیکن ان کا کہنا ہے کہ انھیں ہر کسی نے یہی بتایا کہ انھوں نے پولیس کے خوف سے ونے کی مدد نہیں کی۔

مسٹر تیواڑی اور ان کی تنظیم سیو لائف کے لیے یہ جدوجہد ابھی جاری ہے۔ مارچ میں انڈین سپریم کورٹ نے اس بارے میں جاری کی گئی اپنی گائیڈ لائنز کو لازم قرار دیا۔ مسٹر تیواڑی اب انڈیا کے 29 صوبوں میں ان گائیڈ لائنز کو نافذ کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔

Image caption گزشتہ ایک دہائی میں انڈیا میں سڑک کے حادثات میں ایک ملین افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

یہ کتنا بڑا مسئلہ ہے؟

انڈیا میں سڑک کے حادثات میں ہر گھنٹے میں پندرہ افراد ہلاک ہوتے ہیں۔

روزانہ بیس بچے ان حادثات میں ہلاک ہوتے ہیں۔

گزشتہ ایک دہائی میں سڑک کے حادثات میں ایک ملین افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

گزشتہ دس برس میں پچاس لاکھ افراد سڑک کے حادثات میں یا زخمی یا معذور ہوئے۔

ان حادثات سے ہر سال انڈیا کو جی ڈی پی کے تین فیصد کے برابر مالی نقصان ہوتا ہے۔

شیریجیت راوندرن کئی ریسٹورنٹ چلاتے ہیں۔ رواں سال جنوری میں وہ ایک حادثے کی جگہ پر پہنچے جہاں ایک عمر رسیدہ شخص مدد کے لیے پکار رہا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ بہت سے لوگ تماشہ دیکھ رہے تھے لیکن مدد کے لیے کوئی آگے نہیں آیا۔ وہ جب اس شخص کو اٹھا کر ہسپتال لے گئے تو انھیں تین گھنٹوں تک مختلف فارم بھرنے پڑے۔ ’وہ پوچھتے ہیں کہ کیا آپ اس شخص کے رشتہ دار ہیں؟ جیسے ہی آپ نہیں کہتے تو ہسپتال والے آگے کچھ نہیں کرتے۔‘

عمر رسیدہ شخص کو آخر کار طبی امداد فراہم کر دی گئی لیکن اس وقت تک دیر ہو چکی تھی اور وہ بھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔

اسی بارے میں