این ایس جی: ’امریکہ بھارتی رکنیت کے لیے سرگرم ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ نیوکلیئر سپلائرز گروپ (این ایس جی) میں بھارت کی رکنیت کے لیے اپنی کوششوں میں لگا ہوا ہے

امریکہ نے کہا ہے کہ نیوکلیئر سپلائرز گروپ کی رکنیت کے لیے بھارت کی دعویداری کسی ایک ملک کے اعتراض کی وجہ سے رد نہیں کی جا سکتی۔

امریکہ کے سیاسی امور کے نائب وزیر تھامس شینن نے کہا ہے کہ امریکہ این ایس جی میں بھارت کی رکنیت کے لیے اپنی کوششوں میں لگا ہوا ہے۔

شینن نے سیول میں این ایس جی کے اجلاس میں انڈیا کو رکنیت نہ دیے جانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ ایک ایسی تنظیم میں جہاں فیصلہ اتفاقِ رائے سے ہوتا ہو، ایک ملک عالمی اتفاقِ رائے پر عمل سے نہیں روک سکتا۔‘

ان کا یہ بیان گذشتہ ہفتے جنوبی کوریا کے شہر سیول میں این ایس جی سے متعلق ہونے والی کانفرنس میں بھارت کی رکنیت کی چین کی جانب سے مخالفت کے بعد سامنے آیا ہے۔

چین نے کہا تھا کہ انڈیا نے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) پر دستخط نہیں کیے ہیں اس لیے اسے این ایس جی کی رکنیت نہیں مل سکتی ہے، کیونکہ رکنیت کے لیے یہ ایک بنیادی شرط ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ GETTY
Image caption چین کا کہنا ہے کہ بھارت کی حمایت کرنے والی امریکہ کی بھارت نواز پالیسی کا مقصد دراصل چین کو گھیرنا ہے

دہلی میں منگل کے روز بھارتی حکام سے ملاقات کے بعد امریکی لیڈر نے کہا کہ بھارت کا میزائل ٹیکنالوجی کنٹرول رجيم (ایم ٹي سي آر) میں داخل ہونا بتاتا ہے کہ بھارت ذمہ دار ہے اور جوہری عدم پھیلاؤ کا اہم کھلاڑی ہے۔

تھامس شینن نے کہا کہ اب دونوں ممالک کو مل کر اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ سیول میں جو کمی رہ گئی تھیں اگلی بار ان خامیوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس کی رکنیت یقینی ہو سکے۔

امریکی سفارت کار نے کہا کہ جنوبی چین کے سمندر میں چین جو کر رہا ہے، وہ پاگل پن ہے۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ بھارت بحرِ ہند میں ایک اہم کردار نبھائے۔

انھوں نے کہا کہ ابھرتے چین کو کنٹرول کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ انھوں نے کہا کہ بحرِ ہند میں انڈیا کی وسیع اور مضبوط موجودگی کے لیے امریکہ اس کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption چینی اخبار کے مطابق بھارت نے این پی ٹی پر دستخط نہیں کیے ہیں لیکن پھر بھی وہ این ایس جی میں شامل ہونے کے لیے سب سے خواہش مند درخواست گزار ہے

اس سے قبل این ایس جی کی رکنیت نہ ملنے پر بھارت نے چین کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔

چین کے سرکاری اخبار ’گلوبل ٹائمز‘ کے اداریہ میں بھارت کے الزامات کا چین نے جواب بھی دیا تھا۔

اخبار کے مطابق بھارت نے این پی ٹی پر دستخط نہیں کیے ہیں لیکن پھر بھی وہ این ایس جی میں شامل ہونے کے لیے سب سے خواہش مند درخواست گزار ہے۔

چین نے کہا کہ این ایس جی کے تمام ارکان نے این پی ٹی پر دستخط کیے ہیں۔ یہ اس تنظیم کا بنیادی اصول بن گیا ہے۔

اب بھارت این پی ٹی پر دستخط کیے بغیر این ایس جی میں شامل ہوکر اس اصول کا پہلا نافرمان بننا چاہتا ہے۔ لیکن یہ چین اور دیگر رکن ممالک کی عقلی ذمہ داری ہے کہ وہ اصولوں کی حفاظت کے لیے بھارت کی تجویز کو پلٹ دیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

اخبار نے لکھا تھا کہ بھارت کی آرزوؤں اور امنگوں کی امریکی حمایت نے سب سے زیادہ حوصلہ افزائی کی۔

اس کا کہنا تھا کہ بھارت کی حمایت کرنے والی امریکہ کی بھارت نواز پالیسی کا مقصد دراصل چین کو گھیرنا ہے۔

چین نے کہا کہ امریکہ پوری دنیا نہیں ہے۔ اس کی حمایت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انڈیا نے پوری دنیا کی حمایت حاصل کر لی ہے اور بھارت نے اسی بنیادی حقیقت کو نظر انداز کیا ہے۔

اسی بارے میں