’مودی خود کام کریں گے نہ کرنے دیں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کیجریوال نے انڈین وزیر اعظم مودی سے کہا ہے کہ وہ عام آدمی پارٹی سے خوفزدہ ہیں

دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کا کہنا ہے کہ انڈین ’وزیر اعظم نہ خود کام کریں گے اور نہ کسی دوسرے کو ہی کرنے دیں گے۔‘

ان کا یہ بیان اس وقت آیا جب صدر پرنب مکھرجی نے دہلی حکومت کی طرف سے مقرر کیے جانے والے 21 پارلیمانی سیکریٹریوں کے عہدے کو ’منفعت کے عہدے‘ کے دائرے سے باہر رکھنے سے متعلق بل کو نامنظور کر دیا۔

٭ ’نریندر مودی بزدل اور نفسیاتی مریض ہیں‘

اب صدر کی نامنظوری کے بعد 21 ممبران اسمبلی کی رکنیت پر سوال پیدا ہو گیا ہے۔ اگر نامنظوری کے بعد ان کی رکنیت جاتی رہتی ہے تو دہلی میں ان سیٹوں پر ضمنی انتخابات ہوں گے۔

ایک ایجنسی کے ساتھ انٹرویو کے دوران کیجریوال نے کہا: ’ان ممبران اسمبلی کو اگر ڈسکوالیفائی کر کےگھر پر بیٹھا دیں گے تو اس سے مودی جی کو کیا ملے گا؟‘

کیجریوال نے مزید کہا کہ ’مودی جی سونیا گاندھی پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ پارلیمنٹ نہیں چلنے دے رہی ہیں کیونکہ ان کو شکست نہیں ہضم ہو رہی ہے۔ میں مودی جی سے کہنا چاہتا ہوں کہ آپ دہلی حکومت کو کام کرنے نہیں دے رہے ہیں، آپ کو دہلی کی شکست ہضم نہیں ہو رہی ہے۔‘

اس سے پہلے دہلی کی حکومت نے گذشتہ سال 13 مارچ کو 21 ممبران اسمبلی کو پارلیمانی سیکریٹری مقرر کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ arvind.kejriwal
Image caption کیجریوال وزیر اعظم مودی کو نشانہ بنانے کا موقعہ نہیں چوکتے

اس کے علاوہ اروند کیجریوال نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعہ اپنی ناراضي کا اظہار کیا ہے اور اس کے ساتھ ایک ٹی وی انٹرویو میں انھوں نے چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ ’صرف دہلی ہی کیوں، تقریباً ہر ریاست میں پارلیمانی سیکریٹری مقرر کیے گئے ہیں، انھیں بھی ہٹانا چاہیے۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’ہریانہ میں پارلیمانی سیکریٹری ہیں۔ ناگالینڈ میں تو 24 ہیں جبکہ ہماچل پردیش میں چھ، راجستھان میں پانچ، پنجاب میں 24، گجرات میں چار، بنگال اور پڈوچیری میں بھی ہیں۔ پنجاب میں تو ایک ایک پارلیمانی سیکرٹری کو ایک لاکھ روپے تنخواہ ملتی ہے، گاڑی ملتی ہے اور بنگلہ بھی ملتا ہے۔‘

دہلی کے وزیر اعلیٰ کیجریوال کہتے ہیں کہ نریندر مودی کو کانگریس سے نہیں بلکہ عام آدمی پارٹی سے ’خوف‘ ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ دہلی حکومت اپنے پارلیمانی سیکریٹریوں کو کوئی پیسہ بھی نہیں دیتی ہے مگر پھر بھی وہ رات دن کام کرتے رہتے ہیں۔

بی جے پی کے ایک ترجمان سمبت پاترا نے کیجریوال سے کہا کہ صدر جمہوریہ کی ’معتبریت‘ پر سوال نہ کریں اور وزیر اعظم بہت ’آبسیسڈ‘ نہ ہوں۔

انھوں نے کہا کہ کیجریوال اپنے ارادوں کے زمیں بوس جانے پر ’مایوس‘ ہیں اور صدر کے فیصلے کو ’سیاسی رنگ‘ دے رہے ہیں۔

اسی بارے میں