کشمیر میں صحافت:’خطرناک مگر ناگزیر کام‘

Image caption کشمیر کی کشیدہ صورتحال کی کوریج کرنے والے صحافیوں کو مظاہرین اور فورسز دونوں کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑا رہا ہے

کشمیر میں قلم کاغذ یا کیمرہ اُٹھانا اس قدر خطرناک کبھی نہ تھا۔ گذشتہ چھہ روز سے مسلح کمانڈر برہان وانی کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت پر پوری وادی سراپا احتجاج ہے۔

اس دوران نصف درجن فوٹو جرنلسٹ مشتعل متاثرین کے غصے اور فورسز کی ہراسانی کا شکار ہوئے۔ میں اب تک دو بار جان کی امان پاکر ہسپتال سے لوٹا ہوں۔

٭’انڈیاسے نہیں پالیسیوں سے تفرت ہے‘

٭کشمیر پر مودی کا اجلاس، پاکستان کی تشویش

٭’کسی کو چھرا لگا کسی کو گولی‘

بعض ساتھی صحافیوں کے ہمراہ گذشتہ روز میں سرینگر کے مہاراجہ ہری سنگھ ہسپتال پہنچا۔

آنکھوں کے امراض سے متعلق سرجری وارڑ میں درجنوں نوجوان آنکھوں پر پٹیاں باندھے درد و کرب میں مبتلا تھے۔ عوامی مُوڈ کا پہلے سے ادراک تھا، لہذا کمیرہ وغیرہ یا کاغذ قلم کے بغیر وارڑ میں داخل ہوئے۔

Image caption 100 سے زائد ایسے آپریشن کیے گئے جن میں نوجوانوں کی آنکھوں سے چھرے نکالے گئے

جونہی میں نے موبائل فون سے تصویر لینا چاہی تو ایک 40 سالہ تیماردار نے گرجتی آواز میں کہا: ’او مسٹر، بند کرو یہ، کوئی شوٹنگ وُوٹنگ نہیں ہوگی۔ تم لوگ ہمارے زخم بیچتے ہو۔ جاؤ یہاں سے ورنہ ٹھیک نہیں ہوگا آپ کے لیے۔‘

تیمار دار کے تیور دیکھ کر میں اُلٹے پاؤں لوٹ آیا۔اس شخص کے بھائی کی آنکھ میں لوہے کی بغیر بارود والی گولی یعنی چھرّا لگا تھا اور آپریشن کے بعد وہ زیرعلاج تھا۔

مذکورہ ہسپتال میں چار روز میں 100 سے زائد ایسے آپریشن کیے گئے جن میں نوجوانوں کی آنکھوں سے چھرے نکالے گئے۔

ماہر سرجن ڈاکڑ سجاد کھانڈے کہتے ہیں: ’میں سو نہیں سکا ان دنوں۔ یہ بہت ہی دلخراش کام تھا۔ جن کا آپریشن ہوا ہے ان میں سے نصف تو بینائی سے محروم ہوسکتے ہیں۔‘

وارڑ سے باہر آتے ہوئے میں نے گلی میں دیکھا کہ ایک فوٹو جرنلسٹ ہانپتے ہوئے کہہ رہا تھا ’نکل لو جلدی سے، یہ لوگ کچھ نہیں سُنتے۔ پریس یا میڈیا کے نام پر آگ بگولہ ہوجاتے ہیں۔‘

اس کے چہرے پر آنکھ کے نیچے خون جم جانے کا نشان تھا۔ شاید اس پر کسی نے ہاتھ اُٹھایا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مظاہرین کا شکوہ ہے کہ میڈیا حالات کی صحیح کوریج نہیں کر رہا

ہسپتال سے باہر نکلتے ہوئے دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے ایک شخص کو ذرا پُرسکون پایا تو میں نے پوچھا: ’ آخر صحافیوں سے کیا ناراضگی؟‘

جاوید نامی اس شخص نے نہایت نرم مگر مغموم لہجے میں کہا: ’تم لوگوں کو معلوم بھی ہے کہ ہوا کیا ہے؟ پہلے مظاہرین پر فائرنگ کرتے ہیں یہ لوگ، پھر جب ہم ایمبولینس کا انتظام کرکے زخمیوں کو ہسپتال لے جاتے ہیں ، تو ایمبولینس کو جگہ جگہ روک کر اس کی توڑ پھوڑ کی جاتی ہے اور زخمیوں سمیت سب کی پٹائی ہوتی ہے۔ یہ سب آپ کے ٹی وی نے دکھایا کیا؟‘

بعد میں معلوم ہوا کہ جاوید کے دو بھائیوں کو گولیاں لگی ہیں اور دونوں اسی ہسپتال میں زیرعلاج ہیں۔دونوں کا خون بہہ رہا تھا جب ایمبولینس میں ان کا زدوکوب کیا گیا تھا۔

ہسپتال انتظامیہ نے تصدیق کردی ہے کہ گذشتہ پانچ روز کے دوران 50 سے زائد ایمبولینس گاڑیوں پر فورسز نے لاٹھیوں سے حملے کیے ہیں اور درجنوں ڈرائیور زخمی ہیں۔

