’کسی کی آنکھ میں چھرّا لگا، کسی کے گولی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Majid Jahangir
Image caption ابھی تک وادی کشمیر میں پر تشدد مظاہروں کے دوران پولیس اور سیکورٹی فورسز کی کاروائی میں 35 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ 1300 سے زیادہ لوگ زخمی ہیں

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں حزب المجاہدین کے ایک کمانڈر برہان وانی کی موت کے بعد سے کشمیر جیسے ابل پڑا ہو۔

ابھی تک وادی کشمیر میں پر تشدد مظاہروں کے دوران پولیس اور سکیورٹی فورسز کی کاروائی میں 36 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ 1500 سے زیادہ لوگ زخمی ہیں جنھیں علاج کے لیے سرینگر کے ہسپتالوں میں لایا جا رہا ہے۔

سرینگر کے شری مہاراجہ ہری سنگھ ہسپتال میں سینکڑوں کی تعداد میں زخمی داخل کیے گئے ہیں۔

یہاں کسی کو چھرّے لگے ہیں تو کوئی آنسوگیس کے شیل لگنے سے یا پھرگولی لگنے سے زخمی ہونے کے بعد داخل کیا گيا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Majid Jahangir
Image caption ہسپتال کے ایک وارڈ میں تقریبا 60 زخمی ہیں۔ ان میں سے بیشتر نوجوان ہیں جنھیں مظاہروں کے دوران گولیاں لگی ہیں

ہسپتال کے ایک وارڈ میں تقریبا 60 زخمی ہیں جن میں سے بیشتر نوجوان ہیں جنھیں مظاہروں کے دوران گولیاں لگی ہیں۔

اننت ناگ کے ایک ایسے ہی نوجوان نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وہ مظاہروں کا حصہ نہیں تھے۔

ان کا کہنا تھا: ’جب میں نے یہ خبر سنی کہ برہان وانی ہلاک کر دیے گئے تو یہاں لوگ سڑکوں پر مظاہرہ کرنے لگے۔ اسی دوران سکیورٹی فورسز اور نوجوانوں میں جھڑپیں شروع ہوئیں۔ میں دودھ لینے کے لیے نکلا تھا جس دوران میری آنکھ میں چھرّا لگا۔ میں گذشتہ چار روز سے ہسپتال میں ہوں۔ میں ایک آنکھ سے ابھی نہیں دیکھ پا رہا ہوں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Majid Jahangir
Image caption ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں سے 130 زخمی ایسے ہیں جن کی آنکھوں کو پیلیٹ لگے ہیں اور جن میں 10 سے 15 زخمیوں کی آنکھوں کی روشنی چلی گئی ہے

اننت ناگ کے ہی ایک اور 21 سالہ نوجوان گذشتہ پانچ دنوں سے سرینگر کے مہاراجہ پرتاپ سنگھ ہسپتال میں موت اور زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

اس نوجوان کے پیٹ اور دونوں بازوؤں میں گولی لگی ہے۔ جس وقت انھیں گولی لگی اس وقت وہ سکیورٹی فورسز پر پتھر پھینک رہے تھے۔

انھوں نے کہا: ’جیسے ہی برہان کی موت کی ہم نے خبر سنی تو ہم سے رہا نہیں گیا۔ کئی لڑکے سکیورٹی فورسز پر پتھر پھینک رہے تھے اور وہ ہم پر گولیاں برسا رہے تھے۔ اس دوران مجھے بھی گولی لگی۔ اب کشمیر کا مسئلہ حل ہونا چاہیے۔ اب پیچھے نہیں ہٹیں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں سے 130 زخمی ایسے ہیں جن کی آنکھوں پر چھرے لگے ہیں اور جن میں 10 سے 15 زخمیوں کی آنکھوں کی روشنی چلی گئی ہے۔

ریزیڈسنز ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے ترجمان ڈاکٹر عادل کہتے ہیں: ’یہاں زخمیوں کی بڑی تعداد ایسی لائی گئی جن کے جسم کے اوپری حصوں پر چھرے لگے ہیں۔ ایک چار سالہ بچی کو بھی چھرّا لگا ہے۔ پانچ نوجوانوں کی حالت اب بھی نازک ہے۔ جن زخمیوں کو یہاں پر لایا گیا ان میں سے 80 فیصد ایسے تھے جن کی عمریں 18 سے 20 برس کے درمیان ہے۔‘

ایک زخمی کی گذشتہ چار دن سے دیکھ بھال کرنے والے بشیر احمد کہتے ہیں: ’گذشتہ چار دن سے میں نے یہاں جس کو بھی دیکھا ہے اس کے سر، چہرے، سینے یا پھر پیروں کو نشانہ بنایا گیا۔ جو بھی زخمی یہاں لایا گیا اس کے جسم کے اوپری حصے کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس کا صاف مطلب یہی ہے کہ سکیورٹی فورسز انھیں ہلاک کرنا چاہتے تھے۔‘

اسی بارے میں