’خراب کارکردگی‘ پر بینک ملازمین کی سرعام پٹائی

تصویر کے کاپی رائٹ Peoples Daily
Image caption پیر کو منظرعام پر آنے والی ویڈیو بظاہر حاضرین میں موجود کسی فرد نے سمارٹ فون سے بنائی تھی

چین میں ایک تربیتی مشق کے دوران ایک بنک کے ملازمین کو خراب کارکردگی پر سرعام پٹائی کی ویڈیو منظرعام پر آنے کے بعد غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

یہ ویڈیو پہلی بار پیپلز ڈیلی نے نشر کی تھی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک ٹرینر عملے کے آٹھ ارکان سے پوچھ رہا ہے کہ تربیت کے دوران ’ان میں بہتری‘ کیوں نہیں آئی۔

اس کے بعد وہ بظاہر ایک چھڑی سے ان کی پٹائی کرتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق بعد میں ان افراد کے سر بھی منڈ دیے گئے تھے۔

بنک کے دو اعلیٰ افسران کو معطل کر دیا گیا ہے۔

پٹائی کا یہ واقعہ سنیچر کو شمالی چین میں چانگژی زینگزی رورل بینک کے دو سو ملازمین کے تربیتی سیشن کے دوران پیش آیا۔

ٹرینر جیانگ یانگ کے معذرت نامہ جاری کیا ہے اور کہا ہے پٹائی کا طریقہ وہ ’کئی برسوں سے استعمال کر رہے ہیں‘ اور اس کے لیے انھیں بینک کے اعلیٰ افسران کی جانب سے ہدایات نہیں ملی تھیں۔

پیر کو منظرعام پر آنے والی ویڈیو بظاہر حاضرین میں موجود کسی فرد نے سمارٹ فون سے بنائی تھی۔

جیانگ یانگ کو آٹھ بینک ملازمین کو دھمکاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، وہ پوچھ رہے ہیں کہ انھوں نے تربیتی مشق کے دوران سب سے کم سکور کیوں حاصل کیے۔

ملازمین کو اس قسم کے جواب دے رہے ہیں کہ ’میں ذاتی طور پر ناکام رہا‘، ’میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ تعاون نہیں کر سکا‘، اور ’میرے اندر ہمت کی کمی ہے۔‘

کم از کم چار بار ان افراد کو باری باری ضرب لگائی جاتی ہے جن میں ایک خاتون درد سے کراہتی بھی ہیں۔

چانگژی کی مقامی حکومت کی طرف سے جاری کردہ پیغام کے مطابق پٹائی کے بعد ’بال کاٹنے کی سزا‘ دی جاتی ہے۔

چینی میڈیا کے مطابق مردوں کے سر کے بال منڈ دیے گئے ہیں جبکہ خواتین کے بال کاٹے گئے۔

شانسی رورل کریڈٹ کوآپریٹیوز یونین کے جانب سے جاری کردہ بیان کے کہا گیا ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں جبکہ بینک کے چیئرمین اور نائب گورنر کو معطل کر دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں