’ٹارگٹ کلنگ ختم کرنے کے لیے جو کرنا پڑا کریں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حزب اختلاف نے الزام لگایا ہے کہ حکومت اس آپریشن کا استعمال سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے کر رہی ہے

بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ ملک میں اقلیتوں اور سیکولر شہریوں کی بڑھتی ہوئی ٹارگٹ کلنگ کو ختم کرنے کا عہد کیا ہے۔

وزیر اعظم حسینہ واجد کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت ان حملوں کو ختم کرنے کے لیے جو بھی کرنا پڑا کرے گی۔

ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گذشتہ روز ہی بنگلہ دیش میں پولیس نے اسلامی شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا اور 1500 کے قریب افراد کو گرفتار کیا۔

٭ بنگلہ دیش میں اسلامی شدت پسندوں کے خلاف کارروائی

٭ بنگلہ دیش میں ایک اور ہندو قتل

حزب اختلاف نے الزام لگایا ہے کہ حکومت اس آپریشن کا استعمال سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے کر رہی ہے۔

سنیچر کو حکمراں جماعت عوامی لیگ کی میٹنگ کے دوران شیخ حسینہ کا کہنا تھا کہ ’اس میں وقت لگ سکتا ہے لیکن خدا نے چاہا تو ہم حملے کرنے والوں پر قابو پا لیں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’مجرم کہاں چھپیں گے؟ ہر ایک قاتل کو قانون کے سامنے پیش کریں گے۔‘

تاہم بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ پولیس کی جانب سے شروع کیے جانے والے آپریشن کے دوران گرفتار کیے جانے والوں میں بہت سے عام مجرم شامل ہیں۔

دوسری جانب حزب اختلاف کی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے قائد فخرالاسلام عالمگیر کا کہنا تھا کہ ’پولیس نے کارروائی کے دوران سینکڑوں حزب مخالف کے کارکنوں کو گرفتار کر لیا ہے۔‘

انھوں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’اسلامی شدت پسندوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے نام پر بہت سے عام اور معصوم لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔‘

خیال رہے کہ گذشتہ چند سالوں کے دوران سیکولر بلاگرز، اکیڈیمیوں، ہم جنس پرستوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والوں اور مذہبی اقلیتوں کے ارکان سمیت 40 افراد کو بنگلہ دیش میں ہلاک کیا گیا ہے۔

اس سے قبل بنگلہ دیش کےوزیر داخلہ نے ملک میں حالیہ تشدد کے واقعات میں اسرائیل کے ملوث ہونے کی بات بھی کی تھی جسے اسرائیل کی حکومت کی طرف سے رد کر دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں