کابل میں کیڈٹس کی بسوں پر حملے، ’کم از کم 30 ہلاک‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں حکام کا کہنا ہے کہ کابل کے مضافات میں افغان پولیس کے قافلے پر طالبان کے حملوں میں کم از کم 30 افراد ہلاک اور 50 کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔

حکام کے مطابق کابل کے مضافات میں ان بسوں کو نشانہ بنایا گیا جن میں کیڈٹس ایک تقریب میں شرکت کے بعد جا رہے تھے۔

پغمان ڈسٹرکٹ کے گورنر موسیٰ خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والے 30 افراد میں سے 28 کیڈٹس تھے۔

اس حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی ہے۔

پغمان کے گورنر حاجی محمد موسیٰ خان کے مطابق پہلے ایک خودکش حملہ ہوا اور اس کے بعد دو بسوں کے درمیان میں کار بم دھماکہ ہوا۔

افغان وزارت داخلہ کے ترجمان صدیق صدیقی کا کہنا ہے کہ بسوں پر دو حملے کیے گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ epa

حکام کا کہنا ہے کہ ابھی ہلاکتوں کی صحیح تعداد معلوم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

جس جگہ یہ حملہ کیا گیا ہے وہ کابل سے 20 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

کیڈٹس صوبہ وردک سے ٹریننگ کے بعد کابل واپس آ رہے تھے۔

خیال رہے کہ ایک ہفتہ قبل کابل میں نیپال سے تعلق رکھنے والے سکیورٹی اہلکاروں کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا تھا اور اس حملے میں 14 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں