مسلمان نہیں مگر روزے رکھتے ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ Manish Shandilya
Image caption انڈیا کے بعض علاقوں میں کچھ غیر مسلم لوگ بھی روزہ رکھتے ہیں

گنگا جمنا تہذیب شمالی بھارت کی ایک منفرد پہچان ہے۔ اس تہذیب کی خاصیت یہ ہے کہ لوگ مختلف مذاہب کا احترام کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے تہواروں میں شامل ہوتے ہیں۔

آج کل رمضان کا مبارک مہینہ چل رہا ہے اور اس ماہ میں عام طور پر روزے کا ذکر آنے پر کسی مسلم شخص کی تصویر ہی ذہن میں ابھرتی ہے۔

لیکن روزہ رکھنے والوں میں غیر مسلم لوگ بھی ہیں۔ آپ سے ایسے ہی کچھ لوگوں سے ملاقات کرواتے ہیں جن میں سے ایک شخص خود کے ملحد ہونے کا دعوی بھی کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Shailendra Kumar
Image caption پٹنہ میں رہنے والے امریندر باغی گذشتہ بیس برسوں سے رمضان کے مہینے میں روزہ رکھتے آ رہے ہیں

بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں رہنے والے امریندر باغی گذشتہ بیس برسوں سے رمضان کے مہینے میں روزہ رکھتے آ رہے ہیں۔ پیشے سے وکیل اور بی جے پی کے لیڈر امریندر پہلے ملحد تھے۔ لیکن حالات کچھ ایسے ہوئے کہ اپنے چھوٹے بیمار بھائی سمریندر کمار کے علاج کے سلسلے میں انہیں نوے کے عشرے میں ایک صوفی بزرگ کے پاس جانا پڑا۔

ضلع دربھنگہ کے ان صوفی بزرگ کے دربار میں جانے کے بعد وہ تمام مذاہب کے تہواروں میں شامل ہونے لگے۔ روزہ رکھنا بھی اسی کڑی کا ایک حصہ ہے۔ چھوٹے بھائی سمریندر بھی اپنے بھائی ہی کی طرح روزہ رکھتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Shailendra Kumar
Image caption امریندر باغی کہتے ہیں کہ معاشرے میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھنے کے مقصد سے وہ روزہ رکھتے ہیں

امریندر باغی کہتے ہیں: ’معاشرے میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھنے کے مقصد سے میں روزہ رکھتا ہوں۔ ہندو مسلم سکھ عیسائی اگر مل کر ایک دوسرے کے تہوار منانے لگیں تو آپس میں کسی طرح کا بھی اختلاف نہیں ہو سکتا۔‘

پیشے سے ریئل سٹیٹ کا کاروبار کرنے والے پربھات جوزف ٹھاکر کا تعلق عیسائی مذہب سے ہے اور وہ ضلع بیتیا کے رہنے والے ہیں۔ لیکن آج کل ٹھاکر مغربی بنگال کے آسنسول میں رہتے ہیں۔

پربھات کہتے ہیں: ’میرے مسلم دوستوں نے بتایا کہ روزہ رکھنے سے امن و سکون حاصل ہوتا ہے، ذہن میں اچھے خیالات آتے ہیں اور جسم بھی تندرست رہتا ہے۔ دوستوں سے متاثر ہونے پر میں نے بھی روزہ رکھنا شروع کیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Manish Saandilya
Image caption پربھات کا روزہ رکھنے کا اپنا طریقہ ہے، وہ سحری اور افطار کے وقت بائبل پڑھتے ہیں

پربھات کا روزہ رکھنے کا اپنا طریقہ ہے۔ وہ سحری اور افطار کے وقت بائبل پڑھتے ہیں۔

سماجی کارکن اور دستاویزی فلم ساز میگناتھ خود کو ملحد بتاتے ہیں لیکن پھر بھی وہ روزہ رکھتے ہیں۔ انہیں ایک ڈکیومنٹری فلم کے لیے قومی ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔

1989 کے رمضان کے مہینے میں وہ دلی کی جامعہ ملیہ یونیورسٹی میں ایک فلم کی ایڈنٹنگ کر رہے تھے۔ اس وقت وہاں شام کے وقت ان کے آس پاس بہت سے لوگ افطار کرنے کے لیے بیٹھتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Rupesh Sahu
Image caption سماجی کارکن اور دستاویزی فلم ساز میگناتھ خود کو ملحد بتاتے ہیں لیکن پھر بھی وہ روزہ رکھتے ہیں

رانچی کے رہنے والے میگھناتھ بتاتے ہیں: ’والد بچپن میں سکھاتے تھے کہ حج پر جانے سے پہلے سارا قرض ادا کرنا ضروری ہوتا ہے، دل سے دشمنی صاف کرنی پڑتی تھی۔ اس طرح اسلام کے بارے میں جو تھوڑا بہت میں نے سیکھا تھا اسے جامعہ ملیہ میں اور وسعت ملی۔ اور پھر اسلام کو سمجھنے کی کوشش میں میں روزہ رکھنے لگا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Manish Saandilya
Image caption پٹنہ یونیورسٹی کے 83 سالہ سبکدوش پروفیسر سچدآنند سنگھ ساتھی سنہ 1985 سے روزہ رکھتے آئے ہیں

پٹنہ یونیورسٹی کے 83 سالہ سبکدوش پروفیسر سچدآنند سنگھ ساتھی سنہ 1985 سے روزہ رکھتے آئے ہیں۔ وہ صرف ایک دن رمضان کے آخری جمعے کو روزہ رکھتے ہیں۔

پروفیسر سچدآنند روزہ رکھنے کے آغاز کے بارے میں بتاتے ہیں: ’مجھے ایک دوست نے 1984 میں قرآن بطور تحفہ پیش کیا۔ اس کے بعد ایک دوست حج کرنے کے بعد واپس لوٹے تو وہاں سے میرے لیے ٹوپی لےکر آئے۔ اسی کے بعد میرے ذہن میں روزہ رکھنے کے تاثرات جاگنے شروع ہوئے۔ میں روزہ رکھتا ہوں اور لوگ بھی مجھے اس کے لیے میری حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔‘

اسی بارے میں