ہندوستان کی تاریخ ماچسوں کی زبانی

میں نے ماچس کی ڈبیاں باقاعدہ جمع کرنے کا آغاز سنہ 2012 میں کیا۔ اس کے لیے میں دنیا بھر میں ماچسیں جمع کرنے کے شوقین لوگوں سے رابطہ کرتا ہوں جن میں ماچسوں کے ڈیلر، نیلام گھر اور کئی دیگر لوگ بھی شامل ہیں۔

ماچسیں جمع کرنے کے اس شوق میں اکثر ہوتا یہ ہے کہ مجھے کوئی ایسی ڈبیا مل جاتی ہے جو کسی خاص عہد یا شعبے کی نشاندہی کرتی ہے اور یوں میرا تجسس بڑھ جاتا ہے کہ اس عہد یا اس شعبے کے حوالے سے اور کون سی ماچسیں فروخت ہو رہی تھیں۔

اس خیال کے تحت میں نے حال ہی میں ’ماچسیں اور ان پر لکھی کہانیاں‘ کے عنوان سے ایک نمائش بھی کی جس میں میں نے اپنے 25 ہزار سے زیادہ ماچسوں کے خزانے میں سے پانچ ہزار نمونے پیش کیے۔

اے ای ماچس والا

اے ای ماچسں والا وہ پہلی ہندوستانی کمپنی تھی جس نے دیا سلائی میں سلفر کا استعمال کرنا شروع کیا۔ انھوں نے اپنی فیکٹریاں ممبئی اور گجرات میں لگائی تھیں اور یہ لوگ جنگ عظیم دوئم تک ماچسیں بناتے رہے۔

ومکو ماچس کمپنی

یہ کمپنی اپنی ماچسیں عرب ممالک کو برآمد کرتی تھی۔ اس کمپنی نے اپنی پہلی فیکٹری ریاست مہاراشٹر میں امبر ناتھ کے مقام پر قائم کی تھی۔ ومکو والوں نے ہندوستانی ناموں سے بہت کم ماچسیں بنائیں بلکہ ان کی ماچسوں پر زیادہ تر بادبانوں والی قدیم کشتی کی تصویر ہوا کرتی تھی۔

قومی جذبات کی ترجمان ماچسیں

سنہ 1905 میں ریاست بنگال کی تقسیم کے فیصلے کے خلاف چلنے والی تحریک کے دوران جو ماچسیں بنائی گئیں ان پر سوادیشی یا ’خود انحصاری‘ کے جذبے کو اجاگر کیا گیا۔ یہ وہ وقت تھا جب ہندوستان میں برطانوی مصنوعات کا بائیکاٹ کر کے مقامی مصنوعات کو فروغ دیا جا رہا تھا۔ سنہ 1920 اور 1930 کی دہائیوں میں بننے والی ماچسیں تحریکِ آزادی کے انہی دنوں کی کہانی سناتی ہیں۔

بھوّ نگر کے راجہ کی ماچس

کہا جاتا ہے کہ یہ ماچسیں برطانوی راج کے دوران مغربی گجرات کے علاقے بھوّ نگر کے راجہ نے اپنے استعمال کے لیے بنوائی تھیں۔ ان ماچسوں کے بارے میں ہم زیادہ نہیں جانتے کیونکہ ہمیں نہ تو اس زمانے کی تاریخ میں ان کا ذکر ملتا ہے اور نہ ہی اب اس سلسلے میں کوئی تحقیق ممکن ہے۔

فلمی دنیا کی ماچسیں

سنہ 1950 کی دہائی میں کئی فلموں کی تشہیر کے لیے بھی ماچسوں کا استعمال کیا گیا۔ انڈیا میں بننے والی کچھ ماچسوں میں ان دنوں کی پاکستانی فلموں کی تشہر بھی کی گئی جن میں مشہور اداکارہ و گلوکارہ نور جہاں کی فلم ’دوپٹہ‘ بھی شامل تھی۔

انڈیا میں ماچسوں پر فلمی اداکاروں اور اداکاراؤں کی تصاویر کی روایت آج بھی قائم ہے۔