ظفر محل غیر قانونی تعمیرات کی زد میں

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

انڈیا کے دارالحکومت دہلی کے علاقے مہرولی میں کئي شاندار عمارتیں ہیں جس میں سے ظفر محل مغلیہ دور کا شاہکار ہے۔

یہ عمارت موسم گرما میں آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی آرام گاہ ہوا کرتی تھی۔ مغل بادشاہ اکبر ثانی نے قطب مینار کے نزدیک اس عمارت کو اٹھارویں صدی میں تعمیر کروایا تھا۔

لال پتھر کا تین منزلہ داخلی دروازہ بہادر شاہ ظفر نے تعمیر کروایا تھا، جسے ’ہاتھی دروازہ‘کہا جاتا تھا۔ اس کے اوپر چھجے بنے ہوئے تھے اور سامنے کی کھڑکیوں میں بنگالی طرز تعمیر سے استفادہ کیا گیا ہے۔

یہ تین منزلہ عمارت تھی لیکن عمارت کا بڑا حصہ وقت کے ساتھ ختم ہو چکا ہے۔ ظفر محل کے کچھ حصوں میں پتھر کا بھی استعمال ہوا ہے۔ اطراف کے علاقے اراولی کی پہاڑیوں سے گھرے ہوئے ہیں جہاں بڑی بڑی چٹانوں کی بہتات تھی۔

ظفر محل مہرولی کی گنجان آبادی کے علاقے میں واقع ہے اس کے چاروں طرف مکان بن چکے ہیں۔ ظفر محل محکمہ آثار قدیمہ کی محفوظ تاریخی عمارت ہے، لیکن اب یہ ناجائز تعمیرات کی زد میں ہے۔ ایک مکان کی دیوار تو محل کی دیوار پر ہی اٹھائی گئی ہے۔

کھلی جگہ پر شام کے وقت میں بچے اکثر کرکٹ کھیلتے ہیں۔ بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی طرح مقامی فقیر بھی اسے آرام گاہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

کھلی محرابوں اور اونچی چھتوں کی بدولت موسم گرما میں یہ محل ٹھنڈا رہتا تھا۔ عمارت کا بالائی حصہ انتہائی پرسکون اور خوبصورت ہے۔

محل سے متصل سنگ مرمر کی بنی ہوئی چھوٹی سی موتی مسجد بھی بہت خوبصورت ہے اور ابھی تک نسبتاً اچھی حالت میں ہے۔

یہاں بادشاہ اکبر ثانی اور مرزا جہانگیر کی قبریں بھی واقع ہیں۔ دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے انھیں نقصان پہنچا ہے۔

آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر نے بھی یہیں دفن ہونے کی تمنا ظاہر کی تھی لیکن انگریزوں نے انھیں گرفتار کر کے رنگون بھیج دیا اور وہ وہیں آسودۂ خاک ہیں۔

ظفر محل کے چاروں طرف غیر قانونی طور پر کثیر منزلہ عمارتیں زیر تعمیر ہیں۔ قانون کے مطابق آثار قدیمہ کی کسی محفوظ عمارت سے سو میٹر کے اندر اندر کوئی عمارت تعمیر نہیں کی جا سکتی۔

لیکن ظفر محل اب غیر قانونی تعمیرات کی زد میں ہے ۔ یہ حسین تاریخی عمارت اب چاروں طرف سے کثیر منزلہ عمارتوں سے محصور ہو رہی ہے ۔ اس کا اب صرف داخلی دروازہ ہی باہر سے دکھائی دیتا ہے۔

اسی بارے میں