کشمیر میں کرفیو کے باوجود پرتشدد مظاہرے

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption انڈیا کے زیر انتظام کشیمر کے تمام اضلاع میں کرفیو نافذ ہے

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں متعدد مقامات پر سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔

حکام کی جانب سے جمعے کی نماز کے بعد بڑے پیمانے پر مظاہروں کے خدشے کے پیش نظر پورے کشمیر میں کرفیو نافذ کیا گیا تھا تاہم اس کے باوجود سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق حکومتی فورسز کی جانب سے عوام کو گھروں میں رہنے کا حکم جاری کیا گیا تھا تاہم متعدد مقامات پر مظاہرے کیے گئے اور اس دوران سکیورٹی فورسز کی جانب سے فائرنگ کی گئی اور آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔

٭’کشمیر میں انڈیا کی پالیسیاں امن کی راہ میں رکاوٹ‘

٭’کشمیر میں صحافیوں کے لیے آگے شیر پیچھے کھائی‘

٭’کسی کو چھرّا لگا تو کسی کو گولی‘

اے پی نے پولیس کے حوالے سے بتایا کہ ان مظاہروں میں کپواڑہ میں فوج کی فائرنگ سے کم از کم ایک نوجوان ہلاک اور دو زخمی ہوئے ہیں۔

پولیس کے مطابق جنوبی گاؤں یاری پور میں بھی فوج کی فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہوگیا۔

پولیس کے مطابق اسی گاؤں میں سات پولیس اہلکار اس وقت زخمی ہوئے جب مظاہرین کی جانب سے ایک پولیس سٹیشن کو نشانہ بنایا گیا۔

بارہ مولا اور سوپور میں بھی کم از کم چھ افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حکومتی فورسز کی جانب سے عوام کو گھروں میں رہنے کا حکم جاری کیا تھا

خیال رہے کہ گذشتہ جمعے کو علیحدگی پسند کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد سے احتجاج کے دوران اب تک 38 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق کشمیر میں انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس بھی معطل ہے۔

ریاستی حکام کا کہنا ہے کہ احتجاجی لہر کے دوران زخمی ہونے والوں کی تعداد 3100 ہے جن میں سے 1500 سکیورٹی اہلکار ہیں۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق ریاستی حکومت کے ایک ترجمان نے یہ بھی کہا ہے کہ زیادہ تر زخمیوں کو علاج کے بعد ہسپتال سے فارغ کیا جا چکا ہے۔

ان کے مطابق 244 افراد اب بھی مختلف سرکاری ہسپتالوں میں داخل ہیں جہاں ان کا علاج جاری ہے۔

خیال رہے کہ زخمیوں میں ایک بڑی تعداد ایسے افراد کی ہے جو چھرّے لگنے سے زخمی ہوئے ہیں اور ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ 100 سے زیادہ افراد کی آنکھوں میں چھرّے لگے ہیں اور ان کی بینائی مکمل یا جزوی طور پر متاثر ہو سکتی ہے۔

اسی بارے میں