دوراہے پر کھڑا بنگلہ دیش

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

اسلامی شدت پسندوں نے جمعے کی رات ڈھاکہ میں ’ہولی آرٹیزن بیکری‘ پر جس انداز اور بے باکی سے حملہ کیا اس سے انھوں نے جو پیغام دیا ہے وہ بہت واشگاف اور واضح ہے۔

شدت پسندوں نے کیفے پر یہ حملہ عید سے محض چند دن پہلے کیا اور اس وقت کیفے میں درجنوں افراد بیھٹے ہوئے تھے جن میں ڈھاکہ کے کھاتے پیتے لوگ اور غیر ملکی شامل تھے۔

٭ڈھاکہ میں غیر ملکیوں سمیت متعدد یرغمال: تصاویر

٭ بنگلہ دیش میں شدت پسندی عروج پر

ڈھاکہ کا گلشن کا علاقہ اس ملک کا سب سے زیادہ سکیورٹی والا علاقہ ہے اور اسے دارالحکومت کا محفوظ ترین حصہ سمجھا جاتا ہے۔

کیفے کے نواح میں درجنوں سفارتخانے اور بین الاقوامی اور ملکی غیر سرکاری تنظیموں کے دفاتر واقع ہیں اور اس علاقے میں سینکڑوں غیرملکی اور امیر بنگلہ دیشی رہتے ہیں۔

سنہ 2015 میں مبینہ دہشتگردی کی واردات میں ایک اطالوی امدادی کارکن کے مارے جانے کے بعد سے حکومت نے یہاں سکیورٹی میں مزید اضافہ کر دیا تھا۔

ایسا ہو نہیں سکتا کہ آپ گلشن کے علاقے سے گزریں اور راستے میں آپ کو سکیورٹی والوں کی کوئی چوکی نہ ملے۔

لیکن اس تازہ ترین حملے نے ثابت کیا ہے کہ اب گلشن کا علاقہ بھی محفوظ نہیں رہا۔

گذشتہ تین، چار ماہ میں بنگلہ دیش میں 40 سے زیادہ افراد مبینہ دہشتگردوں کے ہاتھوں مارے جا چکے ہیں۔ تاہم ان حملوں میں زیادہ تر خاص افراد کو نشانہ بنا کر مارا گیا تھا۔

ان لوگوں میں آزاد خیال بلاگر، ادیب، سماجی کارکن، ماہرین تعلیم اور مذہبی اقلیتوں کے افراد شامل تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

لیکن کیفے پر حملہ دہشتگردی کی اپنی نوعیت کی منفرد کارروائی ہے اور لگتا ہے کہ اس حملے کی باقاعدہ تفصیلی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔

خود کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ حملہ ان کی کارروائی ہے۔

اگرچہ ماضی میں بنگلہ دیشی حکومت اس بات سے انکار کرتی رہی ہے کہ اس تنظیم کا بنگہ دیش میں کوئی وجود ہے، لیکن دہشتگردی کی اس منظم کارروائی سے ان خدشات کو تقویت ملتی ہے کہ شاید واقعی دولتِ اسلامیہ یہاں پہنچ چکی ہے۔

گذشتہ عرصے سے کئی ماہرین بنگلہ دیش پر مسلسل تنقید کر رہے ہیں کہ وہ اس ’خود فریبی‘ میں مبتلا ہے کہ اس شدت پسند گروہ کا بنگلہ دیش میں کوئی وجود نہیں ہے۔

حکومت کا موقف یہ ہے کہ بنگلہ دیش میں دہشتگردی کی ایسی کارروائیاں اکّا دکّا ہوتی ہیں اور صورتحال حکومت کے قابو میں ہے۔ حکومت کے بقول ملک کی مضبوط فوج تربیت یافتہ ہے اور اس قسم کے کسی بھی خطرے کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

امکان یہی ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی دہشتگردی سے نہ صرف بیرون ملک بنگلہ دیش کی شہرت کو نقصان پہنچےگا بلکہ ملک کے اندر اقلیتوں میں بھی خوف بڑھ جائےگا۔

