انڈیا میں ٹرینوں کو ٹائلٹ کیسے ملے؟

تصویر کے کاپی رائٹ b
Image caption ٹرین میں ٹائلٹ کی سہولت فراہم کیے جانے کے پس پشت ایک کہانی ہے

ڈیڑھ صدی سے زیادہ کے انتظار کے بعد انڈیا میں ریل گاڑیوں کے ڈرائیوروں کے لیے اچھی خبر ہے، اب ان کا سفر کتنا بھی لمبا ہو، انھیں ٹائلٹ تلاش کرنے کے لیے انجن سے اتر کر نہیں بھاگنا پڑے گا۔

انڈیا میں ریل گاڑیوں کے ڈرائیوروں کو ’لوکو پائلٹ‘ کہا جاتا ہے، وہ پائلٹ بھلے ہی ہوں لیکن اب تک وہ ٹائلٹ کی بنیادی سہولت سے محروم تھے۔

منپریت سنگھ کہتے ہیں کہ ’ہمیں آٹھ گھنٹے کی شفٹ میں صرف دس منٹ کی بریک ملتی تھی، اور ایسا نہیں کہ آپ کہیں بھی گاڑی روک کر کھڑے ہوجائیں۔ ہمیں پہلے وائرلیس پر اگلے سٹیشن کے انچارج کو اطلاع دینی پڑتی ہے، پھر جلدی سے بھاگ کر سٹیشن کا ٹائلٹ استعمال کرتے ہیں۔۔۔اب ہمارا ایک دیرینہ مطالبہ تسلیم کر لیا گیا ہے۔ ہمیں تو آسانی ہوگی ہی، ریل گاڑیاں بھی وقت پر چل سکیں گی۔‘

لوکو پائلٹ کس مشکل سے گزرتے ہوں گے، یہ اندازہ لگانا تو مشکل نہیں اور وہ اس مشکل سے کیسے نمٹتے تھے، اس کے بارے میں بھی بہت سی دلچسپ کہانیاں ہیں۔

Image caption ٹرینوں میں بایو ٹائلٹ نصب کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے

اب ریلوے کے انجنوں میں جو نئے ٹائلٹ بنائے جارہے ہیں، وہ جدید ترین ٹیکنالوجی پر مبنی ہیں، بالکل ویسے جیسے آپ کو ہوائی جہاز میں نظر آئیں گے۔ ہر ٹائلٹ پر تقریباً اٹھارہ سے بیس لاکھ روپے خرچ ہوں گے۔

ڈرائیوروں کو تو 160 سال انتظار کرنا پڑا لیکن مسافروں کو ٹائلٹ کی سہولت صرف نصف صدی میں ہی مل گئی تھی۔

لیکن اس کے پیچھے ایک دلچسپ کہانی ہے۔

ایک مسافر اوکھل چندر سین نے 1909 میں مغربی بنگال کے صاحب گنج ڈیوژنل آفس کو ایک غیرمعمولی خط لکھا تھا، جس میں انھوں نے اپنی تکلیف بیان کی تھی۔ یہ خط آج بھی دہلی کے ریل میوزیم میں موجود ہے۔

Image caption اوکھل چندر سین کا خط

اوکھل چندر سین نے لکھا:

’محترم

’میں ٹرین سے احمدپور سٹیشن پہنچا، کٹہل کھانے سے میرا پیٹ پھولا ہوا تھا، اس لیے میں رفع حاجت کے لیے چلا گیا، میں فارغ ہو ہی رہا تھا کہ گارڈ نے سیٹی بجا دی، میں ایک ہاتھ میں لوٹا اور دوسرے میں دھوتی تھام کر بھاگا۔ میں گر پڑا اور سٹیشن پر موجود عورتوں اور مردوں نے وہ دیکھا۔۔۔۔

’میں احمدپور سٹشین پر ہی چھوٹ گیا۔ یہ بہت غلط بات ہے، اگر مسافر رفع حاجت کے لیے جاتے ہیں تب بھی گارڈ چند منٹوں کے لیے ٹرین نہیں روکتے؟ اس لیے میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ گارڈ پر بھاری جرمانہ کیا جائے۔ ورنہ میں یہ خبر اخبارات کو دے دوں گا۔‘

Image caption منپریت سنگھ نے لوکو پائلٹ کی حالت زار کا ذکر کیا

اس کے بعد مسافر ٹرینوں میں ٹائلٹ کی سہولت فراہم کر دی گئی۔ اب مسافر ٹرینوں میں پرانے گندے ٹائلٹس کی جگہ نئے ’بایو ٹائلٹ‘ نصب کیے جارہے ہیں۔ رواں مالی سال میں ایسے سترہ ہزار ٹائلٹ بنائے جائیں گے۔

لیکن انجنوں میں نئے ٹائلٹ بنانا ٹیڑھی کھیر ہے، کیونکہ خرچ بھی بہت زیادہ ہے اور پرانے انجنوں میں جگہ بھی نہیں، اس لیے ریلوے کے ساٹھ ہزار ڈرائیوروں کے لیے منزل ابھی دور ہے۔

اسی بارے میں