افغان لڑکوں سے ’جنسی زیادتی‘ کی تحقیقات کا حکم

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے پولیس فورس میں منظم پیمانے پر لڑکوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزامات کی تحقیقات کا حکم دیا ہے اور کہا ہے کہ ملوث اہلکاروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

انھوں نے تحقیقات کا حکم فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کی اس رپورٹ کے بعد دیا جس کہاگیا ہے کہ جنسی زیادتی کے شکار لڑکوں کو طالبان پولیس کے خلاف بھرتی کرتے ہیں۔

اشرف غنی نے کہا کہ پولیس فورس میں لڑکوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنائے جانا برداشت نہیں کیا جائے گا اور اس میں ملوث اہلکاروں کو سزا دی جائے گی۔

افغانستان میں اس بات کے شواہد ملتے ہیں کہ سکیورٹی فورسز نوجوان لڑکوں کو جنسی روابط کے لیے بھرتی کرتے ہیں۔

اے ایف پی کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان جنسی زیادتی سے متاثر لڑکوں کو پولیس پر حملوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اور اب تک ایسے حملوں کے نتیجے میں سینکڑوں پولیس اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔

اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کے دور افتادہ جنوبی صوبے اروزگان میں پولیس فورس میں بھرتی ہوئے لڑکوں کی جانب سے حملوں میں دو سال میں سینکڑوں پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

اس رپورٹ کے بعد اقوام متحدہ سمیت عالمی سطح پر اس حرکت پر تنقید کی گئی تھی۔

صدارتی محل سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر اشرف غنی نے اروزگان کے واقعات کے حوالے سے مربوط تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

’پولیس فورس میں جس پر بھی یہ الزام ثابت ہوا اس کو افغان قوانین اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق سزا دی جائے گی۔‘

افغانستان میں چھوٹے لڑکوں کے ساتھ جنسی زیادتی قدیم رسم ہے جس کو ’بچہ بازی‘ بھی کہا جاتا ہے۔

اے ایف پی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کم عمر لڑکوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنا اروزگان میں عام ہے۔ پولیس کمانڈرز، جج، سرکاری حکام اور جنسی زیادتی سے متاثر لڑکوں کے حملوں میں بچ جانے والے افراد نے بتایا کہ طالبان جنسی زیادتی کا شکار لڑکوں کو بھرتی کرتے ہیں اور ان سے پولیس فورس پر حملے کراتے ہیں۔

تاہم طالبان نے ایسے حملوں میں بچوں کے استعمال کی تردید کی ہے۔

اس رپورٹ کے بعد کابل میں امریکی سفارتخانے کی جانب سے ایک بیان میں کہاگیا ’اے ایف پی کی رپورٹ میں بتائی گئی جنسی ہراس کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں۔ ہم افغان حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں ۔۔۔ وہ ان متاثرین بچوں اور ان کے اہل خانہ کی حفاظت کرے اور اس میں ملوث افراد کا احتساب کرے۔‘

اسی بارے میں