امتحان کے 47 سال بعد طلائی کا تمغہ مل ہی گیا

تصویر کے کاپی رائٹ Abha Sharma

انڈیا میں ایک 81 سالہ شخص کو آخر کار اب سے 50 سال قبل دیے گئے قانون کے امتحان میں ٹاپ کرنے پر اعزازی طلائی کا تمغہ دے دیا گیا ہے۔

اجیت سنگھ سنگھوی سنہ 1969 میں راجستھان یونیورسٹی میں ہونے والے امتحانات میں دوسری پوزیشن پر آئے تھے۔

تاہم انھوں نے اس نتیجے کو یہ کہہ کر ماننے سے انکار کردیا تھا کہ وہ پہلی پوزیشن کے حق دار ہیں۔

بعد میں اجیت سنگھ سنگھوی کو یونیورسٹی کی جانب سے اور قانونی لڑائی میں تاخیر ہونے کے باعث جمعرات کو یہ اعزازی تمغہ دیا گیا۔

ریٹائرڈ سول سرونٹ اجیت سنگھ نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ ’تاخیر سے ملنے والے اس تمغے پر انھیں بہت خوشی ہوئی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’میں بہت خوش ہوں، لیکن کاش مجھے یہ میڈل بہت پہلے مل گیا ہوتا۔اس سے میری ملازمت میں مجھے بہت مدد ملتی۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ سنہ 1969 میں انھوں نے مقدمہ کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ ان کے خیال میں ’یونیورسٹی کا ٹاپر کا فیصلہ کرنے کا نظام غلط تھا۔‘

اس کے بعد سنہ 1975 میں لوئر کورٹ نے ان کے حق میں فیصلہ دیا اور یونیورسٹی بھی اس پر متفق ہوگئی کہ انھوں نے ہی امتحان میں ٹاپ کیا تھا۔

لیکن پھر ہوا کچھ یوں کہ سوائی سنگھ جنھیں اس وقت ٹاپر قرار دیا گیا تھا اور اصل میں طلائی کا تمغہ دیا گیا تھا نے اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا جس کے بعد ایک طویل قانونی جنگ کا آغاز ہو گیا۔

سنہ 2003 میں اجیت سنگھ کی 34 سالہ قانونی لڑائی کا اختتام ہوا جب راجستھان کی ہائی کورٹ نے ان کے حق میں فیصلہ دیا اور سوائی سنگھ نے بھی اس فیصلے کے خلاف اپیل نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

تاہم اجیت سنگھ کو اس کے بعد بھی تمغہ حاصل کرنے میں مزید 13 سال لگے جسے یونیورسٹی نے ’کاغذی کارروائی کے باعث تاخیر، بتایا۔

اجیت سنگھ کے ایک دوست تریلوچن سنگھ نے اس موقع پر کہا کہ ’اجیت نے باقی لوگوں کے لیے ایک مثال قائم کی ہے کہ اگر آپ کو یقین ہو تو ضرور مقابلہ کرنا چاہیے۔‘

اسی بارے میں