سنکیانگ: ’پاسپورٹ بنوانے کے لیے ڈی این اے فراہم کریں‘

تصویر کے کاپی رائٹ GETTY IMAGES
Image caption چین کی اویغور اقلیتی برادری کی اکثریت سنکیانگ میں رہائش پذیر ہے

چین میں پولیس حکام نے ملک کے شمال مغربی علاقے سنکیانگ کے چند رہائشیوں سے کہا ہے کہ پاسپورٹ کے اجرا کے لیے درخواستیں دینے کے لیے ڈی این اے سمیت مختلف حیاتیاتی معلومات فراہم کریں۔

چین کے اس خطے میں مختلف نسلوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو بیرون ملک جانے کے لیے مختلف نمونے جمع کروانے ہوں گے۔

چین کے حکام کے بقول وہ علاقے میں پرتشدد واقعات کو ختم کرنا چاہتے ہیں، جن کی ذمہ داری وہ اسلامی شدت پسندوں پر عائد کرتے ہیں۔

سنکیانگ میں رہنے والے مسلمانوں کا کہنا ہے کہ چین کی حکومت ان کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھتی ہے اور اُنھیں اکثر سفری دستاویزات جاری نہیں کی جاتیں۔

چین کی اویغور اقلیتی برادری کی اکثریت سنکیانگ میں رہائش پذیر ہے اور سنکیانگ کی 45 فیصد آبادی ایغور پر مشتمل ہے۔

گذشتہ کچھ برسوں کے دوران چین کے حکام نے علاقے میں پر تشدد واقعات کی ذمہ داری ایغور پر عائد کی ہے جبکہ ایغور برادری نے پرتشدد واقعات کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔

سنکیانگ کے لیے نئی سفری پابندی کا اعلان کیمونسیٹ پارٹی کے حامی اخبار میں اشتہار اور مقامی ٹریول ایجنٹس کے ذریعے کیا گیا ہے۔

اشتہار میں کہا گیا ہے کہ پولیس کو خون کے نمونے، فنگر پرنٹ، آواز کی ریکارڈنگ اور تھری ڈی تصویر جمع کروائی جائیں۔

اس پالیسی کا اطلاق یکم جون کو رمضان شروع ہونے سے چند دن قبل ہی کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ چین میں سرکاری ملازمین اور اُن کے بچوں پر پابندی ہے کہ وہ رمضان میں روزے نہیں رکھ سکتے ہیں۔

اسی بارے میں