دہلی میں رائے شماری کے اعلان سے سیاسی حلقوں ميں کھلبلی

Image caption دہلی کو مکمل ریاست کا درجہ حاصل نہ ہونے کے سبب وزیرِ اعلی اروند کیجریوال کی حکومت کو اپنےتمام فیصلوں کےنفاذ اور عمل میں وفاقی حکومت کی جانب سے شدید رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے

برطانیہ میں یورپی یونین میں رہنے یا نہ رہنے کے سوال پر رائے شماری کے بعد دہلی کے وزیرِ اعلی اروند کیجریوال نے اعلان کیا ہے کہ وہ دہلی کو مکمل ریاست کا درجہ دینے کےسوال پر جلد ہی قومی دارالحکومت میں برطانوی طرز پر رائے شماری کرائیں گے۔

ان کے اس اعلان سے سوشل میڈیا اور ان کے سیاسی مخالفین کی صفوں میں بے چینی پیدا ہو گئی ہے۔

دہلی اگرچہ ایک ریاست ہے لیکن شہری ترقی، پولیس اور امن و قانون کے نفاذ جیسے بنیادی ادارے وفاقی حکومت کے ہاتھ میں ہیں۔

کانگریس اور بی جے پی دونوں ہی جماعتوں نے انتخابات میں دہلی کو مکمل ریاست کا درجہ دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن ‏عام آدمی پارٹی کی جیت کے بعد وہ اپنے وعدے سے مکر گئیں۔

دہلی کو مکمل ریاست کا درجہ حاصل نہ ہونے کے سبب وزیرِ اعلی اروند کیجریوال کی حکومت کو اپنےتمام فیصلوں کےنفاذ اور عمل میں وفاقی حکومت کی جانب سے شدید رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

گذشتہ جمعے کو ہی مودی حکومت نے دہلی اسمبلی کے منظور شدہ 14 اہم بلوں کو یہ کہ کر مسترد کر دیا تھا کہ انھیں اسمبلی میں منظور کرنے سے پہلےوفاقی حکومت سے ان کی منظوری نہیں لی گئی تھی۔

رائے شماری کرانے کے کیجریوال کےاعلان سے سوشل میڈیا میں ان کے خلاف بیانات کی جنگ چھڑ گئی ہے۔ انھیں نراجیت پسند، پاکستان کا ایجنٹ اور نہ سمجھ وغیرہ قرار دیا جا رہا ہے ۔ کئی مبصرین نے دہلی میں رائے شماری کرانے کےتصور کو قومی سلامتی اور ملک کی سالمیت کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔

اروند کیجریوال کا کہنا ہے کہ مودی حکومت ان سے خوفزدہ ہے اور انھیں ہرقیمت پر ناکام کرنا چاہتی ہے۔ ملک کی سب سے بڑی پارٹی کانگریس اب سمٹتی جا رہی ہے اور اس کی جگہ بی جے پی لے چکی ہے۔

ملک میں کوئی جماعت اس حالت میں نہیں ہے جو مودی حکومت کو چیلنج کر سکے۔ صرف ‏عام آدمی پارٹی ایک ایسی جماعت ہے جو گذشتہ دو برس سے بی جے پی کے لیے ایک بڑی سیاسی مشکل بنی ہو ئی ہے۔

دہلی میں حکومت قائم کرنے کے بعد عام آدمی پارٹی اب قومی سطح پر اپنا دائرہ بڑھانےکی تیاریاں کر رہی ہے۔ بی جے پی نےسوشل میڈیا، ہمنوا ٹی وی چینلوں، مبصرین اور اشتہارات کےذریعے کیجریوال اور ان کی جماعت کو پوری طرح بے اعتبار، نہ اہل اور نراجیت پسند ثابت کرنے کے لیے اپنی پوری توانائی لگا رکھی ہے۔

آئندہ چند مہینوں میں ملک کی دو اہم ریاستوں اتر پردیش اور پنجاب میں انتخابات ہونے والے ہیں۔ پنجاب میں بی جے پی اکالی دل کےساتھ اقتدار میں ہے۔

دس برس کےاقتدار کے بعد یہ حکومت فی الوقت عوام میں کافی نا مقبول ہے۔ دہلی کے بعد پنجاب دوسری ریاست ہے جہاں عام آدمی پارٹی اقتدار میں آنے کی امید کر رہی ہے۔ عام آدمی پارٹی نے ریاست میں گھر گھر جا کر اپنی انتخابی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ ‏عام آدمی پارٹی نے گوا اورگجرات کے صوبائی انتخابات میں بھی الیکشن لڑنے کا اعلان کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption رائے شماری کرانےکے کیجریوال کےاعلان سے سوشل میڈیا میں کیجریوال کے خلاف بیانات کی جنگ چھڑ گئی ہے

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر عام آدمی پارٹی پنجاب میں اقتدار میں آ گئی تو یہ انڈیا کی سیاسی تاریخ کا ایک انتہائی اہم موڑ ثابت ہوسکتا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کے لیے اتر پردیش کا انتخاب جیتنا مستقبل کی سیاست کےلیے کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ ریاست کی سیاست کس کروٹ بیٹھے گی اس مرحلے پر یہ اندازہ لگانا مشکل ہے لیکن بی جے پی کے لیے یو پی میں جیتنے سے کہیں زیادہ پنجاب میں ‏عام آدمی پاٹی کی شکست زیادہ اہمیت کی حامل ہوگی۔

اگر ‏آپ آدمی پارٹی پنجاب میں فتح یاب ہو گئی تو وہ مسلسل زوال پزیر کانگریس کی غیر موجودگی میں بی جے پی کے ایک متبادل کے طور پر قومی سطح پر ابھر سکتی ہے اور یہ تصور بی جے پی کے لیے ایک ڈراؤنا خواب بنا ہوا ہے۔

اروند کیجریوال نے دہلی کو مکمل ریاست کا درجہ دینے کے بارے میں رائے شماری کرنے کا ہی اعلان نہیں کیا ہے۔ انھوں نے وزیر اعظم مودی کی خارجہ پالیسی پر بھی چوٹ ماری ہے۔

انھوں نے تمام کوششوں کےباوجود بھارت کو نیوکلیئر سپلائی گروپ کی رکنیت نہ دلا پانے پر کہا کہ وزیر اعظم مودی اس بات کی وضاحت کریں کہ وہ اپنے غیر ملکی دوروں میں کیا کر رہے تھے۔؟

بے جے پی اور کیجریوال کےدرمیان یہ لڑائی اب ریاست کی نہیں مستقبل کی سیاست کی جنگ ہے اور اس کا فیصلہ پنجاب اور اترپردیش میں ہو گا۔

اسی بارے میں