بنگلہ دیش: ’حملہ آوروں کا تعلق مقامی شدت پسند تنظیم سے تھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ڈھاکہ میں مرنے والوں کے لواحقین میں سوگ کا ماحول ہے

بنگلہ دیش کے وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ ڈھاکہ میں جمعے کی رات شدت پسند حملہ کرنے والے حملہ آوروں کا تعلق دولت اسلامیہ سے نہیں بلکہ مقامی شدت پسند تنظیم جميعت المجاہدین بنگلہ دیش سے تھا۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ اسد الزمان خان نے کہا: ان کا (حملہ آوروں کا) دولت اسلامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

٭ دوراہے پر کھڑا بنگلہ دیش

اس سے پہلے عراق اور شام میں سرگرم شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے مبینہ حملہ آوروں کی اپنے پرچم کے ساتھ کچھ تصاویر جاری کی تھیں۔

بنگلہ دیش نے دارالحکومت ڈھاکہ کے کیفے میں شدت پسندوں کے ہاتھوں مرنے والوں کے لیے دو دن کے قومی سوگ کا اعلان کیا ہے۔

جمعے کو کیے جانے والے اس حملے میں 20 یرغمالی ہلاک ہوئے تھے جن میں زیادہ تر غیر ملکی باشندے تھے۔ اس میں دو پولیس اہلکا بھی ہلاک ہوئے جبکہ دوسرے 30 زخمی بھی ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مرنے والوں میں زیادہ تر بیرونی ممالک کے باشندے ہیں

دو دنوں کے قومی سوگ کا اعلان کرتے ہوئے بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ نے ملک میں دہشت گردی سے لڑنے کا عہد کیا۔

انھوں نے کہا: ’جو کوئی بھی مذہب میں یقین رکھتا ہے ایسے عمل نہیں کرے گا۔ ان کا کوئی مذہب نہیں۔ ان کا مذہب صرف دہشت گردی ہے۔‘

سنیچر کو بنگلہ دیش کے کمانڈوز نے 12 گھنٹے کے محاصرے کے بعد 13 افراد کو بچایا۔ انھوں نے چھ مسلح حملہ اوروں کو ہلاک کیا جبکہ ایک کو گرفتار کیا۔

مرنے والوں میں نو اطالوی، سات جاپانی، ایک امریکی، ایک ہندوستانی باشندے شامل تھے جبکہ ایک اطالوی لاپتہ ہیں۔

دریں اثنا زندہ بچنے والوں سے تازہ معلومات حاصل ہوئی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption کمانڈوز نے 12 گھنے کی کارروائی کے بعد یہ آپریشن مکمل کیا

ارجنٹائن کے شیف ڈیئگو روسینی نے بتایا کہ جمعے کی شام ہولی آرٹیسین بیکری میں کس طرح حملہ آور بموں اور بندوقوں کے ساتھ داخل ہوئے۔

’مجھے اب تک یقین نہیں آ رہا ہے کہ ایسا ہوا۔ یہ کسی فلم کی طرح تھا۔ انھوں نے میری طرف بندوق کی اور میں گولی چلنے کی آوازیں اپنے آس پاس سن رہا تھا۔ میں بہت زیادہ خوفزدہ تھا۔‘

انھوں نے کہا وہ کیفے کی چھت پر بھاگنے اور پھر وہاں سے دوسری عمارت میں کودنے سے بچ گئے۔

اطالوی تاجر جیانی بوشیٹی حملے سے قبل ایک فون کال کے لیے کیفے کے گارڈن میں چلے گئے تھے۔ انھوں نے جھاڑیوں میں کود کر خود کو بچایا۔ ان کی سالی نے اطالوی ٹی کو بتایا کہ وہ کس طرح ایک ہسپتال سے دوسرے ہسپتال اپنی اہلیہ کی تلاش میں بھاگ رہے تھے اور بالآخر انھیں مردوں میں پایا۔

Image caption شیخ حسینہ نے اس عمل کو قابل نفریں قرار دیا ہے

میبنہ طور پر شدت پسندوں نے ان لوگوں پر اذیتیں دی اور قتل کیا جو قرآن کی آیات نہیں پڑھ سکے۔

ایک فوجی ترجمان نے کہا کہ تیز دھار والے ہتھیار سے لوگوں کو بے دردی کے ساتھ حملہ کیا گیا۔

جنگجو تنظیم دولت اسلامیہ نے حملے میں شامل پانچ افراد کی تصاویر دولت اسلامیہ کے سیاہ پرچم کے ساتھ پوسٹ کی ہیں۔

اسی بارے میں