ہندو، بدھ، مسیحی اتحاد کونسل کے جنرل سیکریٹری رانا داس گپتا کا کہنا ہے کہ ’بنگلہ دیش میں آئے روز ہندوؤں، بدھ مت کے پیروکاروں اور مسیحوں پر حملوں کے بعد سے یہاں اقلیتیں خود کو غیر محفوظ اور بے یارو مددگار سمجھنا شروع ہو گئی ہیں۔‘

’انتہا پسندوں کی کوشش ہے کہ وہ ہمیں ملک سے نکال دیں، لیکن حکومت نے شدت پسندوں کے خلاف کچھ اقدامات اٹھائے ہیں اور ہماری وزیرِ اعظم حسینہ واجد بنیاد پرستی اور دہتشگردی کا مقابلہ کرنے میں سنجیدہ ہیں۔‘

امریکہ اور بھارت معترف ہیں کہ بنگلہ دیش انتہاپسندی اور دہشتگردی کے خلاف کوشاں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

دس سال پہلے بنگلہ دیش انتہاپسندی اور دہشتگردی کی گرفت میں آ چکا تھا، لیکن گذشتہ سالوں میں مختلف حکومتوں، خاص طور پر عوامی لیگ کی حکومت، نے اسلامی شدت پسندوں کے خلاف سخت اقدامات کیے ہیں۔

اس کے علاوہ حکومت نے دہشتگردی کا مقابلہ کرنے کے لیے مغربی ممالک کے ساتھ مل کر کئی مشترکہ اقدامات بھی کیے ہیں۔

لیکن اس کے باوجود بنگلہ دیش میں دہشتگردی کی کارروائیوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

اس حوالے سے شدید تنقید کے بعد، حکومت گذشتہ عرصے میں ہزاروں افراد کو گرفتار کر چکی ہے لیکن حزبِ اختلاف کی بڑی جماعت، بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی، کا کہنا ہے کہ حکومت شدت پسندی کے خلاف کارروائی کے بہانے اپنے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنا رہی ہے۔

بنگلہ دیش ایک مسلمان اکثریتی ملک ہے اور اپنی سیکولر اقدار اور ترقیاتی پالیسیوں کی وجہ سے اسے اکثر ایک اچھے مسلمان ملک کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

کئی برسوں کی متشدد سیاست کے بعد کچھ عرصے سے بنگلہ دیش میں ایک استحکام آ چکا تھا۔کئی برسوں سے ملک کی معیشت مسلسل چھ سے سات فیصد کی شرح نمو سے ترقی کر رہی ہے۔

سیاسی استحکام کے نتیجے میں کئی غیرملکی سرمایہ کار بھی یہاں سرمایہ کاری کی جانب راغب ہو گئے۔ خاص طور پر کپڑوں کی صنعت میں بنگلہ دیش عالمی سطح پر نام پیدا کر چکا ہے۔

حالیہ عرصے میں ہونے والے حملوں سے لگتا ہے کہ حکومت ان حالات کے لیے تیار نہیں تھی، خاص طور پر کیفے پر حملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں خفیہ معلومات کے تبادلے اور سکیورٹی نظام میں بہت بڑی کمی پائی جاتی ہے۔

کچھ ناقدین تو سوال اٹھا رہے ہیں کہ آیا دہشتگردی کے خلاف کارروائی میں حکومت سنجیدہ بھی ہے یا نہیں؟ کیا حکومت کے پاس وہ سیاسی عزم ہے جس کا تقاضا کیا جا رہا ہے؟

اگر حکومت یہ تسلیم نہیں کرتی کہ اس کے اقدامات ناکافی ہیں تو خدشہ ہے کہ بنگلہ دیش نے معاشی ترقی اور استحکام کے میدان میں برسوں میں جو کچھ کیا ہے وہ سب ضائع ہو سکتا ہے۔

اسی بارے میں