ڈھاکہ: پولیس کیفے پر حملہ آوروں سے واقف تھی

تصویر کے کاپی رائٹ AP

بنگلہ دیشی حکام نے کہا ہے کہ ڈھاکہ کے کیفے میں جمعے کو جن پانچ افراد نے حملے کیے تھے پولیس کو ان کے بارے میں معلومات تھیں۔

خیال رہے کہ کیفے حملے میں ہلاک ہونے والے 20 افراد میں سے زیادہ تر غیر ملکی تھے۔ ان حملوں میں دو پولیس افسسران بھی ہلاک ہوئے اور 30 زخمی ہوئے تھے۔

12 گھنٹوں تک حملہ آوروں نے کیفے کا محاصرہ جاری رکھا جس کے بعد فوج کے کمانڈوز 13 مغویوں کو رہا کروانے میں کامیاب ہوئے۔

خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی تنظیم کا دعویٰ ہے کہ یہ حملے اس نے کیے ہیں تاہم بنگلہ دیشی حکومت کا موقف ہے کہ ان حملوں کے پیچھے مقامی جنگجو تنظیم ملوث ہے۔

بنگلہ دیش کے وزیرداخلہ اسد الزامان خان نے اتوار کو اپنے ایک بیان میں کہا کہ حملہ آوروں کا تعلق ایک کالعدم تنظیم سے تھا جو کہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے پابندی کا سامنا کر رہی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ حملہ آوروں کا دولتِ اسلامیہ سے کو کوئی تعلق نہیں تھا وہ جمعیت المجاہدین سے تعلق رکھتے تھے۔ وزیر داخلہ کے مطابق حملہ آوروں نے کوئی شرائط پیش نہیں کی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ تین حملہ آوروں کی عمریں 22 سال سے کم تھیں اور وہ چھ ماہ سے روپوش تھے۔

پولیس چیف شاہد الحق نے حملہ آوروں میں سے چند کےنام ظاہر کیے۔ ان میں آکاش، بکاش، ڈان، بنڈھان اور ریپون کا نام شامل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ

کیفے میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران چھ حملہ آور مارے گئے جبکہ ایک حملہ آور کو گرفتار کیا گیا ہے جس سے تفتیش جاری ہے۔ اب تک یہ واضح نہیں ہوا کہ حملہ کرنے کی وجہ کیا تھی۔

اس سے قبل شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے مبینہ حملہ آوروں کی تصاویر جاری کی تھی جن میں انھوں نے دولتِ اسلامیہ کا جھنڈا پکڑا ہوا تھا۔

کہا جا رہا ہے کہ کیفے میں حملہ کرنے والے افراد کھاتے پیتے خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور انھوں نے کسی مدرسے یا اسلامی سینٹر کے بجائے نجی سکول اور یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصلی کی تھی۔

ڈھاکہ میں بی بی سی کے نامہ نگار سنجے موجمدار کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کے کلاس فیلو سوشل میں میڈیا پر اُن کو پہچان رہے ہیں۔

بنگلہ دیش نے اس واقعے کے بعد دو روز کے لیے قومی سوگ کا اعلان کیا ہے

حملے میں نو اطالوی، سات جاپانی اور امریکہ اور بھارت کے ایک ایک شہری ہلاک ہوئے تھے۔

بنگلہ دیش میں گذشتہ کچھ عرصے کے دوران جمعیت المجاہدین چھوٹی نوعیت کے دہشت گرد حملوں میں ملوث رہی ہے۔

تنظیم کے دو سرکردہ رہنماؤں کو 64 اضلاع میں ایک وقت میں ہونے والے بم دھماکوں کے بعد سنہ 2008 میں سزائے موت دی گئی تھی۔

وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے بنگلہ دیشن میں دولتِ اسلامیے کی موجودگی کی تردید کی ہے۔

اسی بارے میں