ایرانیوں کا بیوروکریٹس کی تنخواہوں پر غصہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ٹوئٹر پر کچھ ایرانی صارفین نے اس معاملے کو مزاحیہ انداز میں پیش کیا

ایران کی حکومت کے لیے کام کرتے ہوئے آپ کتنا پیسہ کما سکتے ہیں؟

کئی ملازمین کی تنخواہوں کی رسیدیں آن لائن لیک ہونے اور ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے کے بعد یہ سوال ایران میں آن لائن ٹرینڈ کر رہا ہے۔

ان میں صرف زیادہ تنخواہیں ہی نہیں بلکہ بظاہر بونس، بلا سود قرضے اور واضح طور پر اضافی کام کا معاوضہ بھی شامل ہیں۔ مثال کے طور پر ایک پے سلپ کے مطابق ایک سرکاری بینک کے مینیجر کو ایک ماہ میں 50 ہزار پاؤنڈ ملے۔

اس کے برعکس دیگر سرکاری ملازمین جن میں اساتذہ، نرسیں اور صحافی شامل ہیں، انھوں نے ماہانہ تنخواہوں کی رسیدیں شائع کی ہیں جن میں کچھ کو ماہانہ 300 پاؤنڈ سے بھی کم تنخواہ ملی ہے۔

سیاسی طور پر رجعت پسند رجحان رکھنے والے ذرائع ابلاغ کے کچھ حصوں نے اس معاملے کو اعتدال پسندی کی جانب جھکاؤ‌ رکھنے والی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا ہے۔

تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ اس طرح کی تنخواہیں اور بونس سابق صدر محمود احمدی نژاد کے دور میں بھی دیے جاتے تھے۔

لیکن ایران میں یہ معاملہ ایک آن لائن احتجاج کی صورت اختیار کر چکا ہے جس میں رجعت پسند اور اصلاح پسند دونوں حلقے شامل ہیں۔ فیس بک اور ٹوئٹر کے بجائے اس بارے میں بات چیت موبائل چیٹ ایپلیکیشن ٹیلی گرام پر کی جا رہی ہے۔

ایک اور معروف طنزیہ چینل ماملکیٹ نے صارفین کو اپنا ردعمل آڈیو کلپس کی شکل میں بھیجنے کا کہا ہے۔ ایسے ہی ایک کلپ میں ایک نوجوان آدمی کا کہنا تھا کہ یہ اچھا ہے کہ تنخواہوں کے بارے میں تفصیلات لیک ہوئی ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ’میرے خیال میں ہمیں حکومت کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ کیونکہ اس نے ایسے سکینڈلز کو سامنے لانے کا ایک راستہ فراہم کیا ہے۔ ایسی ہی چیزیں اور کچھ چوریاں گذشتہ انتظامی ادوار میں بھی سامنے آئیں اور لوگ دن بہ دن غریب ہوتے گئے، لیکن اس بارے میں کسی نے بات نہیں کی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption ’مائی پے سلپ‘ ایران کے اصلاح پسند اخبار روزنامہ شرق کے صحافیوں کی جانب سے شروع کیا گیا

چینل کی جانب سے آڈیو کلپ بھیجنے والوں کی شناخت نہیں ظاہر کی گئی۔

ٹوئٹر پر کچھ ایرانی صارفین نے اس معاملے کو مزاحیہ انداز میں پیش کیا۔

ایک صارف نے دنیا بھر کے رہنماؤں کی تنخواہوں کی رسیدیں پوسٹ کیں جس میں لکھا تھا کہ ’اوباما نے بھی اپنی سی وی بھیجی ہے اور وہ اپنی مدت صدارت کے اختتام کے بعد ایران کے بینک میں ملازمت کے خواہاں ہیں۔‘

ایک اخبار نے ہیش ٹیگ ’پے سلپ چیلنج‘ شروع کیا جس میں تمام سرکاری ملازمین کو اپنی تنخواہوں کے بارے میں معلومات پوسٹ کرنے کا کہا گیا۔ اس پر کچھ لوگوں نے اپنا ردِ عمل بھی پوسٹ کیا۔ سابق وزیر رضا صالحی امیری نے 1200 پاؤنڈ ماہانہ کی رسید شائع کی۔

تنخواہوں سے متعلق دیگر کئی ہیش ٹیگ بھی ٹرینڈ کر رہے ہیں جن میں ’مائی پے سلپ‘ اور ’پے سلپس‘ شامل ہیں۔ ’مائی پے سلپ‘ ہیش ٹیگ ایران کے اصلاح پسند اخبار روزنامہ شرق کے صحافیوں کی جانب سے شروع کیا گیا جس میں ایرانی صحافیوں سے اپنی تنخواہوں کی رسیدیں شائع کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

ایران کے رہبراعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے حکومت سے اس معاملے کو ’پرعزم طریقے‘ سے سنبھالنے کا مطالبہ کیا ہے۔ صدر حسن روحانی کا کہنا ہے وہ زیادہ بونس حاصل کرنے والوں کے خلاف ’مناسب کارروائی‘ کریں گے۔

اسی بارے میں