’مردانہ معاشرے میں اس کی بہت ضرورت تھی‘

Image caption سری نگر کی خواتین کہتی ہیں کہ اس خصوصی بس سروس نے ان کی زندگی آ‎سان کر دی ہے

انڈیا کے زیر انتظام ریاست جموں کشمیر کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے عہدہ سنبھالنے کے بعد ہی خواتین کے لیے خصوصی بس سروس کا آغاز کیا تھا۔

بی بی سی کی گیتا پانڈے نے سری نگر میں اسی بس میں یہ معلوم کرنے کے لیے سفر کیا کہ آخر وہ کتنی مقبول ہے اور اس کے کیا فوائد ہیں؟

صبح کے تقریبا پونے نو بجے ہیں اور لال چوک پر ’سری نگر روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن‘ کے بس سٹاپ پر محکمہ نقل و حمل کے بعض ملازمین کے علاوہ کوئی بھی نظر نہیں آرہا۔

سری نگر میں اسی جگہ سے کشمیر یونیورسٹی کے لیے خواتین کے لیے خصوصی بسیں صبح نو بجے سے چلتی ہیں۔ ہمارے ساتھ یونیورسٹی کی سابق طالبہ عمیرہ حسن بھی ہیں جو کچھ ماہ قبل تک جرنلزم کی تعلیم کے لیے یونیورسٹی جایا کرتی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Majid Jahangir

میری طرح وہ بھی اس خاص بس میں پہلی بار سفر کر رہی تھیں۔

بس چلتے ہی عمیرہ بتانے لگیں کہ ’جیسے ہی میں نے اس بس سروس کے بارے میں سنا میں خوشی سے پاگل ہوگئی۔ مردوں کے اثر و رسوخ والے معاشرے میں اس کی بڑی ضرورت تھی۔‘

بس جیسے جیسے آگے بڑھی دوسرے سٹاپ سے طالبات اس میں سوار ہوتی گئیں اور پھر یہ بس خوش و خرم چہروں سے بھری ہوئی نظر آنے لگی۔

اس سروس کو گذشتہ 19 اپریل کو پانچ مختص بسوں سے شروع کیا گیا تھا۔

یونیورسٹی تک سفر کے دوران میں نے عمیرہ اور دیگر لڑکیوں سے ان کے روز مرہ کے سفر کرنے کے تجربات کے بارے میں جب پوچھا تو وہی خوف ناک کہانی سامنے آئی جو بھارت کے مختلف علاقوں میں خواتین کو اکثر پیش آتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Majid Jahangir

عمیرہ کہتی ہیں کہ ایک عام بس پر سفر کرنا کسی جنگ سے کم نہیں۔’ہمیں اپنے آپ کو آہنی بنانا پڑتا ہے، بس میں گھسنے کے لیے لڑنا پڑتا ہے اور اپنے لیے جگہ پانے کے لیے دوسروں کو دھکیلنا پڑتا ہے۔‘

وہ اپنے ایک ناخوشگوار واقعے کا ذکر کرتی ہیں جب ایک شخص مستقل ان کی کہنی کو چھوتا رہا تھا۔

کہتی ہیں: ’پہلے مجھے لگا کہ یہ شاید اس لیے ہے کہ بس میں گنجائش نہیں ہے لیکن پھر مجھے محسوس ہوا کہ وہ دانستہ طور پر ایسا کر رہا ہے۔ میں بہت غصہ ہوئی لیکن جب میں نے اس سے کہا تو بجائے دور ہونے کے وہ اور قریب آگیا۔ میں اس چیز کو برداشت کرنے والوں میں سے تو ہوں نہیں تو پھر میں نے اسے دھکا دیا، پہلے وہ لڑ کھڑایا پھر وہ مجھ سے دور ہوا۔‘

عمیرہ حسن بتاتی ہیں کہ حالیہ ایک جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ اگر کسی بس میں دس خواتین سوار ہوئیں تو اس میں سے نو کو اس طرح ہراساں کیا جاتا ہے۔

لیکن یہ باتیں صرف کشمیر تک محدود نہیں ہیں۔ انڈیا کے دوسرے شہروں میں بھی بسوں میں خواتین کا سفر کرنا آسان نہیں ہے۔ کشمیر میں خواتین کا کہنا ہے کہ اگر ان کے ساتھ کوئی بد تمیزی کرے اور وہ اس پر احتجاج کریں تو پھر اس کا سارا الزام انھیں پر تھوپ دیا جاتا ہے۔

کشمیر یونیورسٹی کی ایک طالبہ سعدیہ کہتی ہیں کہ ایسی صورت حال میں تمام مسافر اس طرح سے دیکھتے ہیں کہ جیسے آپ ہی کی غلطی ہو۔ ہر شخص آپ کو الزام دےگا، ہر شخص یہی کہے گا کہ عورت کی غلطی ہوگی۔

وہ کہتی ہیں: ’ہمارے پاس دو ہی صورتیں ہوتی ہیں، یا تو خاموش رہیں یا پھر جھگڑا کرلیں، اور اگر آپ لڑنے لگیں تو پھر جھگڑا بڑھنے کے لیے بھی تیار رہنا پڑتا ہے۔‘

عمیرہ حسین کہتی ہیں: ’خواتین کو اکثر اس طرح کے برے سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ میں اس بس سروس کے لیے غور کرنے پر وزیراعلیٰ کی احسان مند ہوں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہماری دعائیں سن لی گئی ہوں۔‘

ہمارے سفر کے ابتدائی 20 منٹ کے اندر ہی یہ بات واضح ہوگئی کہ یہ خصوصی بس سروس بہت مقبول ہے۔ اب بس پوری طرح بھر چکی ہے اور اس میں تقریبا 50 خواتین سوار ہیں، تمام سیٹوں پر قبضہ ہوچکا ہے اور بہت سی خواتین درمیان میں کھڑی ہوئی ہیں۔

ایک طالبہ حنیفہ علی نے کہا: ’بس سٹاپ پر مردوں کو کھڑے دیکھ کر بڑا مزا آتا ہے کہ ہماری بس تو گزر رہی ہے اور وہ بس کے انتظار میں کھڑے ہیں۔‘

ایک سرکاری ملازم رفعت میر کہتی ہیں کہ اس خصوصی بس سروس نے ان کی زندگی آ‎سان کر دی ہے۔

وہ کہتی ہیں: ’یہ بس ہمیں ہر روز کام کی جگہ پر لے جاتی ہے اور واپس لاتی ہے۔ صاف ستھری ہے، ہمیشہ مقررہ وقت پر ہوتی ہے۔ اس میں دھکا مکی نہیں ہے اور محفوظ ہے۔‘

اب بہت سی خواتین کا یہ مطالبہ ہے کہ ایسی بسیں شہر کے سبھی راستوں اور علاقوں میں بھی شروع کی جائیں۔

محکمہ نقل و حمل کے ایک افسر مشتاق احمد چانڈا نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں اس بس سروس کی توسیع کے لیے بہت سی ای میلز موصول ہوئی ہیں جو خواتین نے لکھی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ایک ماہ کے اندر ہی ایسی اور دو بسیں شروع کی جائیں گی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ سروس گھاٹے میں چل رہی ہے اور اگر حکومت نے اس کے لیے الگ سے فنڈ مہیا نہ کیا تو اسے بند کرنا بھی پڑ سکتا ہے۔

اسی بارے میں