جموں میں مندر کی مبینہ بےحرمتی پر کشیدگی

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption مندر کی بے حرمتی کے بعد آتشزدگی کے واقعات ہوئے

انڈیا کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں دو مسلمان نوجوانوں کی جانب سے ایک مندر کی مبینہ بےحرمتی کے بعد فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہوگئي ہے۔

حکام نے حالات پر قابو پانے کے لیے شہر کے بعض علاقوں میں کرفیو نافذ کیا ہے جب کہ انٹرنیٹ سروسز بھی معطل کر دی گئی ہیں۔

حکام اور عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ منگل کی شب جموں کے علاقے روپ نگر علاقے میں واقع نفسیاتی امراض کے ماہر ڈاکڑ جگدیش کی کلینک میں اپنی باری کا انتظار کرنے والے 25 سالہ یاسر اور ان کے بھائی تنویر اچانک باہر نکلے اور انھوں نے روپ نگر کے آپ شمبو مندر میں توڑ پھوڑ کی۔

اس واقعے سے مقامی لوگوں میں غم و غصہ پھیل گیا۔

پولیس سٹیشن کے افسر رحمت اللہ جب جائے واردات پر پہنچے تو مظاہرین نے تاخیر سے آنے پر احتجاج کیا۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ رحمت اللہ نے مندر کے پجاری سنجے کمار کو تھپڑ مارا جس کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا۔

مظاہرین نے پولیس تھانے پر حملہ کرکے کئی گاڑیوں کو نذرآتش کر دیا اور پولیس پبلک سکول کی املاک کو بھی نقصان پہنچایا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ایک پولیس افسر کو پجاری کو تھپڑ مارنے کی پاداش میں معطل کردیا گیا ہے

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم یاسر اور تنویر کو گرفتار کر لیا گیا ہے، تاہم پولیس کا اصرار ہے کہ یاسر کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں ہے اسی لیے وہ ماہر نفیسات کے یہاں علاج کے لیے آیا تھا۔

اس دوران حکام نے پولیس افسر رحمت اللہ کو پجاری کو تھپڑ مارنے کی پاداش میں معطل کردیا ہے۔

جموں میں سرگرم سخت گیر ہندو تنظیم آر آر ایس ایس کی حمایت یافتہ شری رام سینا نامی تنظیم نے بدھ کو جموں میں ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ بدھ کی صبح جموں میں بعض موٹرسائیکل سواروں نے وزیر خوراک چوہدری ذوالفقارکی رہائش گاہ پر بھی پتھراؤ کیا، تاہم اس میں کسی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

واضح رہے فی الوقت جموں کشمیر پر ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی اور نیم علیحدگی پسند خیالات کی حامل پی ڈی پی کی مخلوط حکومت ہے۔

گذشتہ اپریل میں بھی جب کشمیر کے این آئی ٹی کالج میں کشمیر پولیس نے ہندو طلبا پر لاٹھی چارج کیا تو حکومت پر ہندوگروپوں نے سخت تنقید کی تھی۔

تازہ واقعے کی وجہ سے بھی مخلوط حکومت کی اکائیوں کے درمیان کھنچاؤ پیدا ہوگیا ہے۔

اسی بارے میں