گجرات کے متاثرین کے لیے سرگرم تنظیم کا لائسنس منسوخ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حکومت ان کو اس وجہ سے جیل بھیجنا چاہتی ہے کیونکہ یہ دلیر خاتون بھارت اور دنیا کو یہ بات بھلانےنہیں دیتی کہ 2002 میں گجرات میں کیا ہوا تھا

انڈیا کی معروف سماجی کارکن اور ریاست گجرات میں سنہ 2002 ہونے والے فسادات کے متاثرین کے لیے کام کرنے والی تیستا سیتلواڈ کی مصیبتیں اب اور بڑھ گئی ہیں۔

بھارتی خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق مرکزی حکومت نے تیستا کی غیر سرکاری تنظیم ’سبرنگ ٹرسٹ‘ کا ایف سی آر اے لائسنس منسوخ کر دیا ہے۔

ایف سی آر اے وہ قانون ہے جس کے تحت انڈیا میں کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیمیں یا تعلیمی ادارے بیرون ملک سے مالی امداد حاصل کر پاتے ہیں۔

گذشتہ برس اسی قانون کی خلاف ورزی کرنے کے الزام میں وزارت داخلہ نے ’سبرنگ ٹرسٹ‘ کی رجسٹریشن چھ ماہ کے لیے معطل کر دی تھی۔

گجرات کی ریاستی حکومت کا الزام ہے کہ تیستا سیتلواڈ اور ان کے شوہر جاوید آنند نے تنظیم کو بیرونی ممالک سے ملنے والی امداد کو اپنے ذاتی مفاد کے لیے استعمال کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گجرات کی ریاستی حکومت کا الزام ہے کہ تیستا سیتلواڈ اور ان کے شوہر جاوید آنند نے تنظیم کو بیرونی ممالک سے ملنے والی امداد کو اپنے ذاتی مفاد کے لیے استعمال کیا ہے

حالانکہ تیستا سیتلواڈ اور ان کے شوہر ان الزامات کو کئی بار غلط قرار دے کر مسترد کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بی جے پی کی حکومت انتقامی کارروائی کے تحت ان کے خلاف ایسے اقدامات کر رہی ہے۔

مرکز میں برسرِاقتدار مودی حکومت نے تیستا کے خلاف مرکزی تفتیشی بیورو سی بی آئی سے تفتیش شروع کروائی تھی۔

اس سلسلے میں ان کے گھر اور دفتر پر کئی بار چھاپےمارے جا چکے ہیں، ان کے بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے گئے، سوشل میڈیا پر مسلسل ان پر تنقید کی جاتی رہی ہے اور دھمکیاں بھی دی جاتی رہی ہیں۔

لیکن تفتیش کار ان پر 2003 سے چلنے والے سات مقدمات میں سے کسی میں بھی الزام ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

عدالتیں ان کے حق میں نظر آتی ہیں۔ ان کو پانچ مرتبہ ضمانت پر رہائی مل چکی ہے، اور جولائی میں ممبئی کی عدالت عظمیٰ کے جج نے استغاثہ کے ان الزامات کو فضول کہہ کر مسترد کر دیا تھا کہ سیتلواڈ قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ممبئی کی عدالت عظمیٰ کے جج نے استغاثہ کے ان الزامات کو فضول کہہ کر مسترد کر دیا تھا کہ سیتلواڈ قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں

مبصرین کا کہنا ہے کہ حکومت ان کو اس وجہ سے جیل بھیجنا چاہتی ہے کیونکہ یہ دلیر خاتون بھارت اور دنیا کو یہ بات بھلانےنہیں دیتی کہ 2002 میں گجرات میں کیا ہوا تھا۔

بھارتی ریاست گجرات کے 2002 کے فسادات میں 1000 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے اور ان میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔

یہ فسادات بھارت میں گذشتہ کئی دہائیوں میں ہونے والے انسانیت سوز حملوں کی بدترین مثال ہیں۔

انسانی حقوق کے علمبرداروں کا کہنا ہے کہ حکومت انھیں اس وجہ سے نشانہ بنا رہی ہے کیونکہ وہ گجرات فسادات کے متاثرین کے لیے کام کرتی رہی ہیں۔

اسی بارے میں