’ٹی وی چینل کشمیر کے زمینی حقائق کی عکاسی نہیں کرتے‘

انڈیا میں سینیئر صحافی راجدیپ سردیسائی نے کہا ہے کہ دہلی سے چلنے والے ٹی وی چینل کشمیر کے زمینی حقائق کی عکاسی نہیں کر سکتے اور’ کئی چینلوں نے خود کو قوم پرستی اور حب الوطنی کے پرچم میں لپیٹ رکھا ہے۔‘

کشمیر میں سنچیر سے کئی بڑے اِخبارات شائع نہیں ہوئے ہیں۔

٭ ’میڈیا لوگوں میں نفرت پھیلا رہا ہے‘

٭ ’اخبارات پر پابندی سے افواہوں کی راہ کھل گئی‘

٭ کشمیر میں اخبارات اور ٹی وی پر بھی قدغن

مدیران کا دعویٰ ہے کہ ان کی پریس اور دفاتر پر چھاپے مارے گئے اور ملازمین کو ہراساں کیا گیا جبکہ حکومت کا کہنا ہےکہ اس نے اخبارات کی اشاعت پر کوئی پابندی عائد نہیں کی ہے۔

حکومت کی جانب سے اس مبینہ کارروائی کے خلاف دہلی کے پریس کلب میں صحافیوں نے احتجاج کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کشمیر میں حالیہ کشدگی میں چالیس سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں

احتجاج کے بعد صحافیوں سے ِخطاب کرتے ہوئے راجدیپ سردیسائی نے کہا کہ’دہلی میں بعض ٹی وی چینلوں نےخود کو حب الوطنی اور قوم پرستی کے پرچم میں لپیٹ رکھا ہے، ان کا خیال ہے کہ تمام کشمیری مجرم ہیں کیونکہ ان کے خیال میں وہ کسی نے کسی طرح دہشت گردی سے جڑے ہوئے ہیں، اور یہ انتہائی افسوس ناک بات ہے۔ میڈیا کے نمائندوں کو کشمیر جا کر وہاں کے عوام کو یہ سمجھانے کی کوشش کرنی چاہیے کہ بعض ٹی وی چینلوں پر وہ جو بحث مباحثے دیکھتے ہیں وہ پورے میڈیا خیالات کی عکاسی نہیں کرتے۔‘

راجدیپ سردیسائی نے کہا کہ اس پورے معاملے میں وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کا کردار بہت پراسرار ہے اور وادی میں اخباروں پر بغیر کوئی وجہ بتائِے پابندی لگائی جا رہی ہے۔کشمیر میں اس وقت مسئلہ کمیونیکیشن کی کمی کا ہے۔

وزیر اعلیٰ کے مشیر کہتے ہیں کہ اخبارات کے خلاف کارروائی میں ان کا کوئی رول نہیں تھا، ریاست کے سابق وزیراعلیٰ مظفر بیگ کہتے ہیں کہ وزیراعلیٰ کو حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کے خلاف آپریشن کا بھی علم نہیں تھا۔۔۔اب حالات یہ ہیں کہ معاشرے میں خلیج پیدا ہو رہی ہے، سری نگر اور دہلی کے درمیان فاصلہ بڑھ رہا ہےاور پریس، جو اس فاصلے کو کم کر سکتی ہے، اسے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

وادی میں برہان وانی کی ہلاکت کے بعد سے مسلسل کشیدگی برقرار ہے اور وہاں 40 سے زیادہ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption وادی میں برہان وانی کی ہلاکت کے بعد سے مسلسل کشیدگی برقرار ہے

پریس کلب کے چیئرمین اور سینیئر صحافی راہل جلالی نے کہا کہ جو کشمیر میں ہو رہا ہے اس کی جھلک باقی ملک میں بھی نظر آ رہی ہے۔ ’یہ بدترین قسم کی سنسرشپ ہے۔‘

احتجاج میں ریٹائرڈ جسٹس راجند سچر بھی شامل ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ پریس کو اپنی ذمہ داری سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے، میڈیا پر بھلے ہی بڑی کمپنیوں کا کنٹرول ہو لیکن رپورٹنگ نہیں رکنی چاہیے۔

دہلی سے چھپنے والے بڑے اخبارت کشمیر پر تجزیوں اور تبصروں سے بھرے پڑے ہیں لیکن خود صحافیوں کے ایک حلقے کا خیال ہے کہ بعض ٹی وی چینل اپنی ذمہ داری نبھانے میں پیچھے رہ گئے ہیں۔

اسی بارے میں