افغان فورسز اور دولت اسلامیہ کے درمیان جھڑپیں، ’143 ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ

افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار میں حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز اور خود کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کے جنگجوؤں کے درمیان جھڑپوں میں تقریباً 143 لوگ مارے جاچکے ہیں۔

صوبہ ننگرہار کے گورنر سلیم کندوزی نے مقامی صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جمعے کی رات دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نے ضلع کوٹ میں پہلے ایک حکومتی چوکی پر حملہ کیا۔

اس حملے کے بعد افغان سکیورٹی فورسز اور دولت اسلامیہ کے حملہ آوروں میں کئی گھنٹے مسلسل لڑائی کے نتیجے میں 131 دولت اسلامیہ کے حملہ آور اور 12 افغان سکیورٹی فورسز کے اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔

سلیم کندوزی کے مطابق اس لڑائی میں دولت اسلامیہ کے 36 جنگجو زمینی لڑائی میں جبکہ باقی کو فضائی حملوں میں ہلاک کیا گیا ہے۔

کندوزی نے کہا کہ دولت اسلامیہ نے جن چوکیوں پر قبضہ کیا تھا وہ بہت جلد ان سے واپس لے لی جائیں گی۔

انھوں نے اس خبر کی بھی تردید کی کہ دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نے کچھ خواتین کو اغوا کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ لڑائی کی وجہ سے کچھ لوگ اپنا گھر بار چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں منتقل ہوگئے تھے لیکن اب واپس اپنے گھروں کو آچکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC Bangla

واضح رہے کہ افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار میں ایک عرصہ سے دولت اسلامیہ کے جنگجو سرگرم ہیں۔

اُدھر افغان فوجی حکام کا کہنا ہے کہ شمالی صوبے قندوز میں بین الاقوامی فوجوں کے فضائی حملے میں کم از کم 16 طالبان جنگجوؤں کو ہلاک کردیاگیا ہے۔

فوج کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ضلع چھاردرے میں ڈرون حملے میں طالبان جیل کے سربراہ کو بھی مار دیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق یہ طالبان جنگجو ایک گاڑی میں سفر کر رہے تھے کہ ڈرون حملے میں مارے گئے۔

فوجی حکام کا کہنا ہے کہ مارے جانے والوں میں طالبان کے اہم کمانڈر ملا جنت گل جو کہ جیل کے سربراہ تھے، بھی شامل ہیں۔

دوسری جانب چھاردرے ضلع کے بعض مقامی عینی شاہدین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والے طالبان کے ساتھ دس وہ گرفتار افراد بھی مارے جاچکے ہیں جو بقول ان کے طالبان ان کو ایک کنٹینر میں نامعلوم مقام کی جانب لے جارہے تھے۔

عینی شاہدین کے مطابق ان افراد کے ہاتھ زنجیروں میں بندھے ہوئے تھے اور ان کی لاشیں بھی مکمل طور پر جل چکی تھیں۔

اسی بارے میں