بلاگر کا اہم مشتبہ قاتل پولیس کے ہاتھوں ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ان کے قتل کا الزام حکومت مقامی جنگجوؤں پر لگاتی ہے

بنگلہ دیش میں پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے سیکولر بلاگر اویجیت روئے کے اہم مشتبہ قاتل کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس شخص کا نام شریف تھا اور وہ دارالحکومت ڈھاکہ کے نزدیک پولس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں مارا گيا ہے۔

پولیس شریف اور دوسرے چھ مشتبہ ملزمان کے بارے میں معلومات حاصل کر رہی تھی۔

خیال رہے کہ گذشتہ سال فروری کے مہینے میں جب بنگلہ دیشی نژاد امریکی مصنف ڈھاکہ میں ایک کتاب میلے سے واپس آ رہا تھا تو کئی لوگوں نے اسے مار مار کر ہلاک کر دیا۔

وہ ان متعدد سیکولر بلاگروں میں ہے جسے مشتبہ اسلام پسندوں نے حالیہ برسوں میں ہلاک کیا ہے اور اس کی بین الاقوامی سطح پر مذمت کی گئی ہے۔

کئی معاملوں میں نام نہاد تنظیم دولت اسلامیہ یا القاعدہ نے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے لیکن حکومت نے مقامی جنگجوؤں پر الزام عائد کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty
Image caption ان ہلاکتوں کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے کیے گئے

اس طرح کے تازہ حملے میں مسلح افراد نے بدھ کو میرپور شہر میں ایک کالج کے ہندو ٹیچر پر اس کے گھر میں چاقو چھرے سے حملہ کیا ہے۔

اس معاملے میں مشتبہ شخص غلام فیض اللہ فہیم کو سنیچر کو جنوبی ضلعے مداری پور میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ وہ پولیس کی حراست میں تھا اور اسے اس کے ساتھیوں کو پکڑوانے کے لیے لے جایا گیا لیکن وہ فائرنگ کے تبادلے میں مارا گيا۔

وزیر اعظم شیخ حسینہ نے کہا ہے کہ ان کی حکومت اس طرح کے حملوں کو روکنے کے لیے ہر ممکنہ قدم اٹھانے کے لیے تیار ہے۔

اسی بارے میں