برطانیہ کے فیصلے کا انڈیا پر کیا اثر پڑے گا؟

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے تخمینوں کے مطابق یورپی یونین سے انخلا کے نتیجے میں برطانوی معیشت کا حجم پانچ فیصد تک کم ہوسکتا ہے اور یہ انڈین معیشت کے لیے بھی بری خبر ہے

انڈیا کا شمار دنیا میں سب سے تیزی کے ساتھ ترقی کرنے والی بڑی معیشتوں میں کیا جاتا ہے اور یورپ میں کاروبار کرنے والی انڈین کمپنیاں اکثر برطانیہ میں ہی اپنے صدر دفاتر قائم کرنا پسند کرتی ہیں۔

تو انڈیا کے لیے برطانوی عوام کے اس فیصلے کے کیا مضمرات ہوں گے؟

* برطانیہ کا یورپی یونین سے علیحدگی کے حق میں ووٹ

* ریفرینڈم کا نتیجہ: برطانوی وزیراعظم کا عہدہ چھوڑنے کا اعلان

* ریفرینڈم کے بعد برطانوی بازارِ حصص میں شدید مندی

یہاں فکر یہ ہے کہ برطانیہ کے اخراج سے جو عدم استحکام کی کیفیت اب پیدا ہوگی، کیا اس سے نمٹنے کے لیے انڈین معیشت تیار ہے؟

اس فکر کا اثر جمعے کی صبح ہی سے سٹاک مارکیٹوں میں نظر آنا شروع ہوگیا تھا۔ جب سٹاک بازار خطرناک پانیوں میں داخل ہوتے ہیں تو سرمایہ کار اپنا پیسہ سونے میں لگاتے ہیں۔ آج سونا مہنگا ہوا اور سٹاک مارکیٹوں میں بھاری نقصان دیکھنے کو ملا۔

تاہم انڈیا کے نائب وزیر خزانہ جینت سنہا نے کہا کہ ملک ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔

ان کا کہنا تھا برطانوی عوام کے فیصلے سے عدم استحکام تو پیدا ہوگا لیکن ہماری معیشت کی بنیاد کافی مضبوط ہے۔ ہم سٹاک مارکیٹ اور کرنسی مارکیٹ میں ری ایڈجسٹمنٹ دیکھ رہے ہیں، یعنی بازار کے بدلے ہوئے حالات سے ہم آہنگ ہو رہے ہیں۔‘

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے تخمینوں کے مطابق یورپی یونین سے انخلا کے نتیجے میں برطانوی معیشت کا حجم پانچ فیصد تک کم ہوسکتا ہے اور یہ انڈین معیشت کے لیے بھی بری خبر ہے۔

Image caption برطانیہ میں سرمایہ کاری کرنے والے ممالک کی فہرست میں انڈیا تیسرے نمبر پر ہے، وہاں تقریباً 800 ہندوستانی کمپمیاں کاروبار کر رہی ہیں، جن میں تقریباً ایک لاکھ دس ہزار لوگ کام کرتے ہیں۔ ان میں ٹاٹا جیسی کمپنیاں بھی شامل ہیں

پراجیکٹس کی تعداد کے حساب سے برطانیہ میں سرمایہ کاری کرنے والے ممالک کی فہرست میں انڈیا تیسرے نمبر پر ہے، وہاں تقریباً 800 ہندوستانی کمپنیاں کاروبار کر رہی ہیں، جن میں تقریباً ایک لاکھ دس ہزار لوگ کام کرتے ہیں۔ ان میں ٹاٹا جیسی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔

انڈین کمپنیاں پورے یورپ سے زیادہ برطانیہ میں سرمایہ کاری کرتی ہیں۔ کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری کے ڈائرکٹر جنرل چندرجیت بنرجی کےمطابق اگر ان کمپنیوں کو یورپ تک بے روک ٹوک رسائی حاصل نہیں ہوگی، تو ان کے کاروبار متاثر ہوسکتے ہیں۔

ایک اور بڑا خطرہ یہ ہے کہ بازاروں میں عدم استحکام کے خطرے کے پیش نظر غیر ملکی سرمایہ کار سٹاک مارکیٹوں سے اپنا پیسہ نکال سکتے ہیں۔ جب غیر ملکی سرمایہ کار اپنا پیسہ نکالتے ہیں، تو وہ ڈالر خریدتے ہیں اور اس سے روپے کی قدر متاثر ہوتی ہے اور فارن کرنسی کے ذخائر کم ہوتے ہیں۔

فی الحال انڈیا کے پاس 363 ارب ڈالر کے ذخائر ہیں اور ریزرو بینک کےگورنر رگھو رام راجن کے مطابق ضرورت پڑنے پر وہ بازار میں مداخلت کرنے سے نہیں ہچکچائیں گے لیکن عام تاثر یہ ہے کہ روپے کی قدر کم ہوگی۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں کام کرنے والی کمپنیوں کے لیے بھی مشکلات پیدا ہوں گی۔ ان کمپنیوں کی نمائندہ تنظیم ناسکوم کے مطابق 108 ارب ڈالر کے اس شعبے کو کتنے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، یہ کچھ عرصے بعد ہی واضح ہوگا۔

ناسکوم کا کہنا ہے کہ یورپ ہندوستانی آئی ٹی کمپنیوں کا دوسرا سب سے بڑا بازار ہے جہاں سے انھیں تقریباً 30 فیصد کاروبار ملتا ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ پاؤنڈ کی قدر میں کمی ہونے سے ان کمپنیوں کے موجودہ کانٹریکٹ منافع بخش نہیں رہیں گے۔

انڈین طالب علموں کے لیے بھی یہ لمحہ فکریہ ہے۔ وہ بڑی تعداد میں برطانیہ پڑھنے جاتے ہیں لیکن وہاں امیگریشن کے قوانین میں سختی کے بعد سےان کی تعداد مسلسل کم ہو رہی ہے۔

اب امکان ہے کہ یہ قوانین مزید سخت کیے جائیں گے جن کا براہ راست اثر طلبہ پر بھی پڑے گا۔

اسی بارے میں