ڈاکٹرز ایسوسی ایشن آف کشمیر کے صدر ڈاکٹر نثار الحسن کہتے ہیں کہ یہاں لوگ اخبارات کم پڑھتے ہیں اور سب لوگ معلومات کے لئے ٹیلی ویژن دیکھتے ہیں۔ ’ آپ جانتے ہیں بھارت کے کچھ ٹی وی چینلز کسی طرح خبروں کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں۔‘

دراصل میڈیا مخالف ردعمل بعض ایسی خبروں کی نشریات کے بعد ہوا جن میں دعویٰ کیا گیا کہ 21 سالہ برہان وانی کا کسی لڑکی کے ساتھ معاشقہ تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مظاہرین کا کہنا ہے کہ فورسز زخمیوں کو ہسپتال لے کر جانے والی ایمبولینسزکو بھی نشانہ بناتے ہیں

نوجوانوں کی ایک ٹولی سے جب میں نے زخمیوں کے انٹرویو کرنے کے لیے تعاون لینے کی ناکام کوشش کی تو وہ ایک آواز میں بولے: ’یہ لوگ خبریں نشر نہیں کرتے بلکہ ہمارے رہنماوں کی کردارکشی کرتے ہیں۔جاؤ یہاں سے۔‘

تصویر کا دوسرا رُخ ستم ظریقی کو دوبالا کرتا ہے۔ پولیس نے یہ طے کرلیا ہے کہ مظاہرین کو یہاں کے صحافی اچھا بنا کر پیش کرتے ہیں۔

ایک سینیئر پولیس افسر سے جب میں نے ہسپتال کے اندر مشتعل تیمارداروں کی بابت دریافت کیا تو انھوں نے اپنا مشاہدہ بیان کیا: ’جب مظاہرین دُور سے کیمرہ دیکھتے ہیں، تو وہ زیادہ مشتعل ہوجاتے ہیں۔ آپ لوگ ڈرامائی تصویریں بنانے کے لیے لوگوں کو مشتعل کرتے ہیں۔‘

صحافیوں کو درپیش مسائل مذکور پولیس افسر کے ’مشاہدے‘ کا ہی شاخسانہ ہیں، کیونکہ پولیس کے اندر اب یہ ایک غیرتحریری پالیسی کی صورت اختیار کرتا جارہا ہے۔

موجودہ بحران نے مجھے 2010 کا نو جولائی یاد دلایا۔ اسی طرح کے حالات تھے۔ مکمل کرفیو اور ہڑتال۔ زخمی ہسپتالوں میں پڑے تھے، اور ہلاکتوں میں اضافہ ہورہا تھا۔ کرفیو پاس جاری کرنے کے لئے حکومت نے صحافیوں کو محکمہ اطلاعات میں طلب کیا تھا۔

میں گھر سےنکلا ہی تھا کہ نیم فوجی اہلکاروں نے مجھ پر لاٹھیوں سے حملہ کیا۔ میں چلّاتا رہا کہ میں میڈیا سے ہوں، لیکن مجھے لگا جتنی بار میں نے جرنلسٹ یا میڈیا پکارا اتنی ہی بار زیادہ شدت سے بانس کا ڈنڈا مجھ پر برسا۔ میرا بازو فریکچر ہوگیا اور کمر کی حالت قابل رحم ہوگئی۔

اب کی بار تو خیر سرینگر میں چیک پوائنٹس سے گزرنا قدرے آسان ہے، لیکن حد ہے کہ کرفیو کا چھٹا دن ہے اور حکومت نے کرفیو پاس اجرا کرنے کی بات تک نہیں کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PMOINDIA
Image caption انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے منگل کو دہلی میں ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں وادی میں پرتشدد واقعات پر تشویش ظاہر کی تھی

ایک اور مسئلہ بھی ہے۔ صحافیوں کو مراسلے اور رپورٹس بھیجنے کے لئے انٹرنیٹ پر پابندی کا سامنا ہے۔ معلومات جمع کرنےکا عمل اب نئے انقلاب سے دوچار ہے۔ اب تو نیوز فیس بک، ٹوئٹر اور وٹس اپ سے ملتی ہے۔

جب یہ سب بند ہوجائے، تو صحافی جائے واردات پر جاتا ہے، عینی مشاہدین سے بات کرنا چاہتا ہے۔ لیکن وہ وہاں لوگوں کے غیض و غضب کا سامنا رہتا ہے۔

پولیس اور انڈین میڈیا سے ناراض عوام کے بیچ کشمیر کا صحافی آگے کھائی پیچھے شیر والی صورتحال میں گرفتار ہے۔ میں نے ایک وزیر سے پوچھا: ’انٹرنیٹ پر پابندی عائد کرنے سے افواہوں کو فروغ ملتا ہے۔‘

انہوں نے نہایت بے التفاتی سے بتایا: ’افواہ تو تشدد سے بہتر ہے۔‘

بہرحال، بالواسطہ سرکاری پابندیوں اور انڈین میڈیا کی تیزی سے کم ہوتی جا رہی عوامی اعتباریت کے دوران کشمیر میں صحافت ایک خطرناک مگر بہت ناگزیر کام ہے۔

اسی بارے میں