ڈھاکہ:’شناخت کیا گیا شخص حملہ آور نہیں بلکہ شیف تھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty
Image caption گذشتہ جمعے کو حملہ آوروں نے کیفے پر حملہ کر کے 20 افراد کو بارہ گھنٹے تک یرغمال بنا لیا

بنگلہ دیش میں پولیس نے اعتراف کیا ہے کہ ڈھاکہ کے کیفے پر حملے میں جس شخص کو حملہ آور کے طور پر شناخت کیاگیا تھا وہ حقیقت میں یرغمالی تھا۔

پولیس حکام نے بتایا تھا کہ گذشتہ جمعے کو آرٹیسن بیکری کیفے پر حملہ کرنے والے چھ مسلح افراد کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔

٭ ڈھاکہ: پولیس کیفے پر حملہ آوروں سے واقف تھی

٭ دوراہے پر کھڑا بنگلہ دیش

اب پولیس کا کہنا ہے کہ جس شخص کو پہلے حملہ آور قرار دیا گیا تھا اسے دراصل بیکری میں یرغمال بنایا گیا تھا۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ شخص کیسے ہلاک ہوا اور اس کو کس نے مارا۔

حکام کے مطابق سیف السلام چوکیدار نامی یہ شخص بیکری میں پیزا شیف تھا۔

پولیس نے بی بی سی کو بتایا کہ اگرچہ شیف کی تصویر حملہ آور کے طور پر جاری کی گئی تھی لیکن اس کا تعلق حملہ آوروں سے نہیں تھا اور کسی طور پر اس واقعے میں ملوث نہیں تھا۔

پولیس حکام نے ان اطلاعات کی تردید نہیں کہ سیف کو سکیورٹی فورسز نے آپریشن کے دوران حادثاتی طور پر ہلاک کر دیا تھا۔

سیف السلام چوکیدار کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ پولیس کی جانب سے مشتبہ حملہ آوروں کی جاری کی گئی تصاویر کی مدد سے انھوں نے اپنے عزیز کی شناخت کی۔

سیف السلام چوکیدار کے کزن سلمان نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ’ہم نے اس پر احتجاج کیا کہ یہ وہ کسی صورت میں شدت پسند نہیں ہو سکتا، وہ سخت منحت کرنے والا شخص تھا اور بنگلہ دیش میں پیزا اور پاستہ تیار کرنے کا ماہر تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اس واقعے میں غیر ملکیوں سمیت 20 یرغمالی ہلاک ہو گئے تھے

’ہم فوج کے پاس گئے کہ اس سیف کی لاش حوالے کی جائے لیکن انھوں نے یہ کہتے ہوئے لاش دینے سے انکار کر دیا کہ یہ مشتبہ حملہ آور ہے۔‘

حکام نے بعد میں سیف السلام چوکیدار کو کیفے میں پیزا شیف کے طور پر شناخت کیا۔

سیف السلام چوکیدارکی لواحقین میں دو بیٹیاں اور بیوی شامل ہیں۔

خیال رہے کہ شدت پسندوں نے جمعے کی شب دارالحکومت ڈھاکہ میں ہولے آرٹیسن بیکری کیفے پر حملہ کرکے متعدد افراد کو یرغمال بنا لیا تھا۔ حملے کے 12 گھنٹے بعد فوجی دستے کیفے میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے۔

اس آپریشن میں غیر ملکیوں سمیت 20 یرغمال ہلاک ہو گئے تھے جبکہ حملہ آوروں اور پولیس کے درمیان فائرنگ کے نتیجے میں دو پولیس افسر ہلاک جب کہ 30 کے قریب زخمی ہوئے۔ سکیورٹی فورسز نے کارروائی میں چھ شدت پسندوں کو ہلاک اور ایک کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

اسی بارے میں