بنگلہ دیش: عیدگاہ کے قریب دھماکہ، دو اہلکاروں سمیت چار ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

بنگلہ دیش کے ضلع کشور گنج میں نمازِ عید کے اجتماع کے قریب بم دھماکے میں دو پولیس اہلکار ہلاک اور کم سے کم پانچ زخمی ہوگئے ہیں جبکہ ایک حملہ آور بھی مارا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق ضلع کشور گنج میں مسلح افراد کے گروہ نے پولیس کی چیک پوسٹ پر پٹرول بم پھینکے اور یہ چیک پوسٹ اُس میدان کے قریب تھی جہاں نماز عید کا اجتماع ہو رہا تھا۔

پولیس کے مطابق بم دھماکے میں دو پولیس اہلکاروں اور ایک حملہ آور سمیت چار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

٭بنگلہ دیش:’ حملہ آوروں کا تعلق مقامی شدت پسند تنظیم سے تھا‘

٭ دوراہے پر کھڑا بنگلہ دیش

بم دھماکے کے وقت میدان میں عید کی نماز ادا کی جا رہی تھی۔ ضلع کشور گنج ڈھاکہ دارلحکومت سے 100 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ عید کے اجتماع میں دو لاکھ کے قریب افراد شریک تھے۔

اطلاعات کے مطابق دھماکے کے وقت فائرنگ بھی ہوئی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پولیس کنٹرول روم میں ایک اہلکار ماہبور رحمان نے بتایا کہ ’اس حملے میں ایک پولیس کانسٹیبل ہلاک اور ایک حملہ آور بھی مارا گیا ہے جبکہ ایک حملہ آور کو گرفتار کیا گیا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بنگلہ دیش کی حکومت کا کہنا ہے کہ ملک میں ہونے والے ان حملوں میں مقامی شدت پسند تنظیم ملوث رہی ہے

کشور گنج کے نائب پولیس آفسر طفزول حسین نے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ حملہ کئی افراد نے مل کر کیا اور بعض افراد کے پاس چاقو بھی تھے۔

انھوں نے بتایا کہ پہلے حملہ آوروں نے پولیس کو چھوٹے بموں سے نشانہ بنایا اور پھر اُن کے اوپر چاقو سے وار کیے۔ پولیس نے جوابی فائرنگ کی۔‘

ڈسٹرکٹ انتظامیہ کے اہلکار عزیز الدین بسواس نے بتایا کہ اس پولیس اور حملہ آوروں کے مابین جھڑپ سے نمازِ عید کے اجتماع متاثر نہیں ہوا۔‘

تاحال کسی نے بھی اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

بنگلہ دیش کی حکومت کا کہنا ہے کہ ملک میں ہونے والے ان حملوں میں مقامی شدت پسند تنظیم ملوث رہی ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ جمعے کو دارالحکومت ڈھاکہ میں مسلح حملہ آوروں نے ایک کیفے پر حملہ کر کے 20 کے قریب افراد کو یرغمال بنا لیا تھا اور اس کے تقریباً 12 گھنٹے بعد فوج کے آپریشن میں پانچ حملہ آور مارے گئے تھے جبکہ یرغمال بنائے گئے غیر ملکیوں سمیت 20 افراد ہلاک ہو گئے۔