کوئی دراندازی نہیں، چین کا بھارت کو جواب

آروناچل پردیش تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انڈیا نے الزام لگایا تھا کہ چین کے فوجی آروناچل پردیش کے علاقے میں آ گئے تھے

چین نے آروناچل پردیش میں دراندازی کے الزامات کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین اور انڈیا کے درمیان سرحد کی حد بندی نہیں کی گئی اور پیپلز لبریشن آرمی کے فوجی لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر چین کی طرف معمول کا گشت کر رہے تھے۔

انڈیا کے سرکاری خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا (پی ٹی آئی) کے مطابق چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لو کنگ نے بیجنگ میں میڈیا بریفنگ کے دوران صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ وہ چین کی حدود میں معمول کا گشت تھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق تقریبً 250 فوجی 9 جون کو مشرقی کامینگ میں یانگسٹے کے علاقے میں داخل ہوئے تھے۔

پی ٹی آئی کے مطابق آروناچل پردیش میں یہ ’دراندازی اس وقت ہوئی ہے جب چین نیوکلیئر سپلائیرز گروپ (این ایس جی) میں انڈیا کی شمولیت کی اس بنیاد پر مخالفت کر رہا ہے کہ اس نے ابھی تک جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے این پی ٹی پر دستخط نہیں کیے ہیں۔

پی ٹی آئی کے مطابق کے مطابق بیجنگ کا، جو کہ پاکستان کی این ایس جی گروپ میں شمولیت کی حمایت کر رہا ہے، مطالبہ ہے کہ گروپ میں نئے اراکین کو شامل کرنے پر اتفاقِ رائے ہونا چاہیے۔

انڈیا میں دراندازی کے مسئلے پر چین کی وہی رائے ہے جو پہلے تھی کہ دونوں ملک اس کو مختلف طریقے سے دیکھتے ہیں۔

پی ٹی آئی کے مطابق سرحد پر تناؤ سے بچنے کے لیے چین نے 3,488 کلو میٹر لمبی لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کی حد بندی کی انڈیا کی تجویز پر کوئی مثبت ردِ عمل نہیں دیا ہے۔

ابھی تک دونوں ممالک کے خصوصی ایلچی 19 مرتبہ سرحدی کی حد بندی پر مذاکرات کر چکے ہیں۔

اسی بارے میں