آخر اپنے جیسے لوگ اپنے جیسے کیوں نہ لگتے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption غور سے دیکھیں تو دونوں ایک ہی طرح کے لگتے ہیں

ہر روز دفتر میں کھانے کے وقت یہ خیال آ ہی جاتا ہے کہ سرحد کے دونوں طرف بیٹھے سیاست دانوں کے دلوں پر کیسی چھریاں چلیں گی جو ہمیں یوں ایک دوسرے کے برتنوں سے کھاتے دیکھیں گے۔

کیا معلوم دیکھ کر یہ خیال بھی دل چیر جائے کہ جب زمینوں، مذاہب اور جائیدادوں کا بٹوارہ ہوا تو کھانے کے مینیو کیوں بچے رہ گئے، انھیں کیوں تقسیم نہیں کیا گیا۔ کم بخت جہاں ملتے ہیں ایک ساتھ، ایک ہی جگہ اور اکثر تو ایک ہی برتن میں کھا لیتے ہیں۔ ہماری تاریخی دشمنی کا ذرا بھی خیال نہیں کرتے۔

ویسے غیر ملک میں بیٹھ کر یہ دیکھتے ہوئے حیرانی بھی ہوتی ہے کہ یہ واقعی وہی لوگ ہیں جو خبروں اور فلموں میں ایک دوسرے کے خون کے پیاسے نظر آتے ہیں۔

سرحد کی ایک طرف والے نے ایک کہی نہیں کہ دوسری طرف والا الفاظ کو نفرت کے گھی میں یوں تر کر کے میدان میں اترتا ہے کہ اسے اپنی پیدائش کو کامیاب ثابت کرنے کا اس سے بہتر موقع نہیں نصیب ہوگا۔

چند سال قبل پہلی بار جب اپنے ملک انڈیا کے باہر قدم رکھا اور جرمنی پہنچی تو ظاہر ہے کہ اجنبی ملک میں دل بات بات پر زور سے دھڑکتا اور اس بے چینی کے عالم میں جن لوگوں سے سب سے پہلے دوستی ہوئی وہ پاکستانی تھے۔نہ صرف دوستی ہوئی بلکہ میدان میں جمے رہنے کی ہمت بھی ملی۔

تصویر کے کاپی رائٹ THINKSTOCK
Image caption پیٹ کا کیا کریں تقسیم کے وقت اس کے متعلق تو سوچا ہی نہیں گیا

حیرانی ہوئی کہ کیا یہ وہی لوگ ہیں جو بات بات پر ہماری سرکار کا بلڈ پریشر بڑھا دیتے ہیں۔ ٹھیک ایسا ہی دو ماہ پہلے لندن آ کر محسوس ہوا۔

آخر اپنے جیسے لوگ اپنے جیسے کیوں نہیں لگتے۔ دونوں کے پیٹ میں ایک جیسی ہی آگ لگتی ہے۔ گرم مسالوں اور سالن کی خوشبو سے دونوں کو ایک جیسا عشق ہے اور غور سے سنیں تو زبان تک ایک جیسی ہی بولتے ہیں۔

پہناوے اور چال ڈھال کی تو بات ہی کیا کریں۔۔۔ بولی وڈ کو اتنا ہی اپنا مانتے ہیں جتنا ہندوستانی۔ کئی بار تو ان لوگوں کے ساتھ وقت گزار کر ایسا لگتا ہے جیسے لتا اور رفیع سے ہم سے زیادہ ان کی وفاداری ہے اور بات ہم ہندوستانیوں کی کریں تو ہمیں کیا عاطف اسلم، راحت فتح علی خان، چپلی کباب اور لان کے کپڑوں سے کم لگاؤ ہے؟

اور پھر کرکٹ کے بارے میں تو دونوں طرف آگ برابر ہی جانیے۔

ایسے میں اکثر میں یہ سوچ کر بڑی کشمکش میں پڑ جاتی ہوں کہ آخر یہ کیسے دشمن ہیں؟ آخر ان کا ہمارا یہ کیسا بیر ہے جو ان سے مل کر سمجھ ہی نہیں آتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کرکٹ کا جنون بھی دونوں ممالک میں ایک سا ہے

نہیں، میرا یہ کہنے کا مطلب بالکل نہیں ہے کہ ان سے دشمنی کے بادلوں تلے ہماری سرکاروں اور فوجوں کی روٹیاں سِک رہی ہیں۔

آخر ہماری جیسی سوچ، پسند یا ناپسند کا یہ مطلب بالکل نہیں ہے کہ یہ ہمارے دشمن نہیں ہیں۔ آخر حکومت جھوٹ کیوں بولے گی۔

وہ کہتی ہے کہ وہ ہمارے دوست نہیں ہیں دشمن ہیں تو ہوں گے ہی۔ وہ کہتی ہے دھوکے باز ہیں، تو ہوں گے ہی۔ وہ کہتی ہے ان پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے تو ٹھیک ہی کہتی ہوگی۔

سرکار کو کہاں مذاہب اور عقائد کی بنیاد پر ملک اور لوگوں کو ’پولرائز‘ کرنا ہے لیکن دل کا کیا کریں جو کہتا ہے آنکھوں دیکھا اور خود آزمایا ہوا ہی سب سے بڑا سچ ہے؟

اسی بارے میں