بنگلہ دیش کے ’امیر‘ دہشتگرد

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

گذشتہ ہفتے ڈھاکہ کے کیفے میں لوگوں کو یرغمال بنا کر ہلاک کرنے والے افراد تربیت یافتہ تھے اور اچھے طرح جانتے ہیں کہ دہشت کیسے پھیلائی جا سکتی ہے۔

شاہانہ صدیقی ہولے کیفے کے مالکان کو جانتی ہیں۔ جمعے کی شام جب بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں ہولے کیفے میں کارروائی ہو رہی تھی تو وہ ان سے مسلسل رابطے میں تھیں۔

دو راہے پر کھڑا بنگلہ دیش

یہ کون لوگ تھے جنھوں نے بنگلہ دیش کا سب سےشدید دہشتگرد حملہ کیا۔

وہ تمام کے تمام بنگلہ دیشی تھے اور مراعات یافتہ طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔

تمام کے تمام حملہ آور اچھے سکولوں اور کالجوں سے تعلیم یافتہ تھے۔ کچھ یرغمالی جو رہا ہونے میں کامیاب رہے انھوں نے بتایا کہ حملہ آوروں نے اچھا لباس پہن رکھا تھا اور وہ انگریزی زبان میں گفتگو کر رہے تھے۔

حملہ آوروں میں ایک سے نبرال اسلام کا فیس بک پیچ دیکھیں تو ایسی تصاویر سے بھرا پڑا جس میں دوستوں کے ہمراہ نظر آتے ہیں۔ایک تصویر میں وہ ایک بالی وڈ اداکارہ سے ملتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

ایک حملہ آور روحان امتیاز بھی تھا۔ روحان امیتاز نے بنگلہ دیش کے سب مہنگے پرائیوٹ تعلیمی ادارے ’سکالسٹا‘ سے تعلیم حاصل کی۔

روحان امیتاز کے باپ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’انھیں یہ جان کر صدمہ ہوا ہے کہ ان کا بیٹا حملہ آوروں میں شامل تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

روحان امتیاز کے والد کا تعلق حکمران جماعت عوامی لیگ سے تعلق ہے۔

روحان امتیاز شاید دسمبر میں گھر سے چلے گئے تھے اور ان کے باپ نے پولیس کو ان کی گمشدگی کی اطلاع دی تھی۔

روحان امیتاز کے باپ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’انھیں یہ جان کر صدمہ ہوا ہے کہ ان کا بیٹا حملہ آوروں میں شامل تھا۔ گھر میں کوئی کتاب نہیں تھی، کوئی ایسی چیز نہیں تھی جس سے یہ ظاہر ہوسکتا کہ وہ اس کی جانب بڑھ رہا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP

’ہمیں نہیں معلوم یہ کیسے ہو رہا ہے، صرف ایک چیز جس کے بارے میں میں سوچ سکتا ہوں وہ انٹرنیٹ ہے، میں صرف انداز لگا سکتا ہوں۔‘

بظاہر لگتا ہے کہ ڈھاکہ میں دہشتگردی کرنے والے افراد کا تعلق مراعات یافتہ طبقے سے تھا جو نارمل زندگی گذار رہے ہیں۔

بنگلہ دیش میں حالیہ دنوں میں تشدد کی کارروائیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ایک حملہ آور کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ فٹبال کھیلتا تھا، ایک میوزک کا دلدادہ تھا، ایک رات کو اپنے دوستوں کے ہمراہ ڈھاکہ کی سڑکوں پر کار دوڑاتا پھرتا تھا۔

لیکن وہ تمام ایک مرحلے پر تبدیل ہوگئے، کھوئے کھوئے رہنے لگے اور پھر غائب ہوگئے۔

نارتھ ساؤتھ بنگلہ دیش کی پہلی پرائیوٹ یونیورسٹی ہے جہاں نبرال اسلام نے تعلیم حاصل کی۔

کافی کوشش کے بعد میں ایک ایسے شخص سے بات کرنے میں کامیاب ہوا جو انھیں جانتا تھا۔ شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط اس شخص نے مجھے بتایا کہ میں اسے یونیورسٹی کیمپس میں ملتا تھا۔ وہ بالکل نارمل سے شخص تھے۔

وہ بتاتے ہیں کہ یونیورسٹی میں آپ کو ایسے لوگ ملتے ہیں جو بظاہر بےضرر محسوس ہو تے ہیں ۔ وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ آپ عبادت کرتے ہیں اور پھر آپ کو لٹریچر دیتے ہیں اور آپ کو اپنی محفلوں میں شریک ہونے کی دعوت دیتے ہیں۔

آخر میں وہ آپ سے کہتے ہیں کہ ’یہ اصل زندگی نہیں، جہاد میں شریک ہو جاؤ۔‘ جو نوجوان ان نظریات کو مان لیتے ہیں وہ آہستہ آہستہ غائب ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔

بنگلہ دیش میں پرتشدد واقعات کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن جو رجحان اب نظر آ رہا ہے وہ یقیناً نیا ہے۔

ریٹائر آرمی افسر میجر جنرل سخاوت حسین کہتے ہیں: ’یہ تو صرف تو آغاز ہے۔‘

اسی بارے میں