چین میں طوفان اور آندھی سے ہلاکتوں کی تعداد 98 ہو گئی

Image caption ایک ساٹھ سالہ خاتون نے کہا کہ انھوں نے اپنی زندگی میں ایسا شدید طوفان نہیں دیکھا جس میں چھتیں اڑ گئيں اور دیواریں بیٹھ گئیں

چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق ملک کے مشرقی صوبے جیانگسو میں طوفان اور تیز ہواؤں سے کم از کم 98 افراد ہلاک جبکہ 800 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

جمعرات کی شب آنے والے اس طوفان کے ساتھ تیز بارشیں بھی ہوئیں۔

٭ چین میں طوفان اور آندھی سے 78 افراد ہلاک

٭ چین میں خراب موسم کے باعث درجنوں ہلاک

طوفان کے باعث زخمی ہونے والے 800 افراد میں سے 200 کی حالت تشویشناک ہے جب کہ سینکڑوں مکان بھی تباہ ہو گئے ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تقریبا ساڑھے آٹھ ہزار مکانات اور آٹھ فیکٹریوں کی عمارتوں کو نقصان پنہچا ہے۔

ریاست کے آگ بجھانے والے محکمے کے سربراہ نے کہا کہ ملبے کے نیچے زندہ بچنے والوں کی تلاش کا کام مکمل ہو چکا ہے اور اب ملبہ ہٹانے کا کام جاری ہے۔

سرکاری نیوز ایجنسی شن ہوا نے کہا ہے کہ نصف صدی میں چین میں آنے والا یہ خطرناک ترین طوفان تھا۔

ایک ساٹھ سالہ خاتون نے کہا کہ انھوں نے اپنی زندگی میں ایسا شدید طوفان نہیں دیکھا جس میں چھتیں اڑ گئيں، دیواریں بیٹھ گئیں اور کاریں نہروں میں ڈوب گئیں

شن ہوا کے مطابق امدادی کارکن زخمی ہونے والے افراد کو ایمبولینسز میں لے کر جا رہے ہیں جہاں انھیں کھانا اور پانی دیا جا رہا ہے۔

چین کے مشرقی صوبے جیانگسو میں شدید بارش اور طوفان نے امداری کاموں کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

حکام کے مطابق صورتِ حال پر قابو پانے کے لیے 1,300 مزید پولیس اہلکاروں کو متاثرہ افراد کی مدد کے لیے متحرک کر دیا گیا ہے جبکہ بیجنگ سے ٹینٹ اور دیگر ضروری اشیا کو روانہ کیا جا رہا ہے۔

رواں ہفتے کے آغاز میں جنوبی چین میں آنے والے سیلاب سے 22 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

طوفان کے بارے میں منظر عام پر آنے والے ایک ویڈیو میں زخمی بچہ جیسے ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے اور گاڑیاں الٹی پڑی ہیں، درخت اکھڑ گئے ہیں اور سٹریٹ لایٹس کے کھمبے گر گئے ہیں بجلی کی فراہمی کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔

ایک مقامی رہائیشی نے چین کی سرکاری نیوز ایجنسی شن ہوا کو بتایا کہ ’یہ بالکل ایسا تھا جیسے دنیا ختم ہو گئی ہے۔‘

’میں تیز آندھی کی آواز سنی تو کھڑکی بند کرنے کے لیے اوپر بھاگا۔ میں ابھی مشکل سے ہی اوپر کی منزل پر پہنچا تھا کہ میں نے ایک زوردار آواز سنی اور دیکھا کہ کھڑکی سمیت دیوار گر چکی ہے۔‘

چین کے صدر شی جن پنگ نے طوفان سے متاثرہ افراد کی ’ہر ممکن امداد‘ کا حکم دیا ہے۔

رواں ہفتے کے دوران چین کے بیشترً علاقوں میں طوفانی بارشیں ہوئی ہیں۔ ملک کے جنوبی حصے میں آنے والے سیلاب سے تقریباً دو لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق اس سیلاب کی وجہ سے معیشت کو 41 کروڑ ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔

اسی بارے میں