محبوبہ مفتی کی تیکھی باتیں

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ’کشمیر میں حالات سازگار نہیں ہیں۔کشمیری پنڈت آئیں گے تو کہا رہیں گے‘

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کھری کھری باتیں کہنے لیے مشہور ہیں۔

ان کے بولڈ بیابات کی وجہ سے ہی وہ گذشتہ 20 سال سے کشمیر کی ہندنواز سیاست پر چھائی رہیں۔

دو ماہ قبل جب وہ اپنے والد مفتی سعید کے انتقال کے بعد وزارت اعلیٰ کے عہدے پر براجمان ہوئیں، تو انھوں نے کئی ہفتوں تک خاموشی اختیار کرنے کے بعد جب بولنا شروع کیا تو ایک کے بعد ایک ان کے سبھی بیانات تنازعات کا باعث بنے۔

* محبوبہ مفتی کی مقبولیت کا امتحان

ایک ماہ سے جاری مقامی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے وادی چھوڑ کر جا چکے پنڈتوں کے لیے سکیورٹی حصار والی الگ کالونیاں تعمیر کرنے کے فیصلہ کا یوں دفاع کیا۔

’کشمیر میں حالات سازگار نہیں ہیں۔کشمیری پنڈت آئیں گے تو کہا رہیں گے۔ میں کبوتروں کو بلّی کے سامنے نہیں دھکیل سکتی۔‘

اس بیان پر نہ صرف ہندنواز اپوزیشن بلکہ علیحدگی پسند قیادت اور سوشل میڈیا پر عام کشمیریوں نے ان کی جم کر نکتہ چینی کی۔ رکن اسمبلی انجینئیر رشید نے تو یہاں تک کہا کہ کشمیر میں سات لاکھ بھارتی فوجیوں کی موجودگی میں عام کشمیری سہمے کبوتروں کی طرح رہتے ہیں۔

بعد میں جھیل ڈل کے کنارے ایک کافی ہاوس کے افتتاح کے دوران انہوں نے اس بات پر حیرانگی کا اظہار کیا کہ ’یہاں لڑکوں کی داڑھی لمبی ہو رہی ہے اور پاجامہ چھوٹا ہو رہا ہے۔‘ وہ یہ کہنا چاہتی تھیں کہ کشمیر کے روایتی صوفی اسلام پر اب سعودی اثرات نمایاں ہیں۔ اس پر مذہبی حلقوں میں وزیراعلی کے خلاف زبردست غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔

گذشتہ ہفتے ہی اسمبلی میں تقریر کے دوران انہوں نے کہا کہ یہاں کی مساجد کے ائمہ حضرات، مولویوں اور خطباء کو سیاسی امور پر حکومت مخالف تقریریں نہیں کرنی چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ INFORMATION DEPARTMENT
Image caption ’ یہاں کی مساجد کے ائمہ حضرات، مولویوں اور خطباء کو سیاسی امور پر حکومت مخالف تقریریں نہیں کرنی چاہیے‘

یہ بات انہوں نے ایسے وقت کی جب کشمیر کی خصوصی آئینی پوزیشن، فوجیوں اور کشمیری پنڈتوں کے لئے علیحدہ رہائیشی کیمپوں کی تعمیر ، بھارتی شہریوں کو کشمیر میں سرمایہ کاری اور صنعتی کارخانے لگانے کی اجازت اور دوسرے سرکاری فیصلوں پر سماجی حلقوں میں شدید بحث ہو رہی تھی۔ علیحدگی پسندوں کے مختلف خیموں نے تو ان ہی فیصلوں کے خلاف متحد ہوکر مہم کا آغاز کیا، جس کے ردعمل میں حکومت نے انہیں گرفتار یا گھروں میں نظربند کر لیا۔

اس بیان پر میرواعظ کشمیر عمرفاروق نے جامع مسجد میں وزیراعلیٰ کے بیان کو ’مضحکہ خیز‘ قرار دیا اور کہاں کہ کشمیر کے لوگ اور ’اہل علم‘ ایسے مسائل پر بات کرتے رہیں گے، جن پر یہاں کی زندگی کا داروومدار ہے۔

سوشل میڈیا پر اکثر حلقوں نے محبوبہ مفتی کے اس بیان کی زبردست نکتہ چینی کی۔ یہاں تک کہ ان کے مداحوں نے بھی وزیراعلیٰ کے بیانات کو ’غیرضروری اور غیرمطلوب‘ قرار دیا۔

تازہ تنازع کشمیر میں 25 جون کو ہوئے ایک مسلح حملے کے بعد محبوبہ مفتی کے ردعمل سے پیدا ہوا ہے۔ اس حملے میں آٹھ نیم فوجی اہلکار اور لشکر طیبہ کے دو مسلح حملہ آور مارے گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption تازہ تنازع کشمیر میں 25 جون کو ہوئے ایک مسلح حملے کے بعد محبوبہ مفتی کے ردعمل سے پیدا ہوا ہے۔ اس حملے میں آٹھ نیم فوجی اہلکار اور لشکر طیبہ کے دو مسلح حملہ آور مارے گئے

محبوبہ مفتی نے دوسرے دن مارے گئے نیم فوجی اہلکاروں کےاعزاز میں ہوئی پریڈ پر تقریر کی اور اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا: ’میں اس حملے کی مذمت کرتی ہوں۔ اور ساتھ ہی میں کہتی ہوں کہ رمضان کے مہینے میں یہ ہوا ہے جس کی وجہ سے بحیثیت مسلمان کے مجھے شرمندگی محسوس ہوگئی ہے۔ رمضان میں کسی کی ہلاکت قابل مذمت ہے۔‘

اس بیان سے تو عوامی حلقوں میں کہرام مچ گیا۔ تنازع مزید شدت کرگیا جب پوری دنیا میں متنازع ناول نگار تسلیمہ نسرین نے محبوبہ مفتی کو اس بیان پر شاباشی دی۔ تسلیمہ نے ٹویٹ کیا: ’میڈم سچ کہنے پر مبارک ہو۔ آپ نے کہا ہے کہ دہشت گردی اسلام کا ہی شاخسانہ ہے، جس پر مسلمانوں کو شرمندہ ہونا چاہیے۔‘

حالانکہ حکومت کا اصرار ہے کہ ان کے بیان کو توڑ مروڑ کے پیش کیا گیا، لیکن محوبہ کے اس صدا بند بیان میں الفاظ اس قدر واضح ہیں کہ ان کی تردید ممکن ہی نہیں۔

اپوزیشن نیشنل کانفرنس کے ترجمان جُنید عظیم متو نے ٹویٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا:

’محبوبہ تو وادی کی ڈونلڈ ٹرمپ نکلیں۔ کبھی ہمیں بلّی کہا جاتا ہے، اور کبھی دہشت گرد۔ اگر کوئی ہندو داراسنگھ اور بابو بجرنگی کی وجہ سے ہندومذہب پر شرمندہ نہیں ہے تو ہم کیوں مسلمان ہونے پر شرمندہ ہوں۔‘

ابھی یہ تنازع پوری طرح ٹھنڈہ نہیں ہوا تھا کہ انگریزی روزنامہ رائزنگ کشمیر میں پولیس ذرائع کے حوالے سے منظورالحسن کی ایک رپورٹ شائع ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق خفیہ پولیس تمام مساجد کے ائمہ اور خُطباء کی پروفائلنگ کرے گی، اور ان کے علیحدگی پسندانہ خطابات پر کڑی نظر رکھی جائے گی۔ واضح رہے حریت کانفرنس گ کے سربراہ سید علی گیلانی نے مسجدوں کے ائمہ اور خُطباء سے اپیل کی تھی کہ وہ حکومت کی ’کشمیرکُش‘ پالیسیوں سے متعلق لوگوں کو آگاہ کریں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ستاون سالہ محبوبہ مفتی اپنے والد اور سابق وزیراعلیٰ مفتی محمد سعید کے مقابلے غیرمحتاط ثابت ہوئی ہیں۔

مفتی سعید اپنی کم گوئی یا غیر واضح ردعمل کے لیے مشہور تھے۔ دس سال قبل جب لائن آف کنٹرول کے آر پار بس سروس کا آغاز ہوا تو ایک ٹی وی چینل پر ان سے کہا گیا کہ اس راستے سے ہتھیاروں کی سمگلنگ کو کیسے روکا جائے گا؟ انہوں نے نہایت مبہم انداز میں جواب دیا: ’میرا یہ ہے کہ جنوب ایشیاء میں امن کی فضا ہے۔ لوگ آئِیں گے، لوگ جائِیں گے۔ امن آئے گا۔ یہ دراصل لوگ چاہتے ہیں۔ ہوگیا ۔۔سب ٹھیک ہو جائے گا۔‘

مفتی سعید کبھی بھی براہ راست جواب نہیں دیتے تھے۔گذشتہ برس دسمبر میں جب انہوں نے بھارت کی قوم پرست جماعت بی جے پی کے ساتھ شراکت اقتدار کا معاہدہ کیا، تو سری نگر میں ایک ریلی کے دوران انہوں نے پرامن انتخابات کا کریڈیٹ دیا۔ بھارتی ٹیلی ویژن چینلز پر انہیں ’پاکستان نواز وزیراعلی‘ قرار دیا گیا اور بھاجپا کو بھی پارٹی سطح پر کافی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Majid Jahangir
Image caption کشمیر میں ہندو پنڈتوں کے لیے علیحدہ رہائشی مراکز بنانے کی باتیں کی جا رہی ہیں

علم سیاسیات کے طالب علم جاوید احمد میر کہتے ہیں: ’مفتی سعید دلّی والوں کی تنقید مول لیتے تھے، اور کشمیر میں مقبولیت حاصل کرتے تھے۔ لیکن محبوبہ جی تو لوگوں سے بے نیاز ہوگئی ہیں، وہ اب دلّی والوں کو خوش کرتی ہیں۔`

اکثر حلقے یہاں تک کہتے ہیں کہ وزیراعلی نے مشیروں کا جو حلقہ موٹی تنخواہوں کے عوض تعینات کیا ہے، وہ بھی محبوبہ مفتی کے متنازع بیان بازی کے لیے حکومت اور عوام کے سامنے جوابدہ ہیں۔

نوجوان صحافی سہیل بخاری کو حالیہ دنوں 80 ہزار روپے ماہانہ، رہائیش، سیکورٹی سٹاف اور دیگر مراعات کے عوض وزیراعلی کا میڈیا ایڈوائزر مقرر کیا گیا۔ اس کے علاوہ پروفیسر امیتابھ مٹو ان کے سیاسی مشیر ہیں۔

سعادت حسن نامی ایک بینک ملازم بھی چیف منسٹر سیکٹریریٹ میں مشاورت کے لیے ہی تعینات ہیں۔ان کی پارٹی کی نوجوان ونگ کے سربراہ وحیدالرحمن پرّہ بھی محبوبہ مفتی کی اہم مشاورت میں شامل ہوتے ہیں۔ لیکن اس سب کے باوجود محبوبہ مفتی جب بحیثیت وزیراعلیٰ کھری کھری سُناتی ہیں تو ان کا ہر نیا بیان سماجی، سیاسی اور مذہبی حلقوں میں کھلبلی مچا دیتا ہے۔

اسی بارے میں