کیا دیوبند اور ندوہ میں حکومت کا دخل ضروری؟

Image caption اسلامی ادارہ دارالعلوم دیوبند اپنے افکارو نظریات کے لیے دنیا بھر میں معروف ہے

انڈیا میں ایک اسلامی مبلغ ڈاکٹر ذاکر نائیک کے مذہبی ٹی وی چینل ’پیس ٹی وی‘ پر پابندی اور ان کی گرفتاری کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔

اسلام اور دوسرے مذاہب کے بارے میں ان کے خیالات پر اکثر انگلیاں اٹھتی رہی ہیں لیکن یکم جولائی کو ڈھاکہ میں حملے کے بعد جب سے یہ انکشاف ہوا کہ حملہ آوروں میں سے ایک ڈاکٹر ذاکر سے متاثر ہو کر غیرمسلموں کے خلاف دہشت گردی کی طرف مائل ہوا تھا تب سے حکومت حرکت میں آگئی ہے۔

ڈاکٹر نائیک ماضی میں اسامہ بن لادن کی دہشت گرد سرگرمیوں کو جائز قرار دے چکے ہیں۔ وہ علما کے منظور شدہ خود کش حملے کو صحیح قرار دیتے ہیں۔

ان کے نظریات میں ہم جنس پرستوں کو موت کی سزا دینا اور سنگسار کر کے ہلاک کرنے کی سزا دینے جیسےتصورات شامل ہیں۔ ان کے خیال میں مسلمانوں کو ’غلام لڑکیوں اور خواتین کے ریپ‘ کا حق حاصل ہے۔

اطلاعات کے مطابق بنگلہ دیش میں ڈاکٹر نائیک بہت مقبول ہیں۔گذشتہ چند دونوں سے یہ مطالبہ ہو رہا ہے کہ انھیں مذاہب کےدرمیان منافرت پیدا کرنے اور انتہا پسند مذہبی نظریات کو فروغ دینے کے الزام میں گرفتار کیا جائے۔

پوری دنیا میں اسلام کے نام پر بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے پیش نظر مسلمانوں کی مذہبی تربیت اور بالخصوص اسلامی مدارس کی تعلیم پر توجہ مرکوز کی جانے لگی ہے۔ بھارت میں دیوبند اور ندوہ جیسے سنّی مسلمانوں کے کئی بڑے مذہبی ادارے ہیں جہاں ہزاروں طلبا زیر تعلیم ہیں۔

یہاں سے فارغ ہونے والے طلبا ملک کی لاکھوں مسجدوں میں امامت اور ہزاروں چھوٹے بڑے مدرسوں میں درس وتدریس سے وابستہ ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ facebook
Image caption ڈاکٹر ذاکر نائک کے افکار و خیالات پر انگلیاں اٹھتی رہی ہیں

دیو بند ندوہ یا دوسرے بڑے مذہبی ادارے اصولی طور پر دہشت گردی کے خلاف رہے ہیں اور خودکش حملے اور دہشت گردی کے خلاف فتوے بھی دے چکے ہیں لیکن ان کا تعلیمی نصاب بنیادی طور پر مذہب کی روایتی، فرسودہ اور قدیم تشریحات پر مشتمل ہے جو اکثر عصری جمہوری تصورات اور بھارت جیسے کثیرالمذہبی معاشرے کی ثقافت اور تہذیب و تمدن سےمطابقت نہیں رکھتا۔

ان اداروں میں بتایا جاتا ہے کہ مغربی تہذیب وتمدن باطل ہے۔ ان کا معاشرہ، کرداراور اخلاقی اقدار سے عاری ہے اور ان کی کامیابیاں جھوٹی ہیں۔

یہاں سے اکثر شیعوں اور احمدی مسلمانوں کے بارے میں نفرت انگیز فتوے جاری کیے جاتے ہیں۔ یہاں زیر تعلیم طلبہ جب تک یہاں سے فارغ ہوتے ہیں تب تک وہ اپنے لباس، حلیے اور بول چال سے مختلف ہو چکے ہوتے ہیں۔

تعلیم کے بعد وہ امریکہ یورپ اور بہت حد تک ہندؤوں کو مسلمانوں کو اسلام کا دشمن سمجھنے لگتے ہیں۔ ان کے نزدیک ہر کوئی اسلام کے خلاف سازش کر رہا ہوتا ہے۔ جمہوریت ان کےنزدیک ایک فراڈ ہے۔

وہ ملک کے مسلمانوں کے ذہن میں میں مظلومیت کی ایک دائمی نفسیات پیدا کرتے ہیں۔ ان کا نظریۂ مذہب مسلمانوں کو جمہوریت اور دوسرے مذہبی فرقوں سے ہم آہنگ ہونے سے روکتا ہے۔

دنیا میں اسلام کےنام پر بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے پیش نظر یہ ادارے بھی سیکوریٹی ایجینسیوں اور حکومت کی نظر میں رہے ہیں۔

یہ سوال بہت اہم ہے کہ کیا مذہبی منافرت اورانتہا پسند نظریات پر قابو پانے کے لیے ان مذہبی اداروں کے تعلیمی نصاب پر حکومت کا کنٹرول ہونا چاہيے؟

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption دیوبند سے تعلیم حاصل کرنے والے ملک و بیرون ملک مساجد اور مدرسوں میں خدمات انجام دیتے ہیں

یہ بہت پیچیدہ سوال ہے لیکن اگر ملک کے دانشور، سیکولر اور جمہوریت پسند مبصرین ملک کے سیکولر تعلیمی نصابوں میں مذہب کی آمیزش کی مزاحمت اور مخالفت کررہے ہیں تو کیا انھیں ملک کے ان اسلامی اداروں کے تعلیمی نصابوں اور مذہب کی فرسودہ تشریح کی مخالفت نہیں کرنی چاہیے؟

اگر ان اداروں کے تصورات جمہوریت اور کثیر المذہبی رواداری و ہم آہنگی کے طرز زندگی سے متصادم ہیں تو کیا انھیں یکسر بدل دینے کی ضرورت نہیں ہے؟

ملک کے دانشور اور مبصرین اس سے اتفاق نہیں کریں گے۔ ان کی دلیل یہ ہوگی کہ ریاست کو مذہی معاملات میں دخل نہیں دینا چاہیے۔

پوری دنیا میں دہشت گردی ایک خوفناک شکل اختیار کر رہی ہے۔ اس خطرناک مذہبی رحجان کو روکنے کے لیے ریاست کو ہر ممکن قدم اٹھانا چاہیے، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔

اسی بارے میں