تروپتی مندر کے لذیذ بیسن کے لڈو

تروپتی لڈو ہاتھ میں آنا بہت آسان نہیں ہے۔

اس مشہور لڈو کو کھانے کے لیے آپ کو انڈیا کے مقدس ترین مندروں میں سے ایک تریمولا تروپتی مندر جانا پڑے گا کیونکہ آپ یہ لڈو کسی دکان سے خرید نہیں سکتے۔

انڈین ریاست آندھرا پردیش میں آپ کو یہ دو لڈو دس روپے میں ملیں گے اور اگر کو آپ مزید دو اور لڈو کھانے کی اجازت مل جائے تو 25 روپے دینے پڑیں گے۔

لیکن دو کے بعد مزید دو لڈوؤں کا ملنا ’اجازت‘ سے مشروط ہے۔

دراصل لڈو حاصل کرنے کے لیے لمبی قطار میں لگ کر پہلے ہائی ٹیک کوپن لیں جس کا اپنا سکیورٹی کوڈ ہو گا اور اُس میں کوپن لینے والی کی شناختی علامات سے لے بائیو میٹرک کی تفصیلات بھی درج ہوں گی۔

مختلف بینکوں میں کام کرنے والے افراد یہاں کاؤنٹر پر رضاکارانہ طور پر کام کرتے ہیں جو کوپن کی معیاد اور اس کے اصلی مالک کی شناخت کرنے کے بعد ہی پیسے لیتے ہیں۔

ایک مُٹھی کے برابر یہ مزیدار لڈو بیسن، چینی اور مکھن سے بنتا ہے اور اس میں الائچی، کاجو اور کشمش بھی ڈالے جاتے ہیں۔

تین سو سال پرانی لڈو کی ترکیب ہر ایک کی سمجھ میں نہیں آتی اور چند ہی باورچی ہیں جو اسے بنانے کا گُر جانتے ہیں اور انھیں اسے بنانے کا اعزاز حاصل ہے۔

ان تروپتی لڈوؤں کو مندر کے باورچی خانے ’پوٹو‘ میں تیار کیا جاتا ہے اور ایک دن میں تقریباً تین لاکھ کے قریب لڈو بنتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BB

لڈوؤں کی تیاری کے دوران سکیورٹی کا خصوصی خیال رکھا جاتا ہے۔

مندر کے باورچی خانے میں تیار ہونے والے سب لڈو ایک ہی وزن اور سائز کے ہوتے ہیں جن کا وزن 178 گرام ہوتا ہے۔ لڈو کی شکل ڈھالنے کے بعد انھیں ٹھنڈا کیا جاتا ہے۔

سنہ 2009 میں تروپتی لڈو کو جیوگرافکل انڈیکٹر ٹیگ دیا گیا اور یہ ترپتی سے ایسے ہی منسوب ہوگئے جیسے دراجیلنگ سے وہاں کی چائے ۔

لیکن لڈو ہی وہ واحد دلچسپی نہیں ہے جس آپ کو اس مندر کی جانب کھینچ لاتی ہے۔ اس مندر کے باورچی خانے کا شمار بڑے باورچی خانوں میں تھا جہاں ہر روز 120000 زائرین کھانا کھاتے ہیں۔

شمسی توانائی سے چلنے والے اس باورچی خانے میں دن بھر 1100 افراد کام کرتے ہیں اور صبح کے ناشتے سے لے کر رات کا کھانا تیار کرتے ہیں۔

اس باورچی خانے میں ہر چیز بڑے پیمانے پر ہوتی ہے۔ ایک کڑاہی میں کئی سو کلو سبزی تیار ہو سکتی ہے اور سٹیل کے برتن میں 1100 لیٹر سالن رکھا جا سکتا ہے۔

لوگوں کی جانب سے ملنے والے دس کروڑ ڈالر سے زائد چندے سے یہ باورچی خانہ گذشتہ تین دہائیوں سے ایسے ہی کام کر رہا ہے۔

بھگوان کو ایک نظر دیکھنے کے لیے لمبی قطاروں میں لگنے والے افراد کا کہنا ہے کہ پرساد ملنے سے اُن کی زیارت مکمل ہو جاتی ہے۔

اسی بارے میں