اتر پردیش میں شیلا دیکشت کانگریس کی امیدوار نامزد

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شیلا دیکشت کا کہنا ہے کہ وہ اتر پردیش کی ’بہو‘ ہیں لہذا یو پی جانا ان کے لیے کوئی غیرمعمولی بات نہیں

انڈیا میں کانگریس پارٹی نے دلی کی سابق وزیراعلیٰ شیلا دیکشت کو اتر پردیش کی وزیراعلیٰ کے عہدے کے لیے اپنا امیدوار بنانے کا اعلان کیا ہے۔

اتر پردیش میں فی الحال سماجوادی پارٹی کی حکومت ہے اور وہاں آئندہ برس کے اوائل میں ریاستی اسمبلی کے انتخابات ہونے ہیں۔

ریاست میں کانگریس بہت کمزور ہے اور فی الحال ریاستی اسمبلی میں اس کے صرف 28 ارکان ہیں۔

٭ پرینکا ڈوبتی کانگریس کو بچا سکیں گی؟

شیلا دیکشت کا تعلق بنیادی طور پر پنجاب سے ہے اور وہ تین مرتبہ دہلی کی وزیراعلیٰ رہ چکی ہیں۔

انھیں بدعنوانی کے ایک کیس کا بھی سامنا ہے لیکن کانگریس کے سینیئر لیڈر غلام نبی آزاد نے ان کے نام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بدعنوانی کے الزامات کا سامنا حکمران بی جے پی کے تین وزراء اعلیٰ کو بھی ہے اور ’اگر وہ اپنے وزراء اعلیٰ کو برخاست کرتے ہیں تو ہم بھی شیلا دیکشت کا نام واپس لے لیں گے۔‘

شیلا دیکشت کا کہنا ہے کہ وہ اتر پردیش کی ’بہو‘ ہیں لہٰذا یو پی جانا ان کے لیے کوئی غیرمعمولی بات نہیں۔

لیکن انھیں وزیر اعلیٰ کے عہدے کا امیدوار بنائے جانے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ پارٹی کو ریاست کی داخلی قیادت پر زیادہ اعتماد نہیں ہے۔

ویسے بھی شیلا دیکشت کی عمر 78 برس ہے اور بہت سے تجزیہ نگاروں کے مطابق یو پی جیسی بڑی اور سیاسی اعتبار سے اہم ریاست میں انتخابی مہم چلانا ان کے لیے آسان نہیں ہوگا۔

تاہم تجزیہ نگاروں کے مطابق شیلا دیکشت کو یہ ذمہ داری دیے جانے کی ایک اہم وجہ ان کا برہمن ہونا بھی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شیلا دیکشت کا تعلق بنیادی طور پر پنجاب سے ہے اور وہ تین مرتبہ دلی کی وزیر اعلیٰ رہ چکی ہیں

برہمن روایتی طور پر کانگریس کو ووٹ دیتے تھے لیکن اب زیادہ تر بی جے پی کے ساتھ مانے جاتے ہیں۔ پارٹی کی کوشش ان کی حمایت واپس حاصل کرنے کی ہے۔

یہ قیاس آرائی بھی ہے کہ کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کی بیٹی پرینکا گاندھی بھی اتر پردیش کی انتخابی مہم میں حصہ لیں گی۔

عام طور پر وہ صرف رائے بریلی اور امیٹھی کے پارلیمانی حلقوں میں انتخابی مہم میں چلاتی ہیں جہاں سے سونیا گاندھی اور راہل گاندھی الیکشن لڑتے ہیں۔

کانگریس نے اپنی انتحابی حکمت عملی وضع کرنے کے لیے پرشانت کشور کی خدمات حاصل کی ہیں۔ وہ حکمت عملی وضع کرنے کے ماہر ہیں اور انھوں نے گذشتہ برس کے پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی کی مدد کی تھی۔

لیکن یو پی میں ان کے سامنے ایک بڑا چیلنج ہے کیونکہ ریاست میں لمبے عرصے سے کانگریس اقتدار سے باہر ہے اور روایتی طور پر اس کا ساتھ دینے والے ووٹر اس کا ساتھ چھوڑ چکے ہیں۔

عام طور پر مانا جاتا ہے کہ مسلمان اب سماجوادی پارٹی کے ساتھ ہیں اور پسماندہ طبقات سابق وزیر اعلیٰ مایاوتی کے ساتھ۔

اسمبلی انتخابات میں امکان یہ ہے کہ اصل مقابلہ سماجوادی پارٹی، بی جے پی اور بھوجن سماج پارٹی کے درمیان ہوگا لیکن کانگریس 403 رکنی اسمبلی میں اگر 50 یا 60 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو وہ حکومت سازی کے عمل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

اسی بارے میں