بنگلہ دیش: ہندو استاد حملے میں شدید زخمی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مداری پور میں پیش آنے والا واقعہ بنگلہ دیش میں مذہبی اقلیتوں، سیکولر ادیبوں اور اساتذہ پر حملے کی کڑی ہے

بنگلہ دیش میں پولیس کے مطابق ایک ہندو استاد کو تین افراد نے ان کے گھر کے باہر نے چھریوں کے وار سے زخمی کر دیا ہے۔

وہ ہپستال میں تشویش ناک حالت میں داخل ہیں۔

مداری پور میں پیش آنے والا واقعہ بنگلہ دیش میں مذہبی اقلیتوں، سیکولر ادیبوں اور اساتذہ پر حملے کی کڑی ہے۔

گذشتہ ہفتے بنگلہ دیش کی وزیراعظم نے اس تشدد کے خاتمے کے عزم کا اظہار کیا تھا اور پولیس نے اسلامی انتہا پسندوں کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا تھا۔

ایک کالج میں پڑھانے والے رپون چکروی نے اپنے گھر کا دروازہ کھولا تو ان پر تیزدھار چھریوں سے حملہ کیا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے وہ مقامی افراد کی جانب سے پکڑے گئے تین افراد میں سے ایک سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔

اس سے قبل ہونے والے حملوں کا الزام اسلامی انتہا پسندوں پر عائد کیا گیا تھا اور اس حوالے سے خدشات کا اظہار کیا گیا تھا۔

ڈھاکہ سے ہمارے نامہ نگار ولی الرحمان کا کہنا ہے کہ بیشتر واقعات میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ یا القاعدہ نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے تاہم حکومت ان تنظیموں کی ملک میں کارروائیوں کی نفی کرتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption فروری 2013 سے بنگلہ دیش میں اب تک 40 سیکولر بلاگرز، اساتذہ اور مذہبی اقلیتوں کو قتل کیا جاچکا ہے

وزیر اعظم شیخ حسینہ ملک میں اقلیتوں اور سیکولر شہریوں کی بڑھتی ہوئی ٹارگٹ کلنگ کو ختم کرنے کا عہد کیا ہے۔

حسینہ واجد کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت ان حملوں کو ختم کرنے کے لیے جو بھی کرنا پڑا کرے گی۔

جبکہ گذشتہ جمعے کی شب سے اسلامی شدت پسندوں کے خلاف شروع کی جانے والی کارروائی کے دوران پولیس ہزاروں افراد کوگرفتار کر چکی ہے۔

خیال رہے کہ فروری 2013 سے بنگلہ دیش میں اب تک 40 سیکولر بلاگرز، اساتذہ، ہم جنس پرست کارکن اور مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو قتل کیا جاچکا ہے جس کا الزام اسلامی انتہاپسندوں پر عائد کیا جاتا ہے۔

گذشتہ ہفتے پبنا ضلعے میں ایک ہندو مندر کے ملازم کو قتل کیا گیا جبکہ دو ہفتے قبل ایک ہندو پنڈت، ایک عیسائی دکاندار اور ایک پولیس افسر کی اہلیہ مشتبہ انتہاپسندوں کے حملوں میں ہلاک ہوئے۔

اسی بارے میں