گودھرا: ٹرین کو آگ لگانے والا ملزم 14 برس بعد گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ Ankur Jain
Image caption سابرمتی ایکسپریس میں آگ لگنے سے 59 مسافر جھلس كر ہلاک ہوگئے تھے

انڈین پولیس نے سنہ 2002 میں ریاست گجرات میں ٹرین کو آگ لگانے میں ملوث ایک اور مبینہ ملزم عمران بٹک کو گرفتار کر لیا ہے۔

انڈین ریاست گجرات کے پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ٹرین میں آگ لگانے کے لیے جو لوگ پٹرول لائے تھے اور جن لوگوں نے آگ لگائی ان میں عمران بٹك شامل تھا۔

گودھرا سانحہ کے وقت عمران کی عمر 22 سال تھی اور وہ اپنے پانچ بھائیوں میں سے سب سے چھوٹے ہیں۔

عمران کا خاندان گودھرا میں کپڑے کی دکان چلاتا تھا۔ گجرات پولیس کی کرائم برانچ کے ڈپٹی کمشنر ديپن بدرن نے بی بی سی کو بتایا کہ فرار ہونے کے بعد عمران اور اس کے خاندان میں کوئی رابطہ نہیں رہا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اسے عمران تک پہنچنے میں اسی وجہ سے اتنا طویل وقت لگا کیونکہ اس نے اپنے سارے تعلق والوں سے رابطے منقطع کر دیے تھے۔

ڈپٹی کمشنر بدرن کا کہنا ہے کہ عمران کی عمر اب 36 سال ہے، پولیس کے مطابق عمران گودھرا سے بھاگ کر مہاراشٹر چلے گئے تھے جہاں انھوں نے شادی کر لی۔پولیس کے مطابق عمران بٹك اپنی بیوی اور تین بیٹیوں کے ساتھ مالےگاؤں میں ایک عام کام کرنے والے شخص کی طرح رہ رہے تھے۔

پولیس کے مطابق عمران بٹك ریت کا کاروبار کرنے والی ایک کمپنی میں بطور اسسٹنٹ منیجر کام کر رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ ANKUR JAIN

تین ماہ پہلے پولیس نے ایک شخص کو گرفتار کیا تھا جس سے انھیں عمران کے بارے میں کچھ معلومات ملیں۔

پولیس کے مطابق اس کے بعد عمران بٹك کی نگرانی شروع کر دی گئی تھی۔

عمران کی گرفتاری کے بعد اسے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کے حوالے کیا جا رہا ہے، ایس آئی ٹی کی تشکیل سپریم کورٹ کی ہدایت پر کی گئی تھی۔

خیال رہے کہ فروری 2002 میں گودھرا میں ٹرین کو آگ لگنے سے 59 مسافر جھلس كر ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد گجرات میں بڑے پیمانے پر ہندو مسلم فسادات شروع ہوگئے تھے۔

گودھرا سانحہ کا فیصلہ پہلے ہی عدالت کر چکی ہے جس کے تحت کئی ملزمان کو سزا سنائی گئی ہے۔

اب حراست میں لیے گئے ملزم عمران بٹك کے معاملے میں عدالت الگ سے سماعت کرے گی۔

اسی بارے میں