گجرات: تین آدم خور شیروں کی آزادی چھن گئی

تصویر کے کاپی رائٹ prashant dayal
Image caption محکمہ جنگلات نے پکڑے جانے والے شیروں کی سائنسی تحقیقات کی اور ان میں سے قصوروار پائے جانے والے تین شیروں کو جونا گڑھ کے سكّرباگ چڑیا گھر میں بھیجنے کا فیصلہ کیا گيا ہے

انڈیا کی ریاست گجرات میں گر کے جنگلوں میں انسانوں کے شکار کرنے کے شبہے میں پکڑے جانے والے 18 شیروں میں سے تین قصوروار پائے گئے ہیں۔

ان میں سے ایک شیر کافی بوڑھا ہے جسے بطور سزا جوناگڑھ کے سكّرباگ چڑیا گھر میں بھیج دیا گيا ہے جبکہ دو اور شیروں کے برتاؤ پر نگرانی رکھی جائے گی۔

دراصل گر کے جنگلات سے ملحقہ دیہی علاقوں میں لوگوں میں شیر کا خوف اتنا بڑھ گیا تھا کہ گذشتہ دو ماہ سے وہ دن میں بھی اپنےگھروں سے باہر نکلنے سے ڈرتے تھے۔

گذشتہ دو ماہ میں گر کے ان شیروں نے کئی بار انسانوں پر حملے کیے تھے۔ ان حملوں میں شیر دو مردوں اور ایک خاتون کو کھا گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Sandeep kumar gir forest

چند روز پہلے کی بات ہے کہ محکمہ جنگلات نے شکایات کے بعد 18 شیروں کو پکڑ لیا تھا جس کے بعد آس پاس کے گاؤں والوں نے سکون کی سانس لی۔

محکمہ جنگلات نے پکڑے جانے والے شیروں کی سائنسی تحقیقات کی اور ان میں سے قصوروار پائے جانے والے تین شیروں کو جونا گڑھ کے سكّرباگ چڑیا گھر میں بھیجنے کا فیصلہ کیا گيا ہے۔

باقی 15 شیروں کو جنگل میں پھر سے چھوڑ دیا جائے گا۔

محکمہ جنگلات کے قوانین کے مطابق جنگل میں بسنے والا شیر اگر انسان کا شکار کرتا ہے تو اس سے جنگل میں رہنے کا حق چھین لیا جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ prashant dayal
Image caption گذشتہ دو ماہ میں گر کے ان شیروں نے کئی بار انسانوں پر حملے کیے تھے۔ ان حملوں میں دو مردوں اور ایک خاتون کو وہ مار کر کھا گئے تھے

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے جونا گڑھ کے محکمہ جنگلات کے سربراہ اے پی سنگھ نے کہا: ’جن تین شیروں کی رپورٹ پوزیٹیو پائی گئی ہے اس میں ایک بوڑھا شیر ہے۔ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ وہ تقریباً پانچ سے نو سال کی عمر کا ہے۔ اسے جونا گڑھ کے سكرباگ چڑیا گھر کو بھیج دیا گیا ہے۔‘

باقی دو دیگر ’قصوروار‘ شیروں کی عمر دو سے چار برس کے درمیان میں ہے۔ انھیں كیئرنگ ہاؤس میں رکھا جائے گا جہاں ان کے رویے پر نگرانی رکھی جائے گی۔

مجرم پائے جانے والے ایسے شیروں کو پنجرے میں بند رکھا جاتا ہے کیونکہ ایک بار انسان کا گوشت کھانے والے شیروں کو جنگل میں نہیں چھوڑ سکتے ہیں۔

اسی بارے میں