دلّی کے نہ تھے کُوچے، اوراقِ مصوّر تھے

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption دہلی کی جامع مسجد کے مشرقی دروازے کے باہر کا منظر

دلّی کے نہ تھے کُوچے، اوراقِ مصوّر تھے

جو شکل نظر آئی، تصویر نظر آئی

انگریزی کی مشہور کہاوت ہے کہ روم ایک دن میں نہیں بنا، یہ قول دلّی پر بھی صادق آتا ہے۔ پانڈوؤں کے زمانے سے لے کر مغلوں کے عہد تک، خدا جھوٹ نہ بلوائے، دلّی نے سینکڑوں انقلابات دیکھے۔ وقت کے دھارے پر بہتا یہ شہر ہر آنے والی تہذیب کو گلے لگاتا رہا اور ایک نیا روپ دھارتا رہا۔ وقت کے ساتھ نہ صرف اس کا نام اور تہذیب بدلی بلکہ ذائقے بھی بدلتے رہے۔

سنہ 1639 میں مغل بادشاہ شاہجہاں نے شاہجہاں آباد کی بنیاد رکھی جو کہ مغلوں کی شان و شوکت کا شہر بنا۔ شعرو شاعری کا مرکز رہا، پیسے کی ریل پیل تھی، شاہجہاں آباد کی رونق کا مرکز چوک تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Salma Husain
Image caption مغلوں کے دسترخوان پر انواع و اقسام کے کھانے ہوتے تھے

اس کے بازار ہنگاموں اور رونق سے پر تھے۔ چھلکارہ کٹورہ بجاتا چلا آ رہا ہے، ’میاں آب حیات ہے شربت نہیں۔‘ ککڑیاں سجائے خوانچے والا آواز لگاتا ہے: ’لے لو بھائی لے لو، لیلی کی انگلیاں، مجنوں کی پسلیاں۔‘ گرما گرم پکوان خوانچوں میں دھرے ہیں۔ لونگ چڑے، قلمی بڑے، تئی کے کباب، کلیجی کی سیخیں۔ گاہک پر گاہک ٹوٹا پڑتا ہے۔ واہ کیا سماں ہے۔

کھائے نہ کھائے خوشبو سے دل سیر ہو جائے۔ اگر نہاری 12 مصالحے کی چاٹ تھی تو حلیم تین ہانڈی کا پکوان۔ شاہی حلوائی بہت نفاست سے ادرک گاجر کے حلوے بنانے کے لیے بیٹھے کہ انگور ایسے کہ اصل کا گمان ہو۔ بریانی زردے کی دیگیں کھلیں اور گاہک ٹوٹ پڑے۔ یہ تھا سماں دلّی چوک کا۔

مغل سلطنت پر زوال کیا آيا شاہی باورچی خانوں کے چولھے ٹھنڈے پڑ گئے۔ کباب اور بریانی کی خوشبو ہوا میں گم ہو گئی۔ چاندنی چوک کی دکانیں ویران اور خوانچے فروشوں کی آوازیں سرے سے غائب ہو گئیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Salma Husain
Image caption سیخ کباب کا بازار ایک بار پھر سے گرم ہوا

ملک کی تقسیم نے دلّی کو تندور سے آشنا کیا، سانجھا چولہا سلگنے لگا اور گرما گرم روٹیاں سکنے لگیں۔ موتی محل جیسے ریستوراں شہر کی رونق بنے۔ تندوری مرغ، مکھنی چوزہ، دال مکھنی، بھٹی کا مرغ جیسے پکوان انھی کے مرہون منت ہیں۔

مسلمانوں کے علاوہ غیر مسلموں کے ہاں بھی عمدہ اور لذیذ کھانے پکنے لگے۔ کائستھوں کو آدھا مسلمان کہا جاتا ہے۔ یہ ترکاری کے ساتھ گوشت کا استعمال خوب کرتے تھے۔ کہتے ہیں شب دیگ کی روایت انھی پر ختم ہو گئی ہے اور مسور کی دال کا کیا کہنا، مچھلی کے کوفتے، خستہ بھنڈی، کریلے ایسے مہکتے کہ تازے کا گمان ہو۔

تجارت پیشہ مارواڑی گوشت مچھلی سے پرہیز کرنے والے پنیر، پالک، اروی اور بیسن کے ایسے عمدہ پکوان بناتے کہ جی چاہے کھاتے جاؤ۔ یہ لہسن اور پیاز کے کھانے نہ صرف صحت مند بلکہ لذت سے بھی بھرپور ہوتے ہیں۔ چاٹ کے خوانچے والے گھر گھر آواز لگانے لگے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Salma Husain
Image caption بدلتے زمانے کے ساتھ ذائقے بھی بدلے

’دلّی کے بڑے میاں سوری لڑے‘

’کھاؤ پکوڑی، بنو کروڑی‘

جب وقت نے بہتے زخموں پر مرہم رکھا اور زندگی پرسکون ہوئی تو قلعہ معلی کے کھانوں سے دلّی کی ویران گلیاں آباد ہوئیں۔ بھٹیارے سرائے چھوڑ کر شہر کی گلیوں میں آ بسے اور اپنے چولھے روشن کیے۔ آج بھی ان کی روٹی انھی پرانے کھانوں کی روایات کا حصہ ہیں لیکن وہ نزاکت اور نفاست کہاں؟ نہ وہ روپے رہے اور نہ وہ لگن۔ زندگی کی تیز دھوپ میں سب کچھ جھلس کر رہ گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Salma Husain
Image caption کباب اور پراٹھے اب تک مقبول ہیں

عصر حاضر نے ایک بار پھر کوشش کی ہے کہ دہلی کے ذائقوں کو پھر سے مروج کریں اور پرانی لذتوں سے لوگوں کو آشنا کریں۔ دلّی دراصل ایک ایسی دیگ ہے جس میں ہر مذہب و ملت کے ذائقے موجود ہیں۔

خدا کرے کہ ہو جائے یہ چمن پھر آباد

مثال گل ہوں باشندے یاں کے خرم وشاد

سلمیٰ حسین کھانا پکانے کی شوقین، ماہر طباخ اورکھانوں کی تاریخ نویس ہیں۔ ان کی فارسی زباندانی نے عہد وسطی کے مغل کھانوں کی تاریخ کے اسرار و رموز ان پر کھولے۔ انھوں نے کئی کتابیں بھی لکھی ہیں اور بڑے ہوٹلوں کے ساتھ فوڈ کنسلٹنٹ کے طور پر بھی کام کرتی ہیں۔ سلمیٰ حسین ہمارے لیے مضامین کی ایک سیریز لکھیں گی جس کی یہ پہلی کڑی ہے۔

اسی بارے میں