کشمیر میں کشیدگی برقرار، ہلاکتوں کی تعداد 30 ہوگئی

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption جنوبی کشمیر کے بہت سے علاقوں میں پیر کو بھی کرفیو جاری ہے

انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں نوجوان علیحدگی پسند کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد جمعے کی شام سے شروع ہونے والی احتجاجی لہر کے دوران مرنے والوں کی تعداد 30 ہوگئی ہے۔

ہلاک شدگان میں ایک پولیس اہلکار کے علاوہ دیگر تمام عام شہری ہیں۔

٭ کشمیر میں پرتشدد مظاہرے جاری (تصاویر)

٭ کشمیریوں کی ہلاکتیں ماورائے عدالت قتل ہیں: پاکستان

پرتشدد واقعات میں 250 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں 90 سے زائد پولیس اور نیم فوجی اہلکار بھی شامل ہیں۔

ریاستی حکومت کی جانب سے وادی میں امن برقرار رکھنے کی اپیل کا کوئی اثر نظر نہیں آ رہا ہے۔

حکومت نے پرتشدد واقعات پر قابو پانے کے لیے وادی میں مزید فوج تعینات کی ہے اور کرفیو نافذ کیا ہوا ہے جبکہ موبائل اور انٹرنیٹ سروس بھی بند کر دی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اتوار کو تازہ تصادم میں کئی لوگ زخمی ہوئے ہیں

مظاہرین اور پولیس کے درمیان تازہ تصادم کے نتیجے میں ہونے والی فائرنگ میں اتوار کو رات گئے مزید پانچ افراد ہلاک ہوئے جبکہ مظاہروں میں زخمی ہونے والے پانچ افراد بھی اتوار کو دم توڑ گئے۔

اس کے علاوہ ایک پولیس اہلکار اس وقت ہلاک ہوا جب اس کی گاڑی کو مشتعل ہجوم نے اننت ناگ میں دریائے جہلم میں گرا دیا۔

شری مہاراجہ ہری سنگھ ہسپتال کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ایسے 20 نوجوان داخل ہیں جو چھرّے لگنے کی وجہ سے بینائی سے محروم ہوسکتے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ جمعے کی رات کو جنوبی کشمیر کے دمحال ہانجی پورہ کے پولیس تھانے سے جو تین پولیس اہلکار لاپتہ ہوگئے تھے، ان کا ابھی تک سُراغ نہیں ملا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ہسپتال میں زخمیوں کی تعداد کو دیکھتے ہوئے ہنگامی صورت حال کی تشویش ظاہر کی گئی ہے

حکام نے علیحدگی پسند رہنماؤں کو بھی بدستور نظر بند کیا ہوا ہے۔ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما یاسین ملک سینٹرل جیل میں قید ہیں جبکہ میرواعظ عمرفاروق، شبیر شاہ اور سید علی گیلانی سمیت درجنوں علیحدگی پسندوں کو ان کے گھروں میں نظربند کیا گیا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ہسپتالوں میں زخمیوں کی تعداد کے پیش نظر اور موبائل اور انٹرنیٹ سروسز بند کیے جانے سے کشمیر میں ایمرجنسی جیسی صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔

کشیدگی پر قابو پانے کے لیے انڈین حکومت نے نیم فوجی اہلکاروں کی تازہ کُمک سرینگر بھیج ہے اور ان اہلکاروں کو مختلف حساس مقامات پر تعینات کر دیا گیا ہے۔

وزیرِ داخلہ راج ناتھ سنگھ نے جموں و کشمیر کی وزیراعلی محبوبہ مفتی کو فون پر بتایا: ’مرکز کشمیر میں حالات ٹھیک کرنے کے لیے آپ کی ہرممکن امداد کرے گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کشمیر میں احتجاج کی لہر زور پکڑتی جا رہی ہے

راج ناتھ سنگھ اور دوسرے بی جے پی رہنماوں نے ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیا ہے، تاہم وادی میں ہند مخالف جذبات کی لہر تشویشناک سمت اختیار کرتی جا رہی ہے۔

سرکاری اطلاعات کے مطابق کشمیر وادی کے دس اضلاع میں فی الوقت دو لاکھ سے زائد بھارتی افواج، 70 ہزار نیم فوجی اور 60 ہزار پولیس اہلکار تعینات ہیں۔ اس کے علاوہ سابق شدت پسندوں پر مبنی 25 ہزار ’سپیشل پولیس افسر‘ ہیں۔

اسی بیچ آر ایس ایس کے رہنما اور کشمیر میں بی جے پی کی حمایت والے حکمران اتحاد کے مشیر رام مادھو نے اپیل کی ہے کہ مظاہروں پر قابو پانے کے لیے ’نان لیتھل‘ یعنی غیر مہلک طریقے اپنائے جائیں۔

سنیچر کو ہی وزیراعلی محبوبہ مفتی نے اپنے بیان میں اعتراف کیا تھا کہ مظاہرین کے خلاف طاقت کا غیرمتناسب استعمال کیا گیا۔

پولیس کی خفیہ ونگ کے سربراہ ایس ایم سہائے نے کہا تھا: ’ہم اپنے ہی معاشرے کے لوگوں کو نہیں مار سکتے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption علیحدگی پسند کمانڈر برہان وانی کے جنازے میں بڑی تعداد میں لوگ شامل ہوئے جبکہ جگہ جگہ غائبانہ نماز بھی ادا کی گئي

اسی بارے میں