معروف پارسی خاندان کی یادگار تصویر

Image caption ممبئی کی کوزی بلڈنگ میں سنہ 1982 کی ایک شام کا منظر

انڈین منصفہ اور فوٹوگرافر سونی تارا پوریوالا معروف فلم ’نیم سیک‘ کی سکرین رائٹر ہیں اور وہ ’سلام بمبئی‘ کے لیے آسکر ایوارڈ کے نامزد ہو چکی ہیں۔

انھوں نے 31 سال قبل ممبئی میں انڈیا کے ایک مشہور و معروف پارسی خاندان کی تصویر کھینچی تھی جو ایک نمائش اور کتاب میں شامل ہوئی۔

حال ہی میں ان تصاویر میں دکھائے جانے والے خاندان کی آخری شخصیت کی وفات کے بعد سونی تارا پوریوالا نے اس کہانی کا پس منظر بیان کیا ہے۔

اگرچہ یہ کسی خاندان کی روزمرہ زندگی کا منظر ہے مگر مجھے صرف ایک فریم یاد ہے۔

یہ سنہ 1982 تھا جب میں نے فلم کے شعبے میں نیویارک یونیورسٹی سے گریجویشن کی۔ میں نے ٹکٹ کے پیسے اکٹھے کیے اور بمبئی (جو اب ممبئی کہلاتا ہے) میں واقع کوزی بلڈنگ میں موجود اپنے گھر آگئی۔

کوزی بلڈنگ گوالیا ٹانک کے قریب موجود چار پارسی عمارتوں میں سے ایک ہے۔

جس سال یہ عمارت تعمیر ہوئی میرے دادا، دادی اسی سال یہاں منتقل ہو گئے۔ یہاں ایک بڑے خاندان میں میری پرورش ہوئی۔ اہلِ خانہ میں میرے والدین فرینی اور رومی، میرے دادا آلو اور دادی آدرجی اور میرے دو غیر شادی شدہ چچا کیرسی اور آدی رہتے تھے۔

یہ گوالیا ٹانک کا علاقہ ہے جہاں سے مہاتما گاندھی نے سنہ 1942 میں ’ہندوستان چھوڑ دو‘ تحریک شروع کی تھی۔

بہترین تصویر

میں نہ چاہتے ہوئے بھی انڈیا سے جانے والی تھی۔ جب میں امریکہ لوٹنے لگی تب میری سہیلی راشدہ اپنے دو سالہ بیٹے مرتضیٰ کے ہمراہ مجھ سے ملنے آئی۔

Image caption میری دادی کی تصویر جو سنہ 1980 میں کھینچی گئی تھی

میں اس کے ساتھ بالکنی میں تھی، وہ ویفر کھا رہا تھا اور میں اس کی تصاویر لے رہی تھی اور جب میں مڑی تو میں نے اپنے خاندان کو ایک مکمل تصویر کی شکل میں دیکھا۔

میرے داد کے بھائی مانیک اخبار پڑھ رہے تھے۔ میرے چچا کیرسی باہر دیکھ رہے تھے اور میری خالہ پلو میرے دادا سے ملنے آ رہی تھیں جن کی آنکھیں بند تھیں۔

میں نے ایک ہی تصویر لی۔ معلوم نہیں زیادہ کیوں نہیں لیں؟

نہ چاہتے ہوئے بھی مجھے جانا پڑا۔ وہ آخری بار تھی جب میں نے اپنے پیارے مانیک کو دیکھا۔ اس کے کچھ ہی عرصے بعد وہ اس دنیا میں نہیں رہے۔

تصویر میں انھوں نے جو گھڑی پہن رکھی ہے وہ اب میں پہنتی ہوں اور یہ 34 سال بعد بھی صحیح کام کرتی ہے۔

مانیک نے شادی نہیں کی تھی۔ وہ اپنی بہن کے ساتھ رہتے تھے جو ہمارے گھر سے 20 منٹ کے فاصلے پر واقع ہے۔

Image caption میری والدہ فیری اور والد رومی کی تصویر جو رواں برس کی ہے

چاہے بارش ہو یا گرمی وہ سٹیلٹر روڈ پر واقع اپنے گھر سے ہر شام کو پانچ بجے ہمارے گھر آتے تھے، اور تین گھنٹے بعد لوٹ جاتے تھے۔ ان کا یہ معمول کبھی نہیں بدلا۔

چارمنگ

اس تصویر میں آدیر بہت زبردست لگ رہے ہیں۔ان کی آنکھیں بند ہیں جیسے وہ دنیا و مافیہا سے بیگانہ ہو گئے ہوں۔

وہ اچھے دل کے مالک تھے، مگر تھوڑے تھوڑے سنکی بھی تھے، لوگوں میں زیادہ گھلتے ملتے نہیں تھے اور دادی کے لیے یہ بات شرمندگی کا باعث ہوتی تھی۔ کیونکہ دادی بالکل مختلف تھیں۔ چارمنگ، گھومنے پھرنے کی شوقین، ہلہ گلہ پسند کرنے والی، اور ان سے سب بہت محبت کرتے تھے۔

وہ اس تصویر میں دکھائی نہیں دے رہیں لیکن شاید وہ بھی بالکنی ہی میں کیمرے سے دور موجود تھیں اور اپنے دیور سے کہہ رہی تھیں: ’تم یہاں باتیں کرنے آئے ہو یا اخبار پڑھنے؟‘

میری خالہ پلو کے لمبے اور خوبصورت پاؤں تھے وہ بھی شاید مجھےگڈ خداحافظ کہنے کے لیے آئی تھیں۔

Image caption میری والدہ میرے بیٹے جہان کے ساتھ

وہ کچھ کہہ رہی تھیں لیکن کوئی انھیں سن نہیں رہا تھا۔ شاید کیرسی سن رہے تھے اور ان کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔

میرے انکل کیرسی کو کرکٹ کا بہت شوق تھا۔ 1936 میں انڈیا کی ٹیم میں ان کے انکل خورشید میہی ہومجی وکٹ کیپر تھے۔

نامکمل

کیرسی کو ٹی وی کے اشتہارات سے نفرت تھی اور وہ اپنے کمرے میں اپنی دنیا میں موسیقی سنا کرتے تھے اور ٹی وی پر کرکٹ میچ اور اپنی جوانی کے زمانے کی ہالی وڈ کی فلمیں دیکھتے تھے۔

میرے پیارے انکل کیرسی اسی بالکنی میں 12 جون کو انتقال کر گئے۔

اگرچہ اس تصویر میں موجود سب لوگ دنیا سے جا چکے ہیں، مگر میں جانتی ہوں وہ اب بھی اردگرد ہیں، میں نےاپنی زندگی میں بہت بار ان کی موجودگی اور ان کی محبت محسوس کی ہے۔

Image caption میری بیٹی ایان کی تصویر جو اسی سال لی گئی

میں جانتی ہوں وہ میری ماں اور باپ کو میرے چچا آدی، میرے شوہر فردوس اور ہمارے بچے جہان اور ایانہ کو دیکھتے ہیں جب شام وہ اخبار پڑھ رہے ہوتے ہیں۔

کوزی عمارت کی شامیں اب بھی آباد ہیں۔

میرے والد بتاتے ہیں کہ کیسے پرانے زمانے میں یہاں سے ماتھیران کی پہاڑیاں بھی دکھائی دیتی تھیں۔ اب اس کا تصور کرنا مشکل ہے۔ اب ہمیں ان کی بجائے اونچی عمارتیں نظر آتی ہیں۔

بحیثیت مصنف میرا تصور مستقبل کو دیکھتا ہے جس میں مستقبل کی کسی فلم کی کہانی کی طرح کوزی عمارت بھی دیوقامت عمارتوں کے اندر گھر جائے گی۔

اسی بارے میں