غیر قانونی تارکینِ وطن پر امریکی سپریم کورٹ منقسم

امریکی سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ وہ صدر براک اوباما کے ملک میں موجود لاکھوں غیر قانونی تارکینِ وطن کو تحفظ دینے کے منصوبے کے بارے میں منقسم رائے رکھتی ہے۔

ملک کی اعلیٰ ترین عدالت میں اس اہم معاملے پر پائی جانے والی تقسیم کو سنہ دو ہزار چودہ میں کانگریس سے بالا غیر قانونی تارکینِ وطن کو ملک بدری سے تحفظ دینے کے صدر اوباما کے فیصلے کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

سپریم کورٹ کی طرف سے ایک سطری رائے نے در حقیقت صدر اوباما کے دورۂ اقتدار کے دوران ان کے اس فیصلے پر عملدرآمد کو عملاً روک دیا ہے۔

صدر اوباما نے کہا اس فیصلے پر عملدر آمد پر قدغن سے لاکھوں لوگوں کی دل شکنی ہو گی۔

انھوں نے وائٹ ہاؤس میں کہا کہ ’وہ ہر لحاظ سے امریکن ہیں لیکن صرف لفظوں کی حد تک۔‘

انھوں نے اس فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ جلد یا بدیر اصلاحات کرنی ہی پڑیں گی۔

انھوں نے کہا کہ کانگریس ان امریکیوں کو زیادہ دیر تک نظر انداز نہیں کر سکتی۔

امریکی ریاست ٹیکساس کی قیادت میں چھبیس دیگر ریاستوں نے، جن میں رپبلکن پارٹی کی حکومت ہے، صدر اوباما کے اس فیصلے کو چیلنج کیا تھا اور اب اس فیصلے کی قانونی حیثیت کے بارے میں فیصلہ نچلی ضلعی عدالت میں ہو گا۔

نو رکنی بنچ میں جسٹس انتونن سکلیا کی وفات کی وجہ سے سپریم کورٹ میں تعطل پیدا ہوا اور ان کی جگہ ابھی بھی خالی ہے۔

سپریم کورٹ کا یہ پہلا فیصلہ ہے جو ’ٹائی‘ ہو گیا ہے یا جس پر چار جج ایک طرف اور چار جج ایک طرف ہو گئے ہیں۔ صدر اوباما کی طرف سے نامزد کردہ جج کیرک گارلینڈ کی کانگریس توثیق نہیں کر رہے ہے۔

اسی بارے